حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زَكَرِيِّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ مَا بَالُ أَقْوَامٍ تَقُولُ إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي لَمَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَإِنِّي أَيُّهَا النَّاسُ فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اس منبر پر نبی ﷺ کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں بڑی رہے گی اور لوگو! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ ثَلَاثًا إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ أَبِي كَذَا قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ فَوْقَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ فِي مَوَاضِعَ أُخَرَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی عروہ دو دن سے زیادہ کا سفر اپنے شوہر یا محرم کے بغیر نہ کرے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ساری رات ایک ہی آیت کو بار بار دہراتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حسن ؓ اور حسین ؓ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيُّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا فَقَالَ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُهُ بِهَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا فَلَا تَقْرَبَنَّهُ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ بِمَا شِئْتَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ مَا بَدَا لَكَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بلال ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر آئے نبی ﷺ کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے پوچھا کہ یہ تم کہاں سے لائے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی دو صاع رومی کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اوہ! یہ تو عین سود ہے، اس کے قریب بھی مت جاؤ البتہ پہلے اپنی کھجوروں کو بیج لو، پھر اس قیمت کے ذریعے جو مرضی خریدو۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَا أَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ وَقَيْسُ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ لَا تُوطَأُ حَامِلٌ قَالَ أَسْوَدُ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً قَالَ يَحْيَى أَوْ تَسْتَبْرِئَ بِحَيْضَةٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا تھا کوئی شخص کسی حاملہ باندی سے مباشرت نہ کرے، تاآنکہ وضع حمل ہوجائے اور اگر وہ غیر حاملہ ہو تو ایام کا ایک دور گذرنے تک اس سے مباشرت نہ کرے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وِصَالَ يَعْنِي فِي الصَّوْمِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ وَمُعَاوِيَةُ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَعَنْ الزَّهْوِ وَالتَّمْرِ فَقُلْتُ لِسُلَيْمَانَ أَنْ يُنْبَذَا جَمِيعًا قَالَ نَعَمْ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچی کھجور، یا کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ قَالَ ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي يَعْنِي الضِّبَابَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمْ يُجَاوِزْ إِلَّا قَرِيبًا فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَعَاوَدَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمُسِخُوا دَوَابَّ فَلَا أَدْرِي لَعَلَّهُ بَعْضُهَا فَلَسْتُ بِآكِلِهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بارگاہ نبوت میں یہ سوال عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں کھانے کے لئے اکثر گوہ ہوتی ہے، نبی ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تھوڑی دیر بعد اس نے پھر یہی سوال کیا لیکن نبی ﷺ نے اب بھی اسے جواب نہ دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر اللہ کی لعنت یا غضب نازل ہوا اور ان کی شکلوں کو مسخ کردیا گیا تھا، کہیں یہ وہی نہ ہو اس لئے میں اسے کھانے کا حکم دیتا ہوں نہ ہی منع کرتا ہوں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ الْأَحْوَلُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَوْ مُعَاوِيَةُ بْنُ فُلَانٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ الْمَيِّتُ يَعْرِفُ مَنْ يُغَسِّلُهُ وَيَحْمِلُهُ وَيُدَلِّيهِ قَالَ فَقُمْتُ مِنْ عِنْدِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَمَرَّ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میت اپنے اٹھانے والوں، غسل دینے والوں اور قبر میں اتارنے والوں تک کو جانتی ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوسعید ؓ کے پاس سے اٹھ کر حضرت ابن عمر ؓ کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، اتفاقاً حضرت ابوسعید ؓ بھی وہاں سے گذرے تو حضرت ابن عمر ؓ نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ سے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْظُرْ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلَا تَنْظُرْ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلَا يُفْضِ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ وَلَا تُفْضِ الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی دوسرے آدمی کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور کوئی عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے، کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے اور کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں برہنہ جسم کے ساتھ نہ لیٹے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صِرْمَةَ الْمَازِنِيَّ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ أَصَبْنَا سَبَايَا فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهِيَ الْغَزْوَةُ الَّتِي أَصَابَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ مِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَّخِذَ أَهْلًا وَمِنَّا مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَمْتِعَ وَيَبِيعَ فَتَرَاجَعْنَا فِي الْعَزْلِ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ہمیں غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر قیدی ملے، یہ وہی غزوہ ہے جس میں نبی ﷺ کو حضرت جویریہ ؓ ملی تھیں، ہم میں سے بعض لوگوں کا ارادہ یہ تھا کہ ان باندیوں کو اپنے گھروں میں رکھیں اور بعض کا ارادہ یہ تھا کہ ان سے فائدہ اٹھا کر انہیں بیچ دیں، اس لئے نبی ﷺ سے عزل کے متعلق سوال پوچھا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم عزل نہ کرو تو کوئی حرج نہیں ہے، اللہ نے جو فیصلہ فرمالیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُحْتَبَسُونَ عَلَى قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا هُذِّبُوا وَنُقُّوا أُذِنَ لَهُمْ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَحَدُهُمْ أَهْدَى لِمَنْزِلِهِ فِي الْجَنَّةِ مِنْهُ بِمَنْزِلِهِ كَانَ فِي الدُّنْيَا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب مسلمان جہنم سے نجات پاجائیں گے تو انہیں جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائے گا اور ان سے ایک دوسرے کے مظالم اور معاملاتِ دنیوی کا قصاص لیا جائے گا۔ اور جب وہ پاک صاف ہوجائیں گے تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ہر شخص اپنے دنیاوی گھر سے زیادہ جنت کے گھر کا راستہ جانتا ہوگا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سَيَّارٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُزَنِيُّ وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ شُجَاعًا عِنْدَ اللِّقَاءِ بَكَّاءً عِنْدَ الذِّكْرِ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ إِنَّ بَعْضَنَا لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنْ الْعُرْيِ وَقَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا فَنَحْنُ نَسْمَعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدَ فِينَا لِيَعُدَّ نَفْسَهُ مَعَهُمْ فَكَفَّ الْقَارِئُ فَقَالَ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا كِتَابَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَحَلَّقَ بِهَا يُومِئُ إِلَيْهِمْ أَنْ تَحَلَّقُوا فَاسْتَدَارَتْ الْحَلْقَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي قَالَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ الصَّعَالِيكِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میں انصاری صحابہ ؓ کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ہم لوگ ایک دوسرے سے اپنی شرمگاہیں چھپا رہے تھے اور ایک قاری صاحب ہمارے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے اور ہم اسے سن رہے تے، اسی اثناء میں نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے اور ہمارے درمیان آکر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ان کے ساتھ شمار کرسکیں، قاری صاحب ایک دم رک گئے، نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا کہہ رہے تھے؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے قاری صاحب ہمیں قرآن کریم کی تلاوت سنا رہے تھے، اس پر نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے حلقہ بنانے کا اشارہ کیا، وہ لوگ حلقے کی شکل میں گھوم گئے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے ان سے میرے علاوہ کسی کو نہیں پہچانا اور فرمایا اے غریبوں کے گروہ! خوش ہوجاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا " پہلے جنت میں داخل ہوگے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي لَيَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنْ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ مِنْ النَّاسِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلرَّجُلِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایک آدمی لوگوں کی جماعتوں میں سفارش کرے گا اور وہ اس کی برکت سے جنت میں داخل ہوں گے، کوئی پورے قبیلے کی سفارش کرے گا کوئی دس آدمیوں کی، کوئی تین آدمی کی، کوئی دو آدمیوں کی اور کوئی ایک آدمی کی سفارش کرے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ وَسُرَيْجٌ قَالَ ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّ بِي ابْنُ عُمَرَ فَقُلْتُ مِنْ أَيْنَ أَصْبَحْتَ غَادِيًا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ وَادِّخَارِهِ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ الْأَشْرِبَةِ وَالْأَنْبِذَةِ فَاشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم اسے کھا سکتے ہو اور جب تک چاہو ذخیرہ بھی کرسکتے ہو۔ کیونکہ اللہ نے وسعت پیدا کردی ہے نیز میں نے تمہیں کچھ مشروبات اور نبی ذوں سے منع کیا تھا، اب انہیں پی سکتے ہو لیکن (یاد رہے کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم وہاں جاؤ تو کوئی بےہودہ بات نہ کرنا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ بَهْزٌ السَّمَّانُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ قَالَ بَهْزٌ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو اپنے آگے سے گذرنے نہ دے اور حتی الامکان اسے روکے، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہا کرو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے مد بلکہ اس کے نصف تک کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَذُكِرَتْ عِنْدَهُ صَلَاةٌ فِي الطُّورِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِلْمَطِيِّ أَنْ تُشَدَّ رِحَالُهُ إِلَى مَسْجِدٍ يُبْتَغَى فِيهِ الصَّلَاةُ غَيْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا
حضرت ابوسعید ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سوائے تین مسجدوں کے یعنی مسجدِ حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے خصوصیت کے ساتھ کسی اور مسجد کا سفر کرنے کے لئے سواری تیار نہ کی جائے۔