حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 32 · 2,096 hadiths · Page 10 of 105

11683Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بات سنتے اور مانتے رہو، خواہ تم پر ایک حبشی " جس کا سر کشمش کی طرح ہو " گورنر بنادیا جائے۔

11684Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا لِنَفْسِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ ﷺ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چناچہ وہ سوار ہوگیا۔

11685Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ حَتَّى نَعَسَ أَوْ كَادَ يَنْعَسُ بَعْضُ الْقَوْمِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا، نبی ﷺ ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے، حتیٰ کہ کچھ لوگ سونے لگے۔

11686Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فَقَالَ مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ

حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس ؓ سے نبی ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے۔

11687Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَقِيعِ فَنَادَى رَجُلٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَمْ أَعْنِكَ قَالَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ جنت البقیع میں تھے، کہ ایک آدمی نے " ابو القاسم " کہہ کر کسی کو آواز دی، نبی ﷺ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں مراد لے رہا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔

11688Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ عِشْرِينَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چناچہ حضرت ابوطلحہ ؓ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا۔

11689Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الْأَنْصَارِيَّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ فَنَهَوْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ وَأَمَرَ أَنْ يُصَبَّ عَلَيْهِ أَوْ أُهَرِيقَ عَلَيْهِ الْمَاءُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، لوگوں نے اسے روکا تو نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو۔

11690Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي إِنَائِهِ ثَلَاثًا وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس ؓ بھی تین سانس لیتے تھے۔

11691Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ الْحَاجَةَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِنْدَكَ شَيْءٌ فَأَتَاهُ بِحِلْسٍ وَقَدَحٍ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِي هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ قَالَ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ قَالَ هُمَا لَكَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثٍ ذِي دَمٍ مُوجِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ أَوْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ وہ ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ لے کر آیا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں ایک درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟ لوگ خاموش رہے، نبی ﷺ نے پھر اعلان دہرایا، اس پر ایک آدمی کہنے لگا کہ میں دو درہم میں یہ دونوں چیزیں خریدتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں، پھر فرمایا سوال کرنا صرف تین میں سے کسی ایک صورت میں حلال ہے، وہ آدمی جو مرنے کے قریب ہو، وہ قرض جو ہلا دینے والا ہو اور وہ فقر جو خاک نشین کر دے۔

11692Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور خلفاء ثلاثہ ؓ نماز میں قرأت کا آغاز " الحمد للہ رب العلمین " سے کرتے تھے۔

11693Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

11694Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ لِأَبِي طَلْحَةَ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ قَالَ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ ؓ کا ایک بیٹا " جس کا نام ابوعمیر تھا " نبی ﷺ کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی ﷺ نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر (چڑیا، جو مرگئی تھی)

11695Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ثَمَرَةِ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ قِيلَ لِأَنَسٍ مَا تَزْهُو قَالَ تَحْمَرُّ

حمید (رح) کہتے تھے کہ کسی شخص نے حضرت انس ؓ سے پھلوں کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا ہے۔

11696Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ دَنَا النَّاسُ مِنْ الرِّيفِ وَالْقُرَى قَالَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اجْعَلْهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں، لیکن جب حضرت عمر فاروق ؓ کے دورخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر ؓ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چناچہ حضرت عمر ؓ نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔

11697Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ أَكَلْتُ الْحُمُرَ مَرَّتَيْنِ قَالَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ أَفْنَيْتُ الْحُمُرَ قَالَ فَنَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لَحْمِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس خیبر میں آیا اور دو مرتبہ کہا کہ گدھوں کا گوشت کھایا جارہا ہے، پھر آیا تو کہنے لگا کہ گدھے ختم ہوگئے، اس پر نبی ﷺ نے منادی کرادی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے۔

11698Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ وَحَجَّاجٌ مِثْلَهُ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ هَلْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔

11699Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔

11700Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَدَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ فَقَالَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَهُ قَوْمُهُ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ حضرت ابن مسعود ؓ اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود ؓ نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے؟

11701Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا قَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَحَائِطِي الَّذِي كَانَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا وَاللَّهِ لَوْ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهَا لَمْ أُعْلِنْهَا قَالَ اجْعَلْهُ فِي فُقَرَاءِ أَهْلِكَ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ " تم نیکی کے اعلیٰ درجے کو اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرو اور یہ آیت کہ " کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دیتا ہے " تو حضرت ابوطلحہ ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ! میرا فلاں باغ جو فلاں جگہ پر ہے، وہ اللہ کے نام پر دیتا ہوں اور بخدا! اگر یہ ممکن ہوتا کہ میں اسے مخفی رکھوں تو کبھی اس کا پتہ نہ لگنے دیتا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے اپنے خاندان کے فقراء میں تقسیم کردو۔

11702Musnad Imam Ahmad

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ قَالَ وَكُفْرٌ

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی، اس پر موٹی پھیلی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔