حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَوْ سَمَّتَ أَحَدَهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ ذَاكَ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ قَالَ يَحْيَى وَرُبَّمَا قَالَ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی ﷺ نے ان میں سے ایک کو اس کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو کیوں نہ دیا؟ فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور دوسرے نے نہیں کہا تھا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْضَى عَنْ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ بندے سے صرف اتنی بات پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کہ وہ کوئی لقمہ کھا کر یا پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کر دے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ عَامَّةُ وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغَرْغِرُ بِهَا صَدْرُهُ وَمَا يَكَادُ يُفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ دنیا سے رخصتی کے وقت نبی ﷺ کی عمومی وصیت نماز اور غلاموں کا خیال رکھنے سے متعلق تھی حتیٰ کہ جب غرغرہ کی کیفیت طاری ہوئی تب بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک پر یہی الفاظ جاری تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنْ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتْ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتْ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگ لے جہنم خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ سے بچالے اور جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرلے تو جنت خود کہتی ہے کہ اے اللہ! اس بندے کو مجھ میں داخلہ عطاء فرما۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَوْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی ﷺ اس کی تصدیق کر رہے ہیں، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی ﷺ نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں، پھر نبی ﷺ اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا: لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ مَا يَسُرُّهُمْ أَوْ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا قَالَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے، اس وقت نبی ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ الرُّؤَاسِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ يُوسُفَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ الْعَيْنِ وَالْحُمَةِ وَالنَّمْلَةِ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نظر بد، ڈنک اور نملہ (جس کی بیماری میں پسلی دانوں سے بھر جاتی ہے) کے لئے جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ مَنْكِبَيْهِ وَقَالَ بَهْزٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال کندھوں تک آتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ ﷺ اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَإِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ قَالَ أَخْبَرَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أَهْلِ بَيْتٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ مَوْضِعُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي النَّجَّارِ وَكَانَ فِيهِ نَخْلُ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَامِنُونِي بِهِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُ لَهُ ثَمَنًا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِيهِ وَهُمْ يُنَاوِلُونَهُ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ مسجد نبوی ﷺ کی جگہ دراصل بنونجار کی تھی، یہاں ایک درخت اور مشرکین کی چند قبریں ہوا کرتی تھیں، نبی ﷺ نے بنو نجار سے فرمایا کہ میرے ساتھ اس کی قیمت طے کرلو، انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے، مسجد نبوی کی تعمیر میں نبی ﷺ خود بھی شریک تھے، لوگ نبی ﷺ کو اینٹیں پکڑا تے تھے اور نبی ﷺ فرماتے جا رہے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے، اے اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما اور مسجد نبوی کی تعمیر سے پہلے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا نبی ﷺ یہیں نماز پڑھ لیتے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ وَالدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ وَالْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الطَّيِّبَةُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي هَمَّامٌ عَنْ غَالِبٍ هَكَذَا قَالَ وَكِيعٌ غَالِبٍ وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو غَالِبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ ثُمَّ أُتِيَ بِجِنَازَةِ امْرَأَةٍ فَقَامَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ حِذَاءَ السَّرِيرِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنْ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ نَحْوًا مِمَّا رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ فَقَالَ احْفَظُوا
مروی ہے کہ حضرت انس ؓ کے سامنے ایک مرد کا جنازہ لایا گیا وہ اس کی چارپائی کے سرہانے کھڑے ہوئے اور عورت کا جنازہ لایا گیا تو چارپائی کے سامنے اس سے نیچے ہٹ کر کھڑے ہوئے، نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو علاء بن زیاد (رح) کہنے لگے کہ اے ابوحمزہ! جس طرح کرتے ہوئے میں نے آپ کو دیکھا ہے کیا نبی ﷺ بھی مرد و عورت کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! تو علاء نے ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا کہ اسے محفوظ کرلو۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ مَنْ عَادَ مِنْكُمْ مَرِيضًا قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ مَنْ تَصَدَّقَ قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ عُمَرُ أَنَا قَالَ وَجَبَتْ وَجَبَتْ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے پوچھا کہ آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ہے؟ حضرت عمر ؓ نے اپنے آپ کو پیش کیا پھر نبی ﷺ نے پوچھا تم میں سے کسی نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا میں نے کی ہے، پھر فرمایا کسی نے صدقہ دیا ہے؟ حضرت عمر ؓ نے پھر اپنے آپ کو پیش کیا، پھر پوچھا کہ کسی نے روزہ رکھا ہے؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ میں نے رکھا ہے، نبی ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا واجب ہوگئی۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ قَالَ فَسَعَى عَلَيْهَا الْغِلْمَانُ حَتَّى لَغِبُوا قَالَ فَأَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا ثُمَّ بَعَثَ مَعِي بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ مرالظہران نامی جگہ پر اچانک ہمارے سامنے ایک خرگوش آگیا، بچے اس کی طرف دوڑے، لیکن اسے پکڑ نہ سکے یہاں تک کہ تھک گئے، میں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابوطلحہ ؓ کے پاس لے آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کا ایک پہلو نبی ﷺ کی خدمت میں میرے ہاتھ بھیج دیا اور نبی ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِيَدِهِ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ اپنی قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَيْهِ وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ نَزَلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ فَيُسَدِّدُهُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص عہدہ قضاء کو طلب کرتا ہے، اسے اس کے حوالے کردیا جاتا ہے اور جسے زبردستی عہدہ قضاء دیا جائے، اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھتا ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پانی پیے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ أَبِي عِصَامٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ هَذَا أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قُلْتُ لِمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ أَسَمِعْتَ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ قَالَ نَعَمْ
شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن قرہ (رح) سے پوچھا کہ کیا آپ نے حضرت انس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت لقمان بن مقرن ؓ سے فرمایا تھا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں!