حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَمَى أَوْ ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبْ وَجْهَ أَخِيهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو اس کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَرْفَعُهُ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ فَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنْ السَّمَاءِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بعض اوقات انسان کوئی بات منہ سے نکالتا ہے، اس کا مقصد صرف لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے، لیکن وہ کلمہ اسے آسمان سے بھی دور لے جا کر پھینکتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيُنَادَى مَعَ ذَلِكَ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا قَالَ يُنَادَوْنَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ
حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے، کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کرکے سنائیں جائیں گے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا أَنْبَأَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ التُّجِيبِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا دَرَّاجٍ أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُعْدَلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! کیا قرض بھی کفر کے برابر ہوسکتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں!
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّمْحِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْهَيْثَمِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضْرَاءَ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کافر پر اس کی قبر میں نناوے اژد ہے مسلط کئے جاتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہیں گے، اگر ان میں سے ایک اژدہا بھی زمین پر پھونک مار دے تو زمین پر کبھی گھاس نہ اگ سکے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ عَلَى آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مومن اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے پر بندھا ہوا ہو، کہ گھوڑا گھوم پھر کر اپنے کھونٹے ہی کی طرف واپس آتا ہے اور مومن بھی گھوم پھر کر ایمان ہی کی طرف واپس آجاتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا وَصَبٌ وَلَا أَذًى إِلَّا كُفِّرَ عَنْهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کو جو پریشانی، تکلیف، غم، بیماری اور دکھ پہنچتے ہیں، اللہ ان کے ذریعے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف مومن ہی کو اپنا ہمنشین بناؤ اور تمہارا کھانا کوئی متقی ہی کھائے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّهُ سَمِعَ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنْ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنْ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنْ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب اللہ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو اس کی طرف خیر کے سات ایسے کام پھیر دیتا ہے جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے اور جب کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو شر کے سات کام اس کی طرف پھیر دیتا ہے، جو اس نے پہلے نہیں کئے ہوتے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ خَلِيفَةٌ يَقْسِمُ الْمَالَ وَلَا يَعُدُّهُ
حضرت ابوسعید ؓ اور جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آخر زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ خَلْفٌ بَعْدَ سِتِّينَ سَنَةً أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا ثُمَّ يَكُونُ خَلْفٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةٌ مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَفَاجِرٌ قَالَ بَشِيرٌ فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ مَا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ فَقَالَ الْمُنَافِقُ كَافِرٌ بِهِ وَالْفَاجِرُ يَتَأَكَّلُ بِهِ وَالْمُؤْمِنُ يُؤْمِنُ بِهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ساٹھ سال بعد حکمرانوں کے جانشین ایسے ہوں گے جو نماز کو ضائع کردیں گے، اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے اور جہنم کے گڑھے میں جاپڑیں گے، ان کے بعد ایسے لوگ جانشین ہوں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور قرآن کریم کی تلاوت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں مومن، منافق اور فاجر، راوی حدیث بشیر کہتے ہیں کہ میں نے ولید سے پوچھا کہ یہ تین لوگ کیسے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ منافق تو اس کا منکر ہوتا ہے، فاجر آدمی اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان رکھتا ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتِيلًا بَيْنَ قَرْيَتَيْنِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُرِعَ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى شِبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْقَاهُ عَلَى أَقْرَبِهِمَا
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو بستیوں کے درمیان ایک آدمی کو مقتول پایا، نبی ﷺ کے حکم پر دونوں بستیوں کی مسافت کی پیمائش کی گئی، نبی ﷺ کی وہ بالشت اب بھی میری نگاہوں کے سامنے ہے، پھر نبی ﷺ نے دونوں میں سے قریب کی بستی میں اسے بھجوا دیا۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتُخْلِفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا یا جس شخص کو بھی خلافت عطاء فرمائی، اس کے قریب دو گروہ رہے ہیں، ایک گروہ اسے خیر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا گروہ اسے شر کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور بچتا وہی ہے جسے اللہ بچالے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پیٹ کے بچے ذبح ہونے کے لئے اس کی ماں کا ذبح ہونا ہی کافی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَكْتُبُوا عَنِّي شَيْئًا إِلَّا الْقُرْآنَ فَمَنْ كَتَبَ عَنِّي شَيْئًا فَلْيَمْحُهُ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے حوالے سے قرآن کریم کے علاوہ کچھ نہ لکھا کرو اور جس شخص نے قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھ رکھا ہو، اسے چاہئے کہ وہ اسے مٹادے اور فرمایا میرے حوالے سے حدیث بیان کرسکتے ہو،
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
وَقَالَ حَدِّثُوا عَنِّي وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہئے
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ تَزْعُمُونَ أَنَّ قَرَابَتِي لَا تَنْفَعُ قَوْمِي وَاللَّهِ إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِي قَوْمٌ يُؤْمَرُ بِهِمْ ذَاتَ الْيَسَارِ فَيَقُولُ الرَّجُلُ يَا مُحَمَّدُ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَيَقُولُ الْآخَرُ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَأَقُولُ أَمَّا النَّسَبُ قَدْ عَرَفْتُ وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ الْقَهْقَرَى
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری قرابت داری لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی، اللہ کی قسم! میری قرابت داری دنیا اور آخرت دونوں میں جڑی رہے گی اور قیامت کے دن میرے سامنے کچھ لوگوں کو پیش کیا جائے گا جن کے متعلق بائیں جانب کا حکم ہوچکا ہوگا، تو ایک آدمی کہے گا یا رسول اللہ ﷺ! میں فلاں بن فلاں ہوں اور دوسرا کہے گا میں فلاں بن فلاں ہوں، میں انہیں جواب دوں گا کہ تمہارا نسب تو مجھے معلوم ہوگیا لیکن میرے بعد تم نے دین میں بدعات ایجاد کرلی تھیں اور تم الٹے پاؤں واپس ہوگئے تھے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَفِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَالْمَكْتُوبَاتُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر جمعہ کے لئے آئے اور کوئی لغو کام کرے اور نہ ہی جہالت کا کوئی کام کرے، یہاں تک کہ امام واپس چلا جائے تو یہ اگلے جمعے تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ضرور آتی ہے جو اگر کسی مسلمان کو مل جائے تو وہ اس میں اللہ سے جو سوال کرے، اللہ اسے ضرور عطاء فرمائے گا اور فرض نمازوں کے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صِيَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَى
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ نہیں ہے۔