حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

Musnad Imam Ahmad · Chapter 33 · 1,164 hadiths · Page 16 of 59

13899Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ وَهُوَ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا بَعْدَ مَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ وَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا فَأَهْلَلْنَا مِنْ الْبَطْحَاءِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے حجتہ الوداع کے متعلق بتاتے ہوئے فرمایا کہ طواف کے بعد نبی ﷺ نے ہمیں احرام کھول لینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم منیٰ کی طرف روانگی کا ارادہ کرلو تو دوبارہ احرام باندھ لینا چناچہ ہم نے وادی بطحا سے احرام باندھا۔

13900Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ لَنَا خُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی ﷺ کو اپنی سواری پر سوار ہو کر رمی جمرات کرتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے کہ مجھ سے مناسک حج سیکھ لو کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ آئندہ سال دوبارہ حج کرسکوں یا نہیں۔

13901Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سَفَلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی نماز کے بعد آپ نے حضرت بلال کے ہاتھوں پر ٹیک لگائی اور کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے اللہ کی حمد وثناء بیان کی لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی پھر حضرت بلال کو ساتھ لے کر عورتوں کی طرف گئے اور وہاں بھی اللہ کی حمدوثناء بیان کی انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تم صدقہ کیا کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے ایک نچلے درجے کی دھنسے ہوئے رخساروں والی عورت نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس لے کہ تم شکوہ بہت زیادہ کرتی ہو اپنے خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہو یہ سن کر عورتیں اپنے زیور، ہار، بالیاں اور انگھوٹھیاں اتاراتار کر حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

13902Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں اس بات سے فائدہ اٹھاتے تھے کہ مشترکہ طور پر سات آدمی ایک گائے کی قربانی دے دیتے تھے۔

13903Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنْ الدَّوَابِّ صَبْرًا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر ماراجائے۔

13904Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے چہرے پر داغنے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔

13905Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا فَقُلْتُ الضَّبُعَ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَسَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ

عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے بجو کے متعلق دریافت کیا کہ میں اسے کھا سکتا ہوں انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں نے پوچھا کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی ﷺ کے حوالے سے ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں۔

13906Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى رَجُلًا عَلَيْهِ زِحَامٌ قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا صَائِمٌ قَالَ لَيْسَ مِنْ الْبِرِّ الصِّيَامُ أَوْ الْبِرَّ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا جا رہا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

13907Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ ح وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَرَّتْ بِنَا جِنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ قَالَ إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے قریب سے ایک جنازہ گذرا تو آپ کھڑے ہوگئے ہم بھی کھڑے ہوگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے نبی ﷺ نے فرمایا موت کی ایک نشانی ہوتی ہے لہذاجب تم جنازہ دیکھا کرو تو کھڑے ہوجایا کرو۔

13908Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا أَوْ جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ مِثْلَهُ كَذَا قَالَ يَحْيَى

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا عمری اس کے اہل کے لئے جائز ہے یا اس کے اہل کے لئے میراث ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند بھی مروی ہے۔

13909Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي جَابِرٌ قَالَ سَأَلَنِي ابْنُ عَمِّكَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنِّي كَثِيرُ الشَّعْرِ فَقُلْتُ مَهْ يَا ابْنَ أَخِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ

ایک مرتبہ حسن بن محمد نے حضرت جابر ؓ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ تین مرتبہ اپنے ہاتھوں سے اپنے سر پر پانی بہاتے تھے وہ کہنے لگے کہ میرے تو بال بہت لمبے ہیں حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے سر مبارک میں تعداد کے اعتبار سے بھی تم سے زیادہ بال تھے اور مہک کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ تھے۔

13910Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ قَالَ يَحْيَى وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ أَعْلَى بِهَا صَوْتَهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ ثُمَّ يَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ وَأَوْمَأَ وَصَفَ يَحْيَى بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیز نوایجاد ہیں پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرما رہے تھے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی اور جوش میں اضافہ ہوتا جاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں پھر فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔

13911Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنِي مُحَارِبٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي وَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لِي صَلِّ رَكْعَتَيْنِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پر میرا کچھ قرض تھا نبی ﷺ نے وہ ادا کردیا اور مجھے مزید بھی عطا فرمایا اس وقت نبی ﷺ مسجد میں تھے اس لئے مجھ سے فرمایا کہ جا کر مسجد میں دو رکعتیں پڑھ آؤ۔

13912Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ لِلَّهِ صَالِحٌ أَصْحَمَةُ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ فَقَامَ فَأَمَّنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ آج حبشہ کے نیک آدمی اصحمہ کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو چناچہ ہم نے صفیں باندھ لیں اور نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔

13913Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دروازے بند کرلیا کرو اور اس وقت اللہ کا نام لیا کرو کیونکہ جس دروازے پر اللہ کا نام لیا جائے اسے شیطان نہیں کھول سکتا چراغ بجھادیا کرو اور اس پر اللہ کا نام لیا کرو اور اللہ کا نام لے کر مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور بسم اللہ پڑھ کر برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو خواہ کسی لکڑی سے ہی ہو۔

13914Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَحْدَهُ وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے دس ذی الحجہ کو چاشت کے وقت جمرہ اولی کو کنکریاں ماریں اور بعد کے دنوں میں زوال کے وقت رمی کی۔

13915Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَذَكَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ كَانُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَإِنَّا صَفَفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا قَالَ جَابِرٌ كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ انہیں نبی ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھنے کا موقع ملا اس وقت دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھا ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنائیں نبی ﷺ نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب رکوع سے سر اٹھا کر سجدے میں گئے تو آپ کے ساتھ صرف پہلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی جب نبی ﷺ اور پہلی صف کے لوگ کھڑے ہوئے تو پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا اس کے بعد پچھلی صف کے لوگ آگئے اور اگلی صف کے لوگ پیچھے آگئے پھر ہم سب نے اکٹھے ہی رکوع کیا اور جب نبی ﷺ نے سجدہ کیا تو اب پہلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا اور سب نے اکٹھے سلام پھیرا جیسے آج کل تمہارے حفاظتی دستے اپنے امراء کے ساتھ کرتے ہیں۔

13916Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِحَصَى الْخَذْفِ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے ٹھیکری کی کنکری سے جمرات کی رمی فرمائی۔

13917Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى تُشَقِّحَ قُلْتُ مَتَى تُشَقِّحُ قَالَ تَحْمَارُّ أَوْ تَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پھل کے خوب پک کر عمدہ ہوجانے سے قبل اس کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

13918Musnad Imam Ahmad

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ أَنَا أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کے دروازے پر دستک دے کر اجازت طلب کی نبی ﷺ نے پوچھا کہ کون ہے میں نے کہا میں ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں میں لگا رکھی ہے گویا نبی ﷺ نے اسے ناپسند کیا۔