صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَوْ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَوْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ فُلَيْحٌ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ وَقَالَ أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ قَالَ وَحْدَهُ ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ فَلَمْ يَشُكَّ يَعْنِي فُلَيْحًا قَالَ عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ فَحَدَّثَنَاهُ سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستہ میں ہجرت کرے یا اپنے وطن مولود میں ہی بیٹھا رہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم لوگوں کو یہ بات نہ بتادیں؟ نبی کریم ﷺ نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جہنیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے جب تم اللہ سے جنت مانگا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ جنت کا مرکز اور سب سے اعلیٰ ترین حصہ ہے اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمُرِ وَالْمَالِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَسُرَيْجٌ قَالَا ثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَزَاوَرُونَ فِيهَا قَالَ سُرَيْجٌ لَيَتَرَاءَوْنَ فِيهَا كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الشَّرْقِيَّ وَالْكَوْكَبَ الْغَرْبِيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ الطَّالِعَ فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ قَالَ بَلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ أَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ وَقَالَ سُرَيْجٌ أَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل جنت ایک دوسرے کو جنت میں اسی طرح دیکھیں جیسے تم لوگ روشن ستارے کو مشرقی اور مغربی ستارے کو مختلف درجات میں کم وبیش دیکھتے ہو صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا یہ لوگ انبیاء کرام ؓ ہوں گے؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کی۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ وَلَا غَمٍّ وَلَا أَذًى حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهِنَّ وَضَرَّائِهِنَّ وَسَرَّائِهِنَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُنَّ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ ثِنْتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَوْ ثِنْتَانِ فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ وَاحِدَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَوْ وَاحِدَةٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی مشکلات تکالیف اور خوشیوں پر صبر شکر کرے اللہ ان بچیوں پر اس کی مہربانی کے سبب اس شخص کو جنت میں اپنے فضل سے داخلہ عطاء فرمائے گا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر دو بیٹیاں ہوں تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر ایک بیٹی ہو تو؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْشِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ أَنْ تَقُولَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ أَبُو بَلْجٍ وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو قَالَ أَبُو بَلْجٍ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ لَا إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابوہریرہ ؓ کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے میں نے کہا ضرور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یوں کہا کرو۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ جسے سن کر اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے آپ کو سپرد کردیا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيعُ الْخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ وَكَانَ يَشُوبُهُ بِالْمَاءِ وَكَانَ مَعَهُ فِي السَّفِينَةِ قِرْدٌ قَالَ فَأَخَذَ الْكِيسَ وَفِيهِ الدَّنَانِيرُ قَالَ فَصَعِدَ الذَّرْوَ يَعْنِي الدَّقَلَ فَفَتَحَ الْكِيسَ فَجَعَلَ يُلْقِي فِي الْبَحْرِ دِينَارًا وَفِي السَّفِينَةِ دِينَارًا حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِيهِ شَيْءٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِكُمْ قَالَ وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ وَأَوْجَزُ قَالَ وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنْ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّ
ابوخالد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح آپ کو نماز پڑھایا کرتے تھے؟ (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں اسی کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قیام صرف اتنا ہوتا تھا کہ مؤذن مینار سے نیچے اتر کر صف تک پہنچ جائے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنْ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَأُذُنَانِ يَسْمَعُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ فَيَقُولُ إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَالْمُصَوِّرِينَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جہنم سے ایک کھوپڑی برآمد ہوگی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتی ہوگی اور دو کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہوگی اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولتی ہوگی اور وہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے ہر سرکش ظالم پر اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے والوں پر اور تصویر بنانے والوں پر۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہاری امامت تم ہی میں کا ایک فرد کرے گا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالُوا وَمَنْ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ جَارٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قِيلَ وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا واللہ وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ کون؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کے بوائق سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو کسی نے بوائق کا معنی پوچھا تو فرمایا شر۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَبُو مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي أَخْذَ الْأُمَمِ قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ قَالَ وَمَا النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گذشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلانہ ہوجائے صحابہ ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں؟
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأَدَمُهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ قَالَ إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ الشَّهْرِ قَالَ إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ الْأَيَّامَ الْغُرَّ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا اس کے ساتھ چٹنی اور سالن بھی تھا اس نے یہ سب چیزیں لا کر نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھ دیں نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا اور صحابہ کرام ؓ کو کھانے کا حکم دے دیا اس دیہاتی نے بھی ہاتھ روکے رکھا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو پھر ایام بیض کے روزے رکھا کرو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ادْنُوَا فَكُلَا قَالَا إِنَّا صَائِمَانِ قَالَ ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مر الظہران نامی جگہ پر کھانا پیش کیا گیا نبی کریم ﷺ نے حضرت صدیق اکبر ؓ اور فاروق اعظم ؓ سے فرمایا آئیے کھانا کھائیے دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم روزے سے ہیں نبی کریم ﷺ نے دیگر صحابہ ؓ سے فرمایا اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے سواری تیار کرو اپنے ساتھیوں کے لئے محنت کرو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ فَتَقُولَ إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قبائل عرب میں سب سے جلدی قبیلہ قریش فنا ہوگا عنقریب ایک عورت جوتی لے کر گذرے گی اور کہے گی کہ یہ ایک قریشی کی جوتی ہے۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَرَقَ عَبْدُ أَحَدِكُمْ فَلْيَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا غلام چوری کرے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَخَمْسِينَ خَرَجْتُ مَعَ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بغیر قبضہ غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا ہے۔