حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا أَقْوَامٌ هُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا لِلْإِسْلَامِ مِنْكُمْ قَالَ فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ فِيهِمْ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ جَعَلُوا يَرْتَجِزُونَ يَقُولُونَ غَدًا نَلْقَى الْأَحِبَّهْ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ فَلَمَّا أَنْ قَدِمُوا تَصَافَحُوا فَكَانُوا هُمْ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْمُصَافَحَةَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس ایسی قومیں آئیں گی جن کے دل تم سے بھی زیادہ نرم ہوں گے، چناچہ ایک مرتبہ اشعریین آئے، ان میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ بھی شامل تھے، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ رجزیہ شعر پڑھنے لگے کہ کل ہم اپنے دوستوں یعنی محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے، وہاں پہنچ کر انہوں نے مصافحہ کیا اور سب سے پہلے مصافحہ کی بنیاد ڈالنے والے یہی لوگ تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنِ نُبَيْطِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِينَ صَلَاةً لَا يَفُوتُهُ صَلَاةٌ كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنْ النَّارِ وَنَجَاةٌ مِنْ الْعَذَابِ وَبَرِئَ مِنْ النِّفَاقِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھ لے کہ اس سے کوئی نماز چھوٹ نہ جائے، اس کے لئے جہنم سے براءت، عذاب سے نجات اور نفاق سے برأت لکھ دی جاتی ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الدُّعَاءَ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ فَادْعُوا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی لہٰذا اس وقت دعاء کیا کرو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سَأَلَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ ثَلَاثًا إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَلَا اسْتَجَارَ مِنْ النَّارِ مُسْتَجِيرٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنْ النَّارِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما اور جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ قَالَ إِذًا أَصْبِرَ وَأَحْتَسِبَ قَالَ إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لَكَ ذَنْبٌ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا زید! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں وہاں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ قَالَ جَعْفَرٌ أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی کہ نبی ﷺ بعض اوقات نماز میں ہوتے تھے لیکن کسی بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں کی خاطر نماز مختصر کردیتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ الْمُقْرِئُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُعَظِّمَ اللَّهُ رِزْقَهُ وَأَنْ يَمُدَّ فِي أَجَلِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے رزق میں اضافہ کر دے اور اس کی عمر بڑھا دے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرٍ عَنِ الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کرلیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کرلیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فِي اللَّهِ قَالَ فَأَخْبَرْتَهُ قَالَ لَا قَالَ فَأَخْبِرْهُ فَقَالَ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَأَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ وَقَالَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ فَلَقِيَهُ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک آدمی کا گذر ہوا، بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر جا کر اسے بتادو، اس پر وہ آدمی کھڑا ہوا اور جا کر اس سے کہنے لگا بھائی! میں اللہ کی رضا کے لئے آپ سے محبت کرتا ہوں، اس نے جواب دیا کہ جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ تم سے محبت کرے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ سَعَّرْتَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ الْمُسَعِّرُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلَمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں مہنگائی بڑھ گئی تو صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے نرخ مقرر فرما دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا قیمت مقرر کرنے اور نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے، میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے جدا ہو کر جاؤں تو تم میں سے کوئی اپنے مال یا جان پر کسی ظلم کا مجھ سے مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَمَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ يَا فُلَانُ هَذِهِ امْرَأَتِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گذرا، اس وقت نبی ﷺ کے پاس ان کی کوئی زوجہ محترمہ تھیں، نبی ﷺ نے اس آدمی کو اس کا نام لے کر پکارا کہ اے فلاں! یہ میری بیوی ہے، وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! میں جس شخص کے ساتھ بھی ایسا گمان کروں، آپ کے ساتھ نہیں کرسکتا، نبی ﷺ نے فرمایا شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْبُرْجُمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقَامَ عَلَيْهِنَّ كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ الْأَرْبَعِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ جس شخص کی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں، وہ ان کا ذمہ دار بنا اور ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا رہا، وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا یہ کہہ کر نبی ﷺ نے چار انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَلِأَزْوَاجِ الْأَنْصَارِ وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أَخَذُوا شِعْبًا وَأَخَذَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ! انصار، انصار کے بچوں، انصار کی بیویوں اور انصار کی اولاد کی مغفرت فرما، انصار میرا گروہ اور میرا پردہ ہیں، اگر لوگ راستے پر چل رہے ہوں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَخَذْتُ بَصَرَ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ فَعِوَضُهُ عِنْدِي الْجَنَّةُ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی شخص کی بینائی واپس لے لوں اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کا عوض جنت میں عطاء کروں گا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَرْبٌ قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ الْعَمِّيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيْثُ خَلَقَ الدَّاءَ خَلَقَ الدَّوَاءَ فَتَدَاوَوْا
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے جب بیماری کو پیدا کیا تو اس کا علاج بھی پیدا کیا اس لئے علاج کیا کرو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عائشہ ؓ کو دیگر عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لوٹ مار کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھجور اور کشمش یا کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے (نبیذ بنانے سے) منع فرمایا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي حَفْصٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زمین میں علماء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان میں ستارے کہ جن کے ذریعے بر و بحر کی تاریکیوں میں راستہ کی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، اگر ستارے بےنور ہوجائیں تو راستے پر چلنے والے بھٹک جائیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَعَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں ایک صبح یا شام کو جہاد کے لئے نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔