حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی پہن کر چلے یا ایک کپڑے میں جسم لپیٹے یا اس طرح گوٹ مار کربیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آتی ہو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ نِسْطَاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى مِنْبَرِي كَاذِبًا إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَأَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ الْمَعْنَى وَهَذَا لَفْظُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِاسْمِهِ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَاه مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں استخارہ کرنے طریقہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے آپ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی اہم کام پیش آجائے تو اسے چاہیے کہ فرائض کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے پھر یہ دعا کرے کہ اے اللہ میں آپ سے آپ کے علم کی برکت سے خیر طلب کرتا ہوں آپ کی قدرت سے قدرت طلب کرتا ہوں اور آپ سے آپ کا فضل مانگتا ہوں کیونکہ آپ قادر ہیں میں قادر نہیں ہوں آپ جانتے ہیں میں کچھ نہیں جانتا اور آپ علام الغیوب ہیں۔ اے اللہ اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام یہاں اپنے کام کا نام لے میرے لئے دین معیشت اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے تو اسے میرے لئے مقدر فرما دیجیے اسے میرے لئے آسان کردیجیے اور مبارک فرمائیے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ کام میرے لئے دین، معیشت اور انجام کے اعتبار سے برا ہے تو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دیجیے اور میرے لئے خیر مقدر فرمادیجیے خواہ کہیں بھی ہو اور پھر مجھے اس پر راضی کردیجیے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى قَوْمًا مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُ مَرِيضًا فَاسْتَقَاهُمْ وَجَدْوَلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ فَقَالَ إِنْ كَانَ عِنْدَهُمْ مَاءٌ قَدْ بَاتَ فِي شَنٍّ وَإِلَّا كَرَعْنَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کسی انصاری کے گھر اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اس کے قریب ہی ایک چھوٹی نالی بہہ رہی تھی نبی ﷺ نے ان سے پینے کے لئے پانی منگواتے ہوئے فرمایا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچاہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ وَمِنْ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَائِهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے اور یہ بھی نیکی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے مل لو یا اس کے برتن میں اپنے ڈول سے کچھ پانی ڈال دو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتَّةَ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھ لے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوراسال روزے رکھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُوجِبَتَانِ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ مُشْرِكٌ دَخَلَ النَّارَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دو چیزیں واجب کرنے والی ہیں جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتاہو تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی ﷺ کا ایک حواری ہوتا تھا اور میرے حواری زبیر ہیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَهُ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الاّ یہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کردی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہونے تک رک جاتے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو سلامتی عطاء فرمائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دلوں کی سختی اور ظلم وجفا مشرقی لوگوں میں ہوتا ہے اور ایمان اور نرمی اہل حجاز میں ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لَا أَذَرَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا
حضرت جابر ؓ حضرت عمر کے حوالے سے نبی ﷺ کا یہ ارشادنقل کرتے ہیں کہ میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو نکال کر رہوں گا اور اس میں مسلمان کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑوں گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم تو اللہ ہی کے پاس ہے البتہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے سو سال نہیں گزرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنَسِيُّ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرَ وَمِنْهُمْ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً قَالَ جَابِرٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِي يَقُولُ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے (تیس کے قریب) کذاب ہوں گے انہی میں یمامہ کا مدعی نبوت صنعاء کا مدعی نبوت بھی شامل ہے اور انہیں میں دجال بھی شامل ہوگا جس کا فتنہ ان سب سے بڑا ہوگا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہارے آگے تمہارا انتظار کروں گا اگر تم مجھے دیکھ نہ سکو تو میں حوض کوثر پر ہوں گا جو کہ ایلہ سے مکہ مکرمہ تک کی درمیانی مسافت کا حوض ہوگا اور عنقریب کئی مرد و عورت مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے لیکن اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکیں گے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أَمِيرٌ لِيُكْرِمَ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ حق پر قتال کرتا رہے گا اور غالب رہے گا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ نازل ہوجائیں گے تو ان کا امیر عرض کرے گا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے لیکن وہ جواب دیں گے نہیں تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں تاکہ اللہ اس امت کا اعزاز فرما سکے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ الْوُرُودِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نَحْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كَوْمٍ فَوْقَ النَّاسِ فَيُدْعَى بِالْأُمَمِ وَبِأَوْثَانِهَا وَمَا كَانَتْ تَعْبُدُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَيْهِ قَالَ فَيَتَجَلَّى لَهُمْ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَضْحَكُ وَيُعْطِي كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مُنَافِقٍ وَمُؤْمِنٍ نُورًا وَتَغْشَاهُ ظُلْمَةٌ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ مَعَهُمْ الْمُنَافِقُونَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ فِيهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ ثُمَّ يُطْفَأُ نُورُ الْمُنَافِقِينَ وَيَنْجُو الْمُؤْمِنُونَ فَتَنْجُو أَوَّلُ زُمْرَةٍ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا يُحَاسَبُونَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَضْوَإِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ ذَلِكَ حَتَّى تَحِلَّ الشَّفَاعَةُ فَيَشْفَعُونَ حَتَّى يَخْرُجَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِمَّنْ فِي قَلْبِهِ مِيزَانُ شَعِيرَةٍ فَيُجْعَلَ بِفِنَاءِ الْجَنَّةِ وَيَجْعَلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ يُهْرِيقُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ الْمَاءِ حَتَّى يَنْبُتُونَ نَبَاتَ الشَّيْءِ فِي السَّيْلِ وَيَذْهَبُ حَرَقُهُمْ ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَجْعَلَ لَهُ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا
ابوزبیر نے حضرت جابر ؓ سے ورود کے متعلق سوال کیا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن ہم تمام لوگوں سے اوپر ایک ٹیلے پر ہوں گے درجہ بدرجہ تمام امتوں اور ان کے بتوں کو بلایا جائے گا پھر ہمارا پروردگار ہمارے پاس آکر پوچھے گا کہ تم کس کا انتظار کر رہے ہو لوگ جواب دیں گے کہ ہم اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں وہ کہے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں لوگ کہیں گے کہ ہم اسے دیکھنے تک یہیں ہیں چناچہ پروردگار ان کے سامنے اپنی ایک تجلی ظاہر فرمائے گا جس میں وہ مسکرا رہا ہوگا اور ہر انسان کو خواہ منافق ہو یا پکا مومن، ایک نور دیا جائے گا پھر اس پر اندھیرا چھاجائے گا پھر مسلمانوں کے ساتھ منافق کا نور بجھ جائے گا اور مسلمان اس پل صراط سے نجات پاجائیں گے۔ نجات پانے والے مسلمانوں کا پہلا گروہ اپنے چہروں میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگا یہ لوگ ستر ہزار ہوں گے اور ان کا حساب نہ ہوگا دوسرے نمبر پر نجات پانے والے اس ستارے کی مانند ہوگے جو آسمان میں سب سے زیادہ روشن ہوں پھر درجہ بدرجہ یہاں تک کہ شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی اور لوگ سفارش کریں گے جس کی بناء وہ شخص جہنم سے نکال لیا جائے گا جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور اسے صحن جنت میں لے جایا جائے گا اور اہل جنت اس پر پانی بہانے لگیں گے حتی کہ وہ اس طرح اگ آئیں گے جیسے سیلاب میں خودرو پودے اگ آتے ہیں اور ان کے جسم کی جلن دور ہوجائے گی پھر اللہ ان سے پوچھے گا اور انہیں دنیا سے دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ فَتَّانِي الْقَبْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبْرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ فَيَقُولُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ أَقُولُ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ فِي النَّارِ قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ وَأَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنْ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنْ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ دَعُونِي أُبَشِّرْ أَهْلِي فَيُقَالُ لَهُ اسْكُنْ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيُقْعَدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلُهُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَهُ لَا دَرَيْتَ هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي كَانَ لَكَ مِنْ الْجَنَّةِ قَدْ أُبْدِلْتَ مَكَانَهُ مَقْعَدَكَ مِنْ النَّارِ قَالَ جَابِرٌ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ
ابوزبیر نے حضرت جابر ؓ سے قبر میں آزمائش کرنے والے دو فرشتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت کو اس کی قبروں میں آزمایا جاتا ہے چناچہ جب کسی مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو ایک ایسا فرشتہ آتا ہے جس کی ڈانٹ بہت سخت ہوتی ہے وہ مردے سے پوچھتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر اور اس کے بندے تھے وہ فرشتہ کہتا ہے کہ اپنے اس ٹھکانے کو دیکھو جو جہنم میں تمہارے لئے تیار تھا، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطاء فرمائی اور جہنم کے اس ٹھکانے سے بدل کر جنت کا وہ ٹھکانہ تمہیں عطا فرمائے گا جو تم دیکھ رہے ہو وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے یہ سن کر وہ مسلمان کہتا ہے کہ مجھے اجازت دو کہ میں اپنے گھر والوں کو جا کر خوشخبری سنا آؤں اس سے کہا جاتا ہے کہ تم یہیں پر سکون حاصل کرو۔ اور اگر مردہ منافق ہو تو جب اس کے اہل خانہ پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تو اسے بٹھا دیا جاتا ہے اور اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو وہ جواب دیتا ہے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے جو کہتے تھے میں بھی وہی کہہ دیتا تھا اسے کہا جاتا ہے کہ تو کچھ نہ جانے جنت میں تیرا یہ ٹھکانہ نہ تھا جو اب اللہ نے بدل کر جہنم میں تیرا یہ ٹھکانہ مقرر کردیا ہے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قبر میں ہر شخص کو اسی حال پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ مرا ہو مومن اپنے ایمان پر اور منافق اپنے نفاق پر اٹھایا جائے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ الْجِنَازَةِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى تَوَارَتْ
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر ؓ سے جنازے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ اور صحابہ کھڑے ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ قَالَ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میری پیروی کرنے والے میری امتی تمام اہل جنت کا ایک ربع ہوں گے اس پر ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک ثلث ہوں گے اس پر ہم نے دوبارہ نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ تمام لوگوں کا ایک نصف ہوں گے۔