صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ حَوْلِ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاءَ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ
اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسجد کے ارد گرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کر کے انہیں آگ لگا دوں گا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمْزَةُ يَعْنِي الزَّيَّاتَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيُنَادِي مَعَ ذَلِكَ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشُبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا قَالَ يَتَنَادَوْنَ بِهَذِهِ الْأَرْبَعَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کر کے سنائیں جائیں گے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَالَ لَنَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي قُلْتُ وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ أُمِّي كَانَتْ امْرَأَةً مُشْرِكَةً وَإِنِّي كُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ وَإِنِّي دَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ وَسَمِعْتُ خَشْفَ رِجْلٍ يَعْنِي وَقْعَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَمَا أَنْتَ ثُمَّ فَتَحَتْ الْبَابَ وَقَدْ لَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَقَالَتْ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنْ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنْ الْحُزْنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ فَقَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَكَ وَقَدْ هَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبُهُمْ إِلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي أَوْ يَرَى أُمِّي إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّنِي
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ واللہ اللہ جس مومن کو پیدا کرتا ہے اور وہ میرے متعلق سنتا ہے یا مجھے دیکھتا ہے تو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ فرمایا دراصل میری والدہ مشرک عورت تھیں میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو نبی کریم ﷺ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری میں روتا ہوا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں آج میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو آپ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ابوہریرہ ؓ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما دے۔ نبی کریم ﷺ نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ابوہریرہ ؓ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ اپنی والدہ کو نبی کریم ﷺ کی دعا کی بشارت دوں جب میں گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہ اندر سے بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز آئی اور پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی والدہ نے اندر سے کہا کہ ابوہریرہ تھوڑی دیر رکے رہوتھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو وہ اپنی قمیض پہن چکی تھیں اور جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں انی اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یہ سنتے ہی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دوبارہ خوشی کے آنسو لئے حاضر ہوا جیسے پہلے غم کے مارے رو رہا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مبارک ہو اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ ؓ کی ماں کو ہدایت نصیب فرما دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مومن بندوں کے دل میں میری اور میری والدہ کی محبت پیدا فرما دے اور ان کی محبت ان دونوں کے دلوں میں ڈال دے چناچہ نبی کریم ﷺ نے دعا فرما دی کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں کے دل میں اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کی محبت پیدا فرما اور ان کی محبت ان کے دلوں میں پیدا فرما اس کے بعد اللہ نے جو مومن بھی پیدا کیا اور وہ میرے بارے سنتا یا مجھے دیکھتا ہے یا میری والدہ کو دیکھتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ يَتِيمُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ فَقَالَ مَتَى قَالَ عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ الْعَدُوَّ ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ رَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ وَسَجَدُوا مَعَهُ ثُمَّ أَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَهُ ثُمَّ كَانَ التَّسْلِيمُ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ
ایک مرتبہ مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! مروان نے پوچھا کب؟ انہوں نے فرمایا غزوہ نجد کے سال اور وہ اس طرح کہ نبی کریم ﷺ نماز عصر کے لئے کھڑے ہوئے ایک گروہ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور دوسرا دشمن کے مد مقابل جس کی پشت قبلہ کی طرف تھی نبی کریم ﷺ نے تکبیر کہی اور سب لوگوں نے جو نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک تھے یا دشمن سے قتال کر رہے تھے۔ تکبیر کہی پھر نبی کریم ﷺ نے ایک رکوع کیا پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا پھر سجدہ کیا تو پیچھے والے گروہ نے بھی سجدہ کیا دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوگیا یہ لوگ دشمن سے جا کر لڑنے لگے اور دشمن کے مد مقابل جو گروہ لڑ رہا تھا وہ یہاں آگیا انہوں نے سب سے پہلے رکوع سجدہ کیا اور نبی کریم ﷺ کھڑے رہے جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رکوع سجدہ کیا پھر دشمن کا مد مقابل گروہ بھی آگیا اور اس نے پہلے رکوع سجدہ کیا نبی کریم ﷺ اور دیگر مقتدی بیٹھے رہے پھر سلام پھیر دیا گیا نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو سب نے اکٹھے ہی سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم ﷺ کی بھی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی بھی دو دو رکعتیں ہوئیں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْغِفَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْحَرِيرَ مِنْ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ریشمی کپڑوں کا پیچھا کرتے تھے اور انہیں اتار دیتے تھے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ انسان میں سب سے بدترین چیز بےصبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہونا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلَا يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ طَيِّبُ الرَّائِحَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے سامنے خوشبو پیش کی جائے اسے وہ رد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کا بوجھ ہلکا اور مہک عمدہ ہوتی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزْ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا وَحَمَلَ فِي قَبْرِهَا وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنْ الْأَجْرِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ شریک ہو اسے کندھا دے قبر میں مٹی ڈالے اور دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ ثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرِو الْمَعَافِرِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَنْ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ فَقَدْ خَانَهُ وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی اور جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب آخر زمانے میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد نے ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ان سے دور رہنا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ أَصْوَاتَ الدِّيَكَةِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا فَاسْأَلُوا اللَّهَ وَارْغَبُوا إِلَيْهِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَتْ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم (رات کے وقت) مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ کے فضل کا سوال کرو اور جب (رات کے وقت) گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو ہم پر تیر اندازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ وَيُشَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ وَإِنْ دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَ لَهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) چھینکے تو اس کا جواب دے (٣) دعوت دے تو قبول کرے (٤) بیمار ہو تو عیادت کرے (٥) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے (٦) پیٹھ پیچھے اس کی خیر خواہی کرے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ قَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ وَتَدْعُوَ بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَنٍ وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا قَالَ أَبِي وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ وَرَحْمَةٌ مِنْكَ وَعَافِيَةٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ وَرِضْوَانٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کو جو سلمان الخیر کے نام سے مشہور تھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نبی تمہیں چند کلمات کا تحفہ دینا چاہتے ہیں جن کے ذریعے تم رحمان سے سوال کرسکو اس کی طرف اپنی رغبت ظاہر کرسکو اور رات دن ان کلمات کے ذریعے اسے پکارا کرو چناچہ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ میں تجھ سے ایمان کی درستگی کی درخواست کرتا ہوں ایمان کے ساتھ حسن اخلاق اور ایسی کامیابی جس میں دارین کی فلاح آجائے چاہتا ہوں اور آپ سے آپ کی رحمت عافیت مغفرت اور رضامندی کا طلبگار ہوں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس گنجائش ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزَالُ لِهَذَا الْأَمْرِ أَوْ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ وَلَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنِي أَبُو خَيْرَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ قَالَ أَبُو خَيْرَةَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ ذُكُورِ أُمَّتِي فَلَا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ إِنَاثِ أُمَّتِي فَلَا تَدْخُلْ الْحَمَّامَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کے مردوں میں سے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند کے بغیر حمام میں نہ جایا کرے اور میری امت کی عورتوں میں سے جو خاتون اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں بالکل نہ جایا کرے۔