حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ وَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ أَوْ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً فَيُدْنِيهِ مِنْهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابلیس پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر کو روانہ کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ قرب وہ شیطان پاتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ہو ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کردیا ابلیس کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا دوسرا آکر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق نہ کرا دی ابلیس اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے سب سے بڑا کارنامہ سرانجام دیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَ فَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَالَ هَذِهِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ إِذَا هُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَاءِ الْمُنَافِقِينَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں تھے کہ اچانک تیز ہوا چلنے لگی نبی ﷺ نے فرمایا یہ کسی منافق کی موت کی علامت ہے چناچہ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے تو پتہ چلا کہ واقعی منافقین کا ایک بہت بڑا سرغنہ مرگیا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ طَبِيبًا فَقَطَعَ لَهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک طبیب حضرت ابی بن کعب کے پاس بھیجا جس نے ان کی بازو کی رگ کو کاٹا پھر اس کو داغ کردیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ بِالْحَجِّ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حج کا احرام باندھا تھا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَشِيَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَذَلِكَ أَفْضَلُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو اسے رات کے اول حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہیے اور جسے آخر رات میں جاگنے کا غالب گمان ہو تو اسے آخری حصے میں ہی وتر پڑھ لینے چاہئے کیونکہ آخری حصے میں نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل طریقہ ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقَى قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَأَتَاهُ خَالِي وَكَانَ يَرْقِي مِنْ الْعَقْرَبِ قَالَ فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنْ الْعَقْرَبِ وَإِنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقَى قَالَ فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ مَا أَرَى بَأْسًا مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے منتر کے ذریعے علاج سے منع فرمایا ہے دوسری سند سے یہ اضافہ ہے کہ میرے ماموں بچھو کے ڈنگ کا منتر کے ذریعے علاج کرتے تھے جب نبی ﷺ نے منتر اور جھاڑ پھونک کی ممانعت فرما دی تو آل عمرو بن حزم نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے یا رسول اللہ آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرما دیا ہے اور میں بچھو کے ڈنگ کا علاج کرتا ہوں؟ اور اسے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے جو شخص اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکتا ہے اسے ایساہی کرنا چاہیئے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ فَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ مَكَانَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آج رات میں نے ایک خواب دیکھا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ گویا میری گردن مار دی گئی ہے میرا سر الگ ہوگیا ہو میں اس کے پیچھے گیا اور اس کو پکڑ کر اس کی جگہ پر واپس رکھ دیا نبی ﷺ نے فرمایا تم شیطان کے کھیل تماشوں کو " جو وہ تمہارے ساتھ کھیلتا ہے " دوسروں کے سامنے مت بیان کیا کرو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبَو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال برقرار رکھے اور اپنے بازؤ کتے کی طرح نہ بچھائے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ بِصَبِيٍّ يَسِيلُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ وَعِنْدَهَا صَبِيٌّ يَبْعَثُ مَنْخِرَاهُ دَمًا قَالَ فَقَالَ مَا لِهَذَا قَالَ فَقَالُوا بِهِ الْعُذْرَةُ قَالَ فَقَالَ عَلَامَ تُعَذِّبْنَ أَوْلَادَكُنَّ إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَأْخُذَ قُسْطًا هِنْدِيًّا فَتَحُكَّهُ بِمَاءٍ سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تُوجِرَهُ إِيَّاهُ قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ثُمَّ تُسْعِطَهُ إِيَّاهُ فَفَعَلُوا فَبَرَأَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لائے اس وقت ان کے پاس ایک بچہ تھا جس کے دونوں نتھنوں سے خون جاری تھا نبی ﷺ نے پوچھا کہ اس بچے کو کیا ہوا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کے گلے آئے ہوئے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے بچوں کو عذاب میں کیوں مبتلا کرتی ہو؟ تمہارے لئے تو یہی کافی ہے کہ قسط ہندی لے کر اسے پانی میں سات مرتبہ گھولو اور اس کے گلے میں ٹپکا دو اور انہوں نے ایسا کر کے دیکھا توبچہ واقع ٹھیک ہوگیا۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ أَلَا لَا يَمُوتَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو وصال سے تین دن پہلے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جس شخص کو بھی موت آئے وہ اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہو۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ حَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ فَإِنْ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مرد عورت بھی سوئے اس کے سر پر تین گرہیں لگادی جاتی ہیں اگر وہ جاگنے کے بعد اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے کھڑے ہو کر وضو کرلے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر کھڑے ہو کر نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا بِهَا مِنْ الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے چاہئے کہ اس پر لگنے والی تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر اسے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو دو کا کھاناچار کو چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کافی ہوجاتا ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَمَصَّهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو جب تک اپنی انگلیاں نہ چاٹ لے اپنے تو لئے سے ہاتھ صاف نہ کرے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدٍ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے تو اسے اپنے گھرکے لئے بھی نماز کا کچھ حصہ رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے اس کے گھر میں خیر و برکت کا نزول فرما دیں گے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَلَمْ يَمَسَّ أَعْقَابَهُمْ الْمَاءُ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ ان کی ایڑیوں تک پانی نہیں پہنچا نبی ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اسْتَأْذَنَتْ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتَفْعَلُ قَالَ نَعَمْ قَالُوا فَدَعْهَا
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بخار نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی نبی ﷺ نے پوچھا کیوں آئے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ام ملدم (بخار) ہوں نبی ﷺ نے اسے اہل قباء کے پاس چلے جانے کا حکم دیا انہیں اس بخار سے جتنی پریشانی ہوئی وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے چناچہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور بخار کی شکایت کی نبی ﷺ نے فرمایا؟ تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دوں اور اسے تم سے دور کر دے اور اگر چاہو تو وہ تمہارے لئے پاکیزگی کا سبب بن جائے؟ اہل قباء نے پوچھایا یا رسول اللہ کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر اسے رہنے دیجئے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ وَابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَصَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَاتِ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نعمان بن قوقل نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور فرض نمازیں پڑھ لیا کروں اس سے زائد کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہوسکتا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہاں۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ فَذَكَرَهُ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے آئے تو اسے اپنے گھر کے لئے بھی کچھ نماز کا حصہ بھی رکھنا چاہئے کیونکہ اللہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گھر میں خیروبرکت کا نزول فرمادیں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الْعُمْرَةِ أَوَاجِبَةٌ هِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَأَنْ تَعْتَمِرَ خَيْرٌ لَكَ
حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے یہ بتائیں کہ کیا عمرہ کرنا واجب ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ نہیں البتہ بہتر ہے۔