حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِشِمَالِهِ وَقَالَ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے نیزیہ بھی فرمایا کہ دونوں جوتیاں پہنا کرو۔ (ایسا نہ کیا کرو کہ ایک پاؤں میں جوتی ہو اور دوسرے میں نہ ہو جیسا کہ بعض لوگ کرتے تھے)
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نمازوتر پڑھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو؟
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا نَخَسَهُ الشَّيْطَانُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ نَخْسَةِ الشَّيْطَانِ إِلَّا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا اس کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ میں مریم اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصرہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے ہے اور رات اور دن کے فرشتے نماز فجر کے وقت جمع ہوتے ہیں پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کہنے لگے اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق میں یہ آیت پڑھ لو کہ فجر کے وقت قرآن پڑھنا مشہود ہے (اس پر فرشتے گواہ بن جاتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت حاضر ہوتے ہیں )
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالَ قَالُوا أَيُّمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب زمانہ قریب آجائے گا لوگوں کے دلوں میں بخل اور کنجوسی انڈیل دی جائے گی۔ فتنوں کا ظہور ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی صحابہ کرام ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ہرج سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قتل قتل۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَقُولُونَ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ لے تو تم اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے سو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ وَمَنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ قَالُوا وَمَا الْقِيرَاطَانِ قَالَ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام ؓ نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ إِبِلٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ نَعَمْ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ وَمِمَّا ذَاكَ قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ صَاحَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیاہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سوائے تین مسجدوں کے کسی اور مسجد کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے ایک تو مسجد حرام۔ دوسرے میری یہ مسجد ( مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَشَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تُسْتَحْصَدَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی رہتی ہیں۔ اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي قَالَ يُرِيدُ عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ وَآخِرُ مَنْ يُحْشَرُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يَنْعِقَانِ لِغَنَمِهِمَا فَيَجِدَاهَا وُحُوشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ حُشِرَا عَلَى وُجُوهِهِمَا أَوْ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آ کر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے آخر میں وہاں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے جمع ہوں گے جو اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے۔ لیکن وہاں پہنچ کر وحشی جانوروں کو پائیں گے۔ یہاں تک کہ جب وہ ثنیتہ الوداع نامی گھاٹی پر پہنچیں گے تو اپنے چہروں کے بل گرپڑیں گے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
قَالَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما لیتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطاء فرمادیتے ہیں اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں دینے والے تو اللہ تعالیٰ ہیں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَذَرُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ بِجَرَّايَ قَالَ يَزِيدُ مِنْ أَجْلِي الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ میرے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی میں خود ہی دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گذرے تو اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر عمل نہ کرسکے تو فقط ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا اور اگر وہ اس پر عمل کرلے تو صرف ایک گناہ ہی لکھا جاتا ہے۔ اگر اس نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ گناہ نہیں لکھا جاتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُدْرَ مَا فَعَلَتْ وَإِنِّي لَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَا تَشْرَبُ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ كَعْبًا فَقَالَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ لِي ذَلِكَ مِرَارًا فَقُلْتُ أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی ایک جماعت گم ہوگئی کسی کو پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کہاں گئی؟ میرا تو خیال یہی ہے کہ وہ چوہا ہے کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھاجائے تو وہ اسے پی لیتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب احبار (رح) (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کو سنائی تو وہ کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے مجھ سے یہی سوال کئی مرتبہ کیا۔ بالاخر میں نے ان سے کہا کیا تم نے تورات پڑھی ہے؟
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ قَطَنٍ وَهُوَ أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو قَطَنٍ قَالَ فِي الْكِتَابِ مَرْفُوعٌ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي أَنْظُرُ أَوْ إِنِّي لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔