حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَوْ غَيْرُهُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبرپختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلَتْ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی کے قریب زمین کا ایک ٹکڑ اخالی ہوگیا بنوسلمہ کے لوگوں کا یہ ارادہ ہوا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے ان سے یہ فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو انہوں نے عرض کی جی یا رسول اللہ ہمارا یہی ارادہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا بنوسلمہ اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھا جاتا ہے اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے نشانات قدم کا ثواب بھی لکھاجائے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ
حضرت ابوسعید اور جابر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایک ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھر بھر کر مال دے گا اور اسے شمار تک نہیں کرے گا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ سفر کرتے تھے جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور جب نشیب میں اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالُ أَعْوَرُ وَهُوَ أَشَدُّ الْكَذَّابِينَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کانا ہوگا وہ سب سے بڑا جھوٹا ہوگا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي أَشْتَرِطُ عَلَى رَبِّي أَيَّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ شَتَمْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں بھی ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے پروردگار سے یہ وعدہ لے رکھا ہے کہ میرے منہ سے جس مسلمان کے متعلق سخت کلمات نکل جائیں وہ اس کے لئے باعث تزکیہ واجر ثواب بن جائیں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ نَزَلَ عَنْ الصَّفَا حَتَّى انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا الشِّقَّ الْآخَرَ مَشَى
حضرت جابر ؓ سے نبی ﷺ کے حج کے متعلق تفصیلات میں یہ بھی مذکور ہے کہ پھر نبی ﷺ صفا سے اترے اور وادی کے بیچ میں جب آپ کے مبارک قدم اترے تو آپ نے سعی فرمائی یہاں تک کہ جب دوسرے حصے پر ہم لوگ چڑھ گئے تو نبی ﷺ معمول کی رفتار سے چلنے لگے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنْ الْمُهَلِّ فَقَالَ سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى أُرَاهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقِ الْأُخْرَى الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
حضرت جابر ؓ سے کسی نے میقات کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل مدینہ میں میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے جبکہ اہل عراق کی میقات ذات عرقہ اہل نجد کی میقات قرن ہے اور اہل یمن کی میقات یلملم ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مَا شَأْنُ أَجْسَامِ بَنِي أَخِي ضَارِعَةً أَتُصِيبُهُمْ حَاجَةٌ قَالَتْ لَا وَلَكِنْ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ الْعَيْنُ أَفَنَرْقِيهِمْ قَالَ وَبِمَاذَا فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ ارْقِيهِمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت اسما بنت عمیس سے فرمایا کہ کیا بات ہے کہ میرے بھتیجوں کے جسم بہت لاغر ہورہے ہیں کیا انہیں کوئی پریشانی اور حاجت ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں البتہ انہیں نظر بہت جلدی لگتی ہے کیا ہم ان پر جھاڑ پھونک کرسکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کن الفاظ سے انہوں نے وہ الفاظ نبی ﷺ کے سامنے پیش کئے نبی ﷺ نے فرمایا تم انہیں جھاڑ دیا کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ كَانَ شَيْءٌ فَفِي الرَّبْعِ وَالْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو وہ جائیداد گھوڑے اور عورت میں ہوتی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنْ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ کتوں کو ختم کرو چناچہ اگر کوئی عورت دیہات سے بھی اپنا کوئی کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے بعد میں نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا صرف اس کالے سیاہ کتے کو مارا کرو جو دو نقطوں والا ہو کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا دَخَلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُسْطَاطَهُ حَضَرَ نَاسٌ وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ فِيهَا قَسْمٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُومُوا عَنْ أُمِّكُمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْعَشِيِّ حَضَرْنَا فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا فِي طَرَفِ رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت صفیہ بنت حیی نبی ﷺ کے خیمے میں داخل ہوئیں تو لوگ بھی ان کے ساتھ آگئے تاکہ انہیں کسی کے حصے میں سے دے دیا جائے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا اپنی ماں کے پاس سے اٹھ جاؤ شام کے وقت ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو نبی ﷺ اپنی چادر کے ایک کونے میں تقریبا ڈیڑھ مد کے برابر عجوہ کھجوریں لے کر نکلے اور فرمایا اپنی ماں کا ولیمہ کھاؤ۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی ﷺ بھی پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے کہ بھتیجے آپ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیجئے تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہوجائیں نبی ﷺ نے ایسا کرنا چاہا تو بےہوش ہو کر گرپڑے اس دن کے بعد نبی ﷺ کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم میں نہیں دیکھا گیا
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَيَسْأَلُوهُ إِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف اور صفامروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تھی تاکہ لوگ نبی ﷺ کو دیکھ سکیں اور مسائل بآسانی حل کرسکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَاطَّلَعَ فِيهَا فَقَالَ حَسِبْتُهُ لَحْمًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي فَذَبَحُوا لَهُ شَاةً
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ کے لئے ٹھیکری کی ہنڈیا میں کھانا تیار کیا میں نے وہ برتن لا کر نبی ﷺ کے سامنے رکھا نبی ﷺ نے اس میں جھانک کر دیکھا اور فرمایا میں تو سمجھا تھا کہ اس میں گوشت ہوگا میں نے جا کر اپنے گھر والوں سے اس کا تذکرہ کیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے بکری ذبح کی۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجٌّ مَبْرُورٌ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ قَالَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا حج مبرور کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ حج مبرور سے کیا مراد ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ إِلَّا أَنْ يُغْزَى أَوْ يُغْزَوْا فَإِذَا حَضَرَ ذَلِكَ أَقَامَ حَتَّى يَنْسَلِخَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اشہر حرم میں جہاد نہیں فرماتے تھے الاّ یہ کہ دوسروں کی طرف سے جنگ مسلط کردی جائے ورنہ جب اشہر حرم شروع ہوتے تو آپ ان کے ختم ہونے تک رک جاتے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ أَفِي الْعَقْرَبِ رُقْيَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ کیا میں بچھو کے ڈنگ کا جھاڑ پھونک کے ذریعے علاج کرسکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہو اسے ایساہی کرنا چاہئے۔