حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ الْمُحَرِّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أُصِيبَ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَتَرَكَهُ لِلَّهِ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ
ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے جسم کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اللہ کے لئے اسے چھوڑ دے تو وہ اس کے لئے کفارہ بن جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الَأَشْهَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَتَاهُ فَحَدَّثَهُ أَوْ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا
حضرت ابو ابراہیم (رح) اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعاء فرماتے تھے اے اللہ! ہمارے زندہ اور فوت شدہ بڑوں اور بچوں، مردوں اور عورتوں اور موجودہ غائب سب کی بخشش فرما۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو غِفَارٍ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ
ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے اللہ سے ڈرنا اور اچھی بات کہنی چاہئے یا پھر خاموش رہنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ مُخَضْرَمَةٍ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالَ قُلْنَا يَوْمُ النَّحْرِ قَالَ صَدَقْتُمْ يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَتَدْرُونَ أَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا قُلْنَا ذُو الْحِجَّةِ قَالَ صَدَقْتُمْ شَهْرُ اللَّهِ الْأَصَمُّ أَتَدْرُونَ أَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا قَالَ قُلْنَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ قَالَ صَدَقْتُمْ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَوْ قَالَ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا وَشَهْرِكُمْ هَذَا وَبَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُكُمْ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي أَلَا وَقَدْ رَأَيْتُمُونِي وَسَمِعْتُمْ مِنِّي وَسَتُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ رِجَالًا أَوْ إِنَاثًا وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي آخَرُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنی سرخ رنگ کی اونٹنی پر ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یوم النحر فرمایا تم نے سچ کہا یہ حج اکبر کا دن ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ فرمایا تم نے سچ کہا یہ شہر اصم ہے کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون ساشہر ہے؟ ہم نے عرض کیا مشعرحرام فرمایا تم نے سچ کہا تمہاری جان اور تمہارے مال تمہارے لئے اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے اس شہر میں اس مہینے کے آج کے دن کی حرمت ہے یاد رکھو! حوض کوثر پر میں تمہارا انتظار کروں گا اور تمہیں دیکھوں گا اور تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر اپنی کثرت ظاہر کروں گا لہٰذا میرے چہرے کو سیاہ نہ کرنا، تم نے مجھے دیکھا ہے اور میری باتیں سنی ہیں اور تم سے میرے متعلق پوچھا جائے گا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کرے گا اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے، یاد رکھو! میں کچھ لوگوں کو چھڑا لوں گا اور بہت سے لوگ مجھ سے چھڑا لئے جائیں گے میں عرض کروں گا کہ پروردگار یہ میرے ساتھی ہیں تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُئِيَ بِالْعَرْجِ وَهُوَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ مِنْ الْحَرِّ أَوْ مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ
ایک صحابی ؓ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔