حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ أَبَانَ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا الاّ یہ کہ آپ ﷺ سفر پر جا رہے ہوں یا سفر سے واپس آرہے ہوں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ كَانَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ لَا يَمْدَحُ أَوْ يُثْنِي عَلَى شَيْءٍ مِنْ حَدِيثِهِ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ جَوْدَتِهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو ایام آتے تو وہ لوگ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے تھے اور نہ ایک گھر میں اکٹھے ہوتے تھے، صحابہ کرام ؓ نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ " یہ لوگ آپ سے ایام والی عورت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ ایام بذات خود بیماری ہے، اس لئے ان ایام میں عورتوں سے الگ رہو اور پاک ہونے تک ان کی قربت نہ کرو " یہ آیت مکمل پڑھنے کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا صحبت کے علاوہ سب کچھ کرسکتے ہو، یہودیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ یہ آدمی تو ہر بات میں ہماری مخالفت کر رہا ہے۔ پھر حضرت اسید بن حضیر ؓ اور عباد بن بشیر ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ! یہودی ایسے ایسے کہہ رہے ہیں، کیا ہم اپنی بیویوں سے قربت بھی نہ کرلیا کریں؟ (تاکہ یہودیوں کی مکمل مخالفت ہوجائے) یہ سن کر نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی ﷺ ان سے ناراض ہوگئے ہیں، وہ دونوں بھی وہاں سے چلے گئے، لیکن کچھ ہی دیر بعد نبی ﷺ کے پاس کہیں سے دودھ کا ہدیہ آیا تو نبی ﷺ نے ان دونوں کو بلا بھیجا اور انہیں وہ پلا دیا، اس طرح وہ سمجھ گئے کہ نبی ﷺ ان سے ناراض نہیں ہیں۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ حماد بن سلمہ (رح) اپنی احادیث میں سے کسی حدیث کی سند کی تعریف نہیں کرتے تھے لیکن اس حدیث کی سند کی عمدگی کی بناء پر اس کی بہت تعریف کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عِمْرَانَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَأُكَيْدِرِ دُومَةَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسریٰ، قیصر اور دومۃ الجندل کے بادشاہ اکیدر کو الگ الگ خط لکھا جس میں انہیں اللہ کی طرف بلایا گیا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَنَسًا كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ قَالَ وَزَعَمَ أَنَسٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ
ثمامہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت انس ؓ خوشبو رد نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ ﷺ اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ابوعبیدہ اس امت کے امین ہیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم ؓ اگر زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ کر دائیں جانب سے واپس گئے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مرتبہ وہ جو کی روٹی اور پرانا روغن لے کر آئے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قَالَ وَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ فَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس مدینہ منورہ میں گروی رکھی ہوئی تھی، نبی ﷺ نے اس سے چند مہینوں کے لئے جو لئے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ بُرٍّ وَإِنَّ عِنْدَهُ تِسْعَ نِسْوَةٍ يَوْمَئِذٍ
اور میں نے ایک دن انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج شام کو آل محمد ﷺ کے پاس غلے یا گندم کا ایک صاع بھی نہیں ہے، اس وقت نبی ﷺ کی نو ازواج مطہرات تھیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنْ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ثُمَّ يُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ فَيُقَالُ لَهُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے یہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہیں) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وأَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِثْلُ مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي مِثْلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَصَنْعَاءَ أَوْ مِثْلُ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَعُمَانَ وَقَالَ أَزْهَرُ مِثْلُ وَقَالَ عُمَانَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے حوض کے دونوں کناروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا مدینہ اور صنعاء یا مدینہ اور عمان کے درمیان ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ مَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو میں نے دیکھا کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا ہے اور صحابہ کرام ؓ ارد گرد کھڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ نبی ﷺ کا جو بال بھی گرے وہ کسی آدمی کے ہاتھ پر ہی گرے۔ (زمین پر نہ گرے)
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قُلْتُ فَأَنْتُمْ كَيْفَ تَصْنَعُونَ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے، راوی نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ جَعْفَرٌ لَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُطِرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ الْمَطَرُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں بارش ہوئی، نبی ﷺ نے باہر نکل کر اپنے کپڑے جسم کے اوپر والے حصے سے ہٹادیئے تاکہ بارش کا پانی جسم تک بھی پہنچ سکے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا کہ یہ بارش اپنے رب کے پاس سے تازہ تازہ آئی ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ جِئْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی ﷺ کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی ﷺ نے فرمایا بیٹا! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً فَكَرِهَهَا قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَغْسِلَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَ وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کے چہرے پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا؟ اور نبی ﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ
حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے اور ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ مَرَّةً عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَمَرَّةً عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ شَخْصًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَا يَقُومُ لَهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام ؓ کی نگاہوں میں نبی ﷺ سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ تھا، لیکن وہ نبی ﷺ کو دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نبی ﷺ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔