حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
وَقَالَ سَلَمَةُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ بَايَعَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ثُمَّ مَرَرْتُ بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَمَعَهُ قَوْمٌ فَقَالَ بَايِعْ يَا سَلَمَةُ فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ وَأَيْضًا فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے دوسرے لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کی دوبارہ گذرا تو نبی ﷺ نے فرمایا سلمہ! بیعت کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں بیعت کرچکا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا دوبارہ سہی، چناچہ میں نے دوبارہ بیعت کرلی۔
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَلَمَّا خَفَّ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ قَالَ يَزِيدُ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُونَ يَوْمَئِذٍ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حدیبیہ کے موقع پر دوسرے لوگوں کے ساتھ نبی ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا، جب نبی ﷺ کے پاس سے لوگ چھٹ گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا ابن اکوع! تم کیوں نہیں بیعت کر رہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بیعت کرچکا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا دوبارہ سہی راوی نے پوچھا کہ اس دن آپ نے کس چیز پر نبی ﷺ سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا موت پر۔
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد اس وقت پڑھتے جب اس کا کنارہ غروب ہوجاتا تھا۔
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ رَزِينٍ أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ قِيلَ لَهُمْ هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًا
عبدالرحمن بن رزین کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی حج کے ارادے سے جا رہے تھے، راستے میں مقام ربذہ میں پڑاؤ کیا، کسی نے بتایا کہ یہاں نبی ﷺ کے ایک صحابی حضرت سلمہ بن اکوع بھی رہتے ہیں، ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا، پھر ہم نے ان سے کچھ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے اس ہاتھ سے نبی ﷺ کے دست حق پرست پر بیعت کی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے اپنی بھری ہوئی ہتھیلی باہر نکالی ہم نے کھڑے ہو کر ان کی دونوں ہتھیلیوں کو بوسہ دیا۔
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ عَامَ أَوْطَاسٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ نَهَى عَنْهَا
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ اوطاس کے سال صرف تین دن کے لئے متعہ کی رخصت دی تھی اس کے بعد اس کی ممانعت فرما دی تھی۔
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
قَالَ يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ سَلَمَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَهُ بُرَيْدَةُ بْنُ الْحَصِيبِ فَقَالَ ارْتَدَدْتَ عَنْ هِجْرَتِكَ يَا سَلَمَةُ فَقَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي فِي إِذْنٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ابْدُوا يَا أَسْلَمُ فَتَنَسَّمُوا الرِّيَاحَ وَاسْكُنُوا الشِّعَابَ فَقَالُوا إِنَّا نَخَافُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَضُرَّنَا ذَلِكَ فِي هِجْرَتِنَا قَالَ أَنْتُمْ مُهَاجِرُونَ حَيْثُ كُنْتُمْ
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ منورہ آئے، تو حضرت بریدہ بن حصیب سے ملاقات ہوئی وہ کہنے لگے اے سلمہ! کیا تم اپنی ہجرت سے پیٹھ پھیر چکے ہو؟ (کہ صحراء میں رہنا شروع کردیا ہے) انہوں نے بتایا کہ مجھے نبی ﷺ کی طرف سے اجازت ہے، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے قبیلہ اسلم! دیہات میں رہو اور صاف ستھری آب وہوا پاؤ اور گھاٹیوں میں رہو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے ہماری ہجرت کو نقصان نہ پہنچے؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم جہاں بھی رہو گے مہاجر ہی رہو گے۔
حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَنْتُمْ أَهْلُ بَدْوِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَضَرِكُمْ
حضرت سلمہ بن اکوع ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ ہمارا دیہات اور ہم تمہارا شہر ہیں۔