حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ أَنَّ لَكَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ كُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک جہنمی سے " جسے سب سے ہلکا عذاب ہوگا " کہا جائے گا کہ یہ بتا، اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں! اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا میں نے آدم کی پشت میں تجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے لیکن تو شرک کئے بغیر نہ مانا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ قَالَ كُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ وَقَالَ أَنَسٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاكُّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ
یحییٰ بن یزید (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے قصر نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا جب میں کوفہ کی طرف نکلتا تھا تو واپسی تک دو رکعتیں ہی پڑھتا تھا اور نبی ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَجُلٌ يُنَاجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زَالَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَامَ أَصْحَابُهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی ﷺ ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ هُوَ وَامْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُهُمْ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا صبر تو صدمہ کے آغاز میں ہی ہوتا ہے (اس کے بعد تو سب ہی کو صبر آجاتا ہے)
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ قَدْ دُفِنَتْ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی جو دفن ہوچکی تھی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو ایک گز کے برابر اللہ کے قریب ہوتا ہے اللہ ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہے اور جو اللہ کے پاس چل کر آتا ہے، اللہ اس کے پاس دوڑ کر آتا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي لَكَ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ " الم یکن الذین کفروا " والی سورت تمہیں پڑھ کر سناؤں، حضرت ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا کہ کیا اللہ نے میرا نام لے کر کہا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! یہ سن کر ابی بن کعب ؓ رو پڑے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قِصَصِهِ كَفَضْلِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَلَا أَدْرِي ذَكَرَهُ عَنْ أَنَسٍ أَمْ قَالَهُ قَتَادَةُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح اکٹھے بھیجے گئے ہیں، (یہ کہہ کر نبی ﷺ نے شہادت والی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا)
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقِيلَ لَهُ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ ؓ کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی میز پر یا چھوٹی پیالیوں میں کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ کے لئے باریک روٹی پکائی گئی، راوی نے پوچھا کہ پھر وہ کس چیز پر رکھ کر کھانا کھاتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ دستر خوانوں پر۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتِّينَ سَنَةً لَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا وصال ساٹھ سال کی عمر میں ہوا ہے، اس وقت نبی ﷺ کی مبارک ڈاڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلَ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَوْ آخِرُهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت کی مثال بارش کی سی ہے کہ کچھ معلوم نہیں اس کا آغاز بہتر ہے یا انجام۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنِّينِي بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مشرش کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فَأَقْتَدِيَ بِكَ فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا ثُمَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بڑا بھاری بھر کم تھا، وہ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے بار بار نہیں آسکتا تھا، اس نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں باربار آپ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اگر آپ کسی دن میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تو میں وہییں پر نماز پڑھ لیا کروں گا، چناچہ اس ایک مرتبہ دعوت کا اہتمام کرکے نبی ﷺ کو بلا یا اور ایک چٹائی کے کونے پر پانی چھڑک دیا، نبی ﷺ نے وہاں دو رکعتیں پڑھ دیں، آل جارود میں سے ایک آدمی نے یہ سن کر حضرت انس ؓ سے پوچھا کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو وہ نماز صرف اسی دن پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ قَالَ حَجَّاجٌ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج روشن اور اپنے حلقے کی شکل میں ہوتا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ جَارَنَا يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ اعْلَمْ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے فرمایا یاد رکھو! لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہوا فوت ہوجائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔