صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ ایک شیطان دوسری شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيَّ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اس کے بعد سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ يَسَارٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاخٍ قَالَ شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ فَقَالَ مَعَ الَّذِي قُلْتُ قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم ﷺ کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ مَرَّتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَا تُكَلِّفُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم ﷺ نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے اس لئے تم اپنی جانوں کو ایسے عمل میں مت تکلیف دو جس کی برداشت کی تم میں طاقت نہ ہو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ زَرْعٍ وَلَا صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ سُلَيْمٌ وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کی علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی (اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے)
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَكْذَبُ أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ الصَّبَّاغِينَ وَالصَّوَّاغِينَ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً إِنَّ مِنْ أَكْذَبِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زگر ہوتے ہیں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ و حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ فِي الدُّنْيَا عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَفَرْحَةٌ فِي الْآخِرَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چناچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے ایک خوشی آخرت میں ہوگی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ التَّمِيمِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا ہے کہ وہ جسم کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا خُثَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَقَدْ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بْ كهيعص وَفِي الثَّانِيَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ قَالَ فَقُلْتُ لِنَفْسِي وَيْلٌ لِفُلَانٍ إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ وَقَدْ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ جب وہ قبول اسلام کے لئے اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے تو نبی کریم ﷺ خیبر گئے ہوئے تھے اور مدینہ منورہ پر سباع بن عرفطہ ؓ کو اپنا نائب بنا گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا تو نبی کریم ﷺ نماز فجر پڑھا رہے تھے آپ ﷺ نے پہلی رکعت میں سورت مریم اور دوسری میں سورت مطففین کی تلاوت فرمائی میں نے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تو ہلاک ہوگیا کیونکہ جب وہ دوسروں سے ناپ کرل یتا ہے تو پورا پورا لیتا ہے اور جب دوسروں کو دیتا ہے تو گھٹا کردیتا ہے۔ بہرحال نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہمیں کچھ زاد راہ مرحمت فرمایا یہاں تک کہ ہم خیبرپہنچ گئے اس وقت تک نبی کریم ﷺ خیبر کو فتح فرما چکے تھے نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں سے بات کر کے ہمیں بھی مال غنیمت کے حصے میں شریک فرما لیا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ فَإِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ إِذَا شَاءَ أَنْ يُزَالَ زَالَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مقامی پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر پڑوسی سے تو آدمی جس وقت جدا ہونا چاہے ہوسکتا ہے (مقامی اور رہائشی پڑوسی سے نہیں ہوسکتا)
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ لِرَسُولِهِ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے کی تفسیر میں فرمایا کہ اگر میں اتناعرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف (علیہ السلام) رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ آمَنَ بِي عَشْرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَالَ شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ بَيْنَمَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَئِنْ كَانَ مَا ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا لَقَدْ هَلَكْنَا فَقَالَتْ إِنَّمَا الْهَالِكُ مَنْ هَلَكَ فِيمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ قَالَتْ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ فَهَلْ تَدْرِي لِمَ ذَلِكَ إِذَا حَشْرَجَ الصَّدْرُ وَطَمَحَ الْبَصَرُ وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ وَتَشَنَّجَتْ الْأَصَابِعُ فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللَّهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
شریح بن ہانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں تھا وہاں حضرت ابوہریرہ ؓ کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے جو بات ذکر کی ہے اگر وہ صحیح ہے تو ہم ہلاک ہوگئے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ہلاک تو وہی ہوتا ہے جو نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے مطابق ہلاک ہو بات کیا ہے؟ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سنی ہوئی روایت ذکر کی انہوں نے فرمایا میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے بھی نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہے؟ جب دل دہلنے لگیں آنکھیں چکا چوند ہوجائیں جسم کی کھال کانپنے لگے اور انگلیوں میں تشنّج کی کیفیت پیدا ہوجائے (موت کا وقت قریب آجائے) اس وقت جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ رَغِمَ أَنْفُ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا عِنْدَهُ الْكِبَرُ لَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اس آدمی کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے والدین میں سے ایک یا دونوں پر اس کی موجودگی میں بڑھاپا آیا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرا سکیں (خدمت کر کے انہیں خوش نہ کرنے کی وجہ سے)
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُوشِكُ أَنْ يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ عَشْرَةٍ تِسْعَةٌ وَيَبْقَى وَاحِدٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے اور صرف ایک آدمی بچے گا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأُدُمُهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ قَالَ إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ قَالَ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ أَيَّامَ الْغُرِّ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا اس کے ساتھ چٹنی اور سالن بھی تھا اس نے یہ سب چیزیں لا کر نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھ دیں نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا اور صحابہ کرام ؓ کو کھانے کا حکم دے دیا اس دیہاتی نے بھی ہاتھ روکے رکھا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو پھر ایام بیض کے روزے رکھا کرو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ فَكَانَ أَهْلُ الشَّامِ يَمُرُّونَ بِأَهْلِ الصَّوَامِعِ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ فَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ
سہل بن ابی صالح رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوا (میں نے دیکھا کہ) شام کے لوگ جب کسی گرجے کے لوگوں پر گذرتے تو انہیں سلام کرتے میں نے اس موقع پر اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان سنا ہے کہ انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تُنْتِجُونَ أَنْعَامَكُمْ هَلْ تَكُونُ فِيهَا جَدْعَاءُ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا قَالَ رَجُلٌ وَأَيْنَ هُمْ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ قَالَ قَيْسٌ مَا أَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا كَانَ قَدَرِيًّا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تمہارے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟ بعد میں تم خود ہی اس کی ناک کاٹ دیتے ہو ایک آدمی نے پوچھا کہ یہ بچے کہاں ہوں گے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے؟