صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

Musnad Imam Ahmad · Chapter 30 · 2,795 hadiths · Page 30 of 140

8347Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی سرخ رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے۔

8348Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مالی طور پر قلت کے شکار آدمی کا محنت کرکے صدقہ نکالنا (سب سے افضل ہے) اور (یاد رکھو) صدقہ میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہیں۔

8349Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطَرُوا ثُمَّ تُمْطَرُوا فَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔

8350Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً فُضُلًا يَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ يَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّكْرِ فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى يَبْلُغُوا الْعَرْشَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ فَيَقُولُونَ مِنْ عِنْدِ عَبِيدٍ لَكَ يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ وَيَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنْ النَّارِ وَيَسْتَغْفِرُونَكَ فَيَقُولُ يَسْأَلُونِي جَنَّتِي هَلْ رَأَوْهَا فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا وَيَتَعَوَّذُونَ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ الْخَطَّاءَ فُلَانًا مَرَّ بِهِمْ لِحَاجَةٍ لَهُ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِكَ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَلْتَمِسُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے " جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ ( پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آئے ہیں وہ لوگ جنت کی طلب کر رہے تھے جہنم سے آپ کی پناہ مانگ رہے تھے اور آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ جہنم سے وہ پناہ مانگ رہے تھے اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟ میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

8351Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَى عَضَلَةُ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا اتَّزَرَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تہبند باندھتے تو تہبند کے ورے سے آپ ﷺ کی پنڈلی کی مچھلی نظر آتی تھی۔

8352Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ فَاسْتَزَدْتُ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا فَقُلْتُ أَيْ رَبِّ إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرِي أُمَّتِي قَالَ إِذَنْ أُكْمِلَهُمْ لَكَ مِنْ الْأَعْرَابِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے مجھ سے وعدہ کرلیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمیوں کو چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتاجنت میں داخل کرے گا میں نے اپنے پروردگار سے اس میں مزید اضافہ کی درخواست کی تو اس نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کردیا میں نے پوچھا پروردگار اگر یہ لوگ میری امت کے مہاجر نہ ہوئے تو؟ ( اگر مہاجرین کی تعداد کم ہوئی تو؟ ) اللہ نے فرمایا کہ پھر میں یہ تعداد دیہاتیوں سے پوری کروں گا۔

8353Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ الدَّقِيقِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي لَأَسْقَيْتُهُمْ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمْ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَدِّدُوا إِيمَانَكُمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا قَالَ أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ ارشاد نبوی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرے بندے میری اطاعت کرنے لگیں تو میں رات کو انہیں بارش سے سیراب کروں دن میں ان پر سورج کو روشن کروں اور انہیں بادلوں کی گرج نہ سناؤں۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کرسکتے ہیں؟ لا الہ الا اللہ کی کثرت کیا کرو۔

8354Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا۔

8355Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ كَلَامٍ أَوْ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُفْتَحُ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ أَبْتَرُ أَوْ قَالَ أَقْطَعُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر وہ کام یا کلام جس کا آغاز اللہ کے ذکر سے نہ کیا جائے وہ دم بریدہ رہتا ہے۔

8356Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِثَوْبَانَ كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ قَالَ ثَوْبَانُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا قَالَ لَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهَنُ قَالُوا وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حُبُّكُمْ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمْ الْقِتَالَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ثوبان ؓ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ثوبان! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تمہارے خلاف دنیا کی قومیں ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے کھانے کی میز پر دعوت دی جاتی ہے؟ حضرت ثوبان ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہونے کی بنا پر ایسا ہوگا؟ فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمہارے دلوں میں وہن " ڈال دیا جائے گا صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ وہن کیا چیز ہے؟ فرمایا دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت۔

8357Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہدیہ قبول فرما لیتے تھے اپنی ذات کے لئے صدقہ قبول نہ فرماتے تھے۔

8358Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔

8359Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ مَنْ كَانَ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ كَانَ أَصَابَ مِنْ غَدَاءِ أَهْلِهِ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یوم عاشورہ کو نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھا تو صحابہ کرام ؓ سے فرمایا تم میں سے جس نے روزہ رکھا ہو اسے اپنا روزہ مکمل کرنا چاہئے اور جس نے صبح کے وقت کچھ ناشتہ کرلیا ہو تو بقیہ دن کچھ نہ کھائے پئے۔

8360Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنْ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ مَا هَذَا مِنْ الصَّوْمِ قَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ وَهَذَا يَوْمُ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصَّوْمِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کا گذر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا ان لوگوں نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا ہوا تھا نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ کیسا روزہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ نے اس دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا تھا اور فرعون کو غرق فرمایا تھا اسی دن حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر رکی تھی۔ تو حضرت نوح اور موسیٰ (علیہم السلام) نے اللہ کا شکرادا کرنے کے لئے روزہ رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا موسیٰ پر زیادہ حق بنتا ہے اور میں اس دن کا روزہ رکھنے کا زیادہ حقدار ہوں چناچہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

8361Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَنْصَحُوا لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو تفرقہ بازی مت کرو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔

8362Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مَنْ قَالَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ وَحُفِظَ بِهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى يُمْسِيَ وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر تو یہ ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور جو شخص شام کو یہ عمل کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

8363Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا تَحْتَ ثَنِيَّةِ لِفْتٍ طَلَعَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ الثَّنِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ انْظُرْ مَنْ هَذَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے جب ثنیہ لفت کے نیچے پہنچے تو سامنے سے حضرت خالد بن ولید ؓ طلوع ہوئے نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ خالد بن ولید ؓ ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ اللہ کا کتنا پیارا بندہ ہے۔

8364Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔

8365Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثًا حَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ دھوکہ نہ دو بغض نہ رکھو۔ قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو قابل احترام ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔

8366Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا قَالَ إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔