حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ أَخُفِّفَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ قَالُوا صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَتَمَّ بِهِمْ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالشمالین بن عبد عمرو جو بنی زہرہ کا حلیف تھے نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ کرام ؓ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم ﷺ نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ أَوْ أَحَدِهِمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص امام بن کر نماز پڑھایا کرے تو ہلکی نماز پڑھایا کرے کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور اہل حاجت سب ہی ہوتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُؤْمِنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو اللہم ربنا و لک الحمد کہہ کر یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطاء فرما اے اللہ قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں دی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَسْتُ بِتَارِكِهِنَّ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ نَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى قَالَ ثُمَّ أَوْهَمَ الْحَسَنُ فَجَعَلَ مَكَانَ الضُّحَى غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے جنہیں میں سفر و حضر میں کبھی نہ چھوڑوں (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی۔ بعد میں حسن کو وہم ہوا تو وہ اس کی جگہ۔۔ غسل جمعہ۔۔ کا ذکر کرنے لگے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ عِيَاضٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَيْضًا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أُسَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہیے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ نَائِمًا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَأَرَادَ الْوُضُوءَ فَلَا يَضَعْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَصُبَّ عَلَى يَدِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَجَدَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّمَا أَتَوَضَّأُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
ابراہیم بن عبداللہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے ہوئے دیکھا وہ فرمانے لگے میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اس لئے وضو کر رہا ہوں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَكُمْ قَوْمٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَتْ صَنَمًا يَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کی سرینیں ذوالخلصہ کے گرد حرکت نہ کرنے لگیں ذوالخلصہ ایک بت کا نام ہے جس کی پوجا قبیلہ دوس کے لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْهَبُ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَيَذْهَبُ قَيْصَرُ فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُنْفِقُنَّ كُنُوزَهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلًا وَإِمَامًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهَا أَحَدٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ بِكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّكُمْ أَوْ قَالَ إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہاری امامت تم ہی میں کا ایک فرد کرے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ مِنْ فَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ وسلم مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسُبُّ أَحَدُكُمْ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمَ فَإِنَّ الْكَرْمَ هُوَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا بھلا نہ کہے کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے اور انگور کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مسلم ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ قَالَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِنْ شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ ابن آم مجھے ایذاء دیتا ہے کہتا ہے کہ زمانے کی تباہی حالانکہ میں ہی زمانے کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی اس کے رات دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور جب چاہوں گا ان دونوں کو اپنے پاس کھینچ لوں گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی شرمگاہ میں آتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتُمْ رَجُلًا يَقُولُ قَدْ هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ يَقُولُ اللَّهُ إِنَّهُ هُوَ هَالِكٌ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَابْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ و عَنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔