حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 33 · 1,164 hadiths · Page 19 of 59

13959Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحَجُّ الْمَبْرُورُ قَالَ إِطْعَامُ الطَّعَامِ وَإِفْشَاءُ السَّلَامِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ حج مبرور کیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کھانا کھلانا اور سلام پھیرنا۔

13960Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ الْآنَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انقطاع وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد ایک دن میں جارہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنائی دی میں نے دیکھا تو وہ فرشتہ جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان فضاء میں اپنے تخت پر نظر آیا یہ دیکھ کر مجھے کپکپی طاری ہوگئی اور میں نے خدیجہ کے پاس آکر کہا مجھے کوئی موٹا کمبل اوڑھادو چناچہ انہوں نے مجھے کمبل اوڑھادیا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " یایھا المدثر، قم فانذر، الی آخرہ۔ اس کے بعد وحی کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ شروع ہوگیا۔

13961Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ جَاءَ عَبْدٌ لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَحَدِ بَنِي أَسَدٍ يَشْتَكِي سَيِّدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک غلام اپنے آقا کی شکایت لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ حاطب ضرور جہنم میں داخل ہوگا نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو وہ جہنم میں نہیں جائیں گے کیونکہ وہ غزوہ بدر و حدیبیہ میں شریک تھے۔

13962Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ هَلْ بَايَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ لَا وَلَكِنْ صَلَّى بِهَا وَلَمْ يُبَايِعْ عِنْدَ الشَّجَرَةِ إِلَّا الشَّجَرَةَ الَّتِي لِلْحُدَيْبِيَةِ و أَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا دَعَا عَلَى بِئْرِ الْحُدَيْبِيَةِ

حضرت جابر ؓ سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے ذوالحلیفہ میں بیعت لی تھی انہوں نے فرمایا نہیں۔ وہاں تو صرف آپ نے نماز پڑھی تھی اور نبی ﷺ نے سوائے حدیبیہ کے درخت کے کسی اور درخت کے نیچے بھی بیعت نہ لی تھی خود حضرت جابر ؓ حدیبیہ کے کنویں پر دعا کیا کرتے تھے۔

13963Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتًى شَابٌّ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ أَرْنَبًا فَحَذَفْتُهَا وَلَمْ تَكُنْ مَعِي حَدِيدَةٌ أُذَكِّيهَا بِهَا وَإِنِّي ذَكَّيْتُهَا بِمَرْوَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلْ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس بنوسلمہ کا ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایک خرگوش دیکھا اسے پتھر سے اور کنکریوں سے مارا میرے پاس اس وقت لوہے کی دھاری دار کوئی چیز نہیں تھی جس سے میں اسے ذبح کرتا اس لئے میں نے اسے تیز دھاری دار پتھر سے ذبح کرلیا نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے کھا سکتے ہو۔

13964Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ کسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہوجاؤ تو اچھے طریقے سے سوار ہوسکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔

13965Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا جو اس حال میں مرے میں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

13966Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قُرَادٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان صرف ایک جوتی پہن کرچلے۔

13967Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ جَاهَدْتُ بِنَفْسِي وَمَالِي فَقُتِلْتُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ فَأَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ إِنْ لَمْ تَمُتْ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ لَيْسَ عِنْدَكَ وَفَاؤُهُ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اپنی جان مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور ثابت قدم رہتے ہوئے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے اور پشت پھیرے بغیر شہید ہوجاؤں تو کیا میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی تیسری مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں جبکہ تم اس حال میں مرو کہ تم پر کچھ قرض ہو اور اسے ادا کرنے کے لئے تمہارے پاس کچھ نہ ہو۔

13968Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مُيِّزَ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ فَدَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قَامَتْ الرُّسُلُ فَشَفَعُوا فَيَقُولُ انْطَلِقُوا أَوْ اذْهَبُوا فَمَنْ عَرَفْتُمْ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَهُمْ قَدْ امْتُحِشُوا فَيُلْقُونَهُمْ فِي نَهَرٍ أَوْ عَلَى نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ الْحَيَاةُ قَالَ فَتَسْقُطُ مَحَاشُّهُمْ عَلَى حَافَةِ النَّهَرِ وَيَخْرُجُونَ بِيضًا مِثْلَ الثَّعَارِيرِ ثُمَّ يَشْفَعُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ قِيرَاطٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُمْ قَالَ فَيُخْرِجُونَ بَشَرًا ثُمَّ يَشْفَعُونَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا أَوْ انْطَلِقُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا الْآنَ أُخْرِجُ بِعِلْمِي وَرَحْمَتِي قَالَ فَيُخْرِجُ أَضْعَافَ مَا أَخْرَجُوا وَأَضْعَافَهُ فَيُكْتَبُ فِي رِقَابِهِمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ فِيهَا الْجَهَنَّمِيِّينَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اہل جنت اور اہل جہنم میں امتیاز ہوجائے گا اور جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے تو پیغمبران گرامی کھڑے ہو کر سفارش کریں گے ان سے کہا جائے گا جاؤ اور جس جس کو پہنچانتے ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ چناچہ وہ انہیں نکال لائیں گے اس وقت ان لوگوں کے چہرے جھلس چکے ہوں گے پھر انہیں نہر حیات میں غوطہ دیا جائے گا جب وہ وہاں سے نکلیں گے تو ان کی ساری کی ساری سیاہی نہر کے کنارے ہی گرجائے گی اور وہ ککڑیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کرام دوبارہ سفارش کریں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں قیراط کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے جہنم سے نکال لاؤ چناچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے پھر سفارش کریں گے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ جس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ چناچہ وہ بہت سے انسانوں کو نکال لائیں گے اس کے بعد اللہ فرمائے گا اب میں اپنے علم و فضل سے لوگوں کو جہنم سے نکالتا ہوں چناچہ پہلے سے دگنی تگنی تعداد میں لوگوں کو جہنم سے نکال لایا جائے گا اور ان کی گردن پر لکھ دیا جائے گا کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں پھر جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں جہنمی کہہ کر پکاراجائے گا۔

13969Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ امْرَأَةُ بَشِيرٍ انْحَلْ ابْنِي غُلَامَكَ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِي وَقَالَتْ وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَهُ إِخْوَةٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت بشیر کی بیوی نے ان سے کہا کہ اپنا غلام میرے بیٹے کو ہبہ کردو اور اس پر نبی ﷺ کو گواہ بنا لو بشیر وہاں سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا فلاں کی بیٹی (میری بیوی) نے مجھ سے یہ درخواست کی ہے کہ میں اپنا غلام اس کے بیٹے کو ہبہ کردوں اور اس پر آپ کو گواہ بناؤں نبی ﷺ نے فرمایا اس لڑکے کے کچھ اور بھائی ہیں انہوں نے کہا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم ان سب کو بھی وہی کچھ دو گے جو اسے دے رہے ہو انہوں نے کہا نہیں نبی ﷺ نے فرمایا پھر تو یہ مناسب نہیں ہے اور میں کسی ناحق پر گواہ نہیں بن سکتا۔

13970Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ السَّاعَةِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ فَقَالَ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَعْلَمُ الْيَوْمَ نَفْسًا مَنْفُوسَةً يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے ایک ماہ قبل کسی شخص نے قیامت کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے قیامت کے متعلق پوچھ رہے ہو اس کا حقیقی علم اللہ کے پاس ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تو آج یہ بھی نہیں جانتا جو شخص آج سانس لے رہا ہے اس پر سو سال بھی گذ رسکیں گے۔

13971Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ أَبُو إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ عَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ وَلِي كَلْبٌ فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ كَلْبِهِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حکم دیا مدینہ منورہ میں جتنے کتے ہیں سب مار دیئے جائیں اس پر حضرت ابن ام مکتوم آئے اور کہنے لگے کہ میرا گھر دور ہے اور میرے پاس ایک کتا ہے نبی ﷺ نے انہیں چند دن تک کے لئے رخصت دی اور پھر انہیں بھی اپنا کتا مار دینے کا حکم دیا۔

13972Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ عَطَاءً كَتْب يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَنَازِيرِ وَبَيْعَ الْمَيْتَةِ وَبَيْعَ الْخَمْرِ وَبَيْعَ الْأَصْنَامِ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى فِي شُحُومِ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهَا يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ وَالْجُلُودُ وَيُسْتَصْبَحُ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَخَذُوهُ فَجَمَّلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال فرمایا اللہ اور اس کے رسول شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیتے ہیں کسی شخص نے پوچھا یا رسول اللہ یہ بتائیے کہ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے کیونکہ اس سے کشتیوں میں تیل ڈالا جاتا ہے اور جسم کی کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا نہیں یہ بھی حرام ہے پھر فرمایا کہ یہودیوں پر اللہ کی مار ہو اللہ نے جب ان پر چربی کو حرام کردیا تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا اور اس کی قیمت کھانا شروع کردی۔

13973Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَسَارِهِ فَنَهَانِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَجَاءَ صَاحِبٌ لِي فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ نماز مغرب پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں آ کر نبی ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا نبی ﷺ نے مجھے منع فرمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا پھر ایک اور صاحب آئے اور ہم دونوں نے نبی ﷺ کے پیچھے صف بنالی اور نبی ﷺ نے ہمیں ایک کپڑے میں نماز پڑھائی اور اس کے دونوں کنارے جانب مخالف سے بدل لئے۔

13974Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجْتَنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ پیلو چن رہے تھے نبی ﷺ نے فرمایا اس کے سیاہ دانے اکٹھے کرو کہ وہ بہت عمدہ ہوتا ہے ہم نے عرض کی کہ کیا آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اور ہر نبی نے بکریاں چرائیں ہیں۔

13975Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَقَ وَجَلَسَ لِلنَّاسِ فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ قَالَ لَا حَرَجَ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ لَا حَرَجَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حج میں قربانی کی اور بال منڈوا کر لوگوں کے لئے بیٹھ گئے پھر نبی ﷺ سے جو بھی سوال پوچھا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں حتی کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میں نے قربانی کرنے سے پہلے بال منڈوا لئے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں پھر دوسرا آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے رمی کرنے سے پہلے حلق کروا لیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اور یہ بھی فرمایا کہ پورا میدان عرفات وقوف کی جگہ ہے پورا میدان مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے پورا میدان منیٰ قربان گاہ ہے اور مکہ مکرمہ کا ہر کشادہ راستہ قربان گاہ اور راستہ ہے۔

13976Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ سِقَاءٌ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَهُ وَأَنَا أَسْمَعُ مِنْ بِرَامٍ قَالَ أَوْ مِنْ بَرَامٍ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی اور اگر مشکیزہ نہ ہوتا تو پتھر کی ہنڈیا میں بنا لی جاتی تھی۔

13977Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ویران بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس کا اجر ملے گا اور جتنے جانور اس میں سے کھائیں گے اسے ان سب پر صدقے کا ثواب ملے گا۔

13978Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصِيبُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغَانِمِنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ الْأَسْقِيَةَ وَالْأَوْعِيَةَ فَنَقْتَسِمُهَا وَكُلُّهَا مَيْتَةٌ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ہمیں نبی ﷺ کے ساتھ مشرکین کے مال غنیمت میں سے مشکیزے اور برتن بھی ملتے تھے ہم اسے تقسیم کردیتے تھے اور یہ سب مردار ہوتے تھے۔