حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُعِنَتْ الْخَمْرُ عَلَى عَشْرَةِ وُجُوهٍ لُعِنَتْ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا وَشَارِبُهَا وَسَاقِيهَا وَبَائِعُهَا وَمُبْتَاعُهَا وَعَاصِرُهَا وَمُعْتَصِرُهَا وَحَامِلُهَا وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ وَآكِلُ ثَمَنِهَا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شراب پر دس طرح سے لعنت کی گئی ہے نفس شراب پر اس کے پینے والے پر پلانے والے پر فروخت کرنے والے پر خریدار پر نچوڑنے والے پر اور جس کے لئے نچوڑی گئی اٹھانے والے پر اور جس کے لئے اٹھائی گئی اور اس کی قیمت کھانے والے پر بھی لعنت کی گئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُوسَى قَالَ وَكِيعٌ نَرَى أَنَّهُ ابْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ عَلَيْهَا لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جن الفاظ سے کھایا کرتے تھے وہ یہ تھے لا و مقلب القلوب (نہیں مقلب القلوب کی قسم! )
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا أَوْ حَامِلًا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے پھر طہر کے بعد اسے طلاق دے دے یا امید کی صورت میں ہو تب بھی طلاق دے سکتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ وَقَالَ إِسْرَائِيلُ ابْنِ عِصْمَةَ قَالَ وَكِيعٌ هُوَ ابْنُ عُصْمٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي ثَقِيفَ مُبِيرًا وَكَذَّابًا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاکت میں ڈالنے والا شخص اور ایک کذاب ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعتیں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ شدید عذاب مصوروں کو ہوگا ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا ان میں روح بھی پھونکو اور انہیں زندگی بھی دو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرِهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری کو سامنے رکھ کر اسے بطور سترہ آگے کر کے نماز پڑھ لی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَا النَّاسُ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ أَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ قُرْآنٌ وَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ قَالَ فَانْحَرَفُوا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ آج رات نبی کریم ﷺ پر قرآن نازل ہوا ہے جس میں آپ ﷺ کو نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہ سنتے ہی ان لوگوں نے نماز کے دوران ہی گھوم کر خانہ کعبہ کی طرف اپنارخ کرلیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا فَضَحَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے بچے کو دنیا میں رسوا کرنے کے لئے اپنے سے اس کے نسب کی نفی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام گواہوں کی موجودگی میں رسوا کرے گا یہ ادلے کا بدلہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود بھی نبی کریم ﷺ ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفّٰت (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَسِيدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ لَأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَوَلَدَتْ لَهُ وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے دور سعادت میں یہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں میں سب سے بہتر نبی کریم ﷺ ہیں پھر حضرت ابوبکر ؓ پھر حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ کو تین فضیلتیں ملی ہیں اور ان میں سے ہر ایک فضیلت ایسی ہے جو مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے نبی کریم ﷺ نے ان سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کیا اور ان سے ان کے یہاں اولاد ہوئی نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کروا دئیے سوائے ان کے دروازے کے اور غزوہ خیبر کے دن انہیں جھنڈا عطاء فرمایا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ الْجِهَادُ حَسَنٌ هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں نماز قائم کرنا زکوٰۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ایک آدمی نے پوچھا جہاد فی سبیل اللہ؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا جہاد ایک اچھی چیز ہے لیکن اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے ہم سے یہی چیزیں بیان فرمائی تھیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ زَاذَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ وَرَجُلٌ يُؤَذِّنُ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَحَقَّ مَوَالِيهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تین طرح کے لوگ مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے ایک وہ آدمی جو لوگوں کا امام ہو اور لوگ اس سے خوش ہوں ایک وہ آدمی جو روزانہ پانچ مرتبہ اذان دیتا ہوں اور ایک وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے آقا کا حق ادا کرتا ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الطَّوِيلُ عَنْ أَبِي يَحْيَى القَتَّاتِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَعْظُمُ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ حَتَّى إِنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ وَإِنَّ غِلَظَ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہنم میں اہل جہنم کے جسم موٹے ہوجائیں گے حتٰی کہ ان کے کان کی لو سے لے کر کندھے تک سات سال کی مسافت ہوگی کھال کی موٹائی ستر گز ہوگئی اور ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقْبَى وَقَالَ مَنْ أُرْقِبَ فَهُوَ لَهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رقبٰی (کسی کی موت تک کوئی مکان یا زمین دینے) سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے جس کے لئے رقبیٰ کیا گیا وہ اسی کا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ إِنَّ الْكُفْرَ مِنْ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرے سے نکلے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا فتنہ یہاں سے ہوگا جہاں سے شیطان کا سینگ نکلتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر جنگل میں انسان کو ایسا پانی ملے جہاں جانور اور درندے بھی آتے ہوں تو کیا اس سے وضو کیا جاسکتا ہے؟ میں نے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب پانی دو مٹکوں کے برابر ہو تو اس میں گندگی سرایت نہیں کرتی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَصَفَهُ لِأُمَّتِهِ وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا مَنْ كَانَ قَبْلِي إِنَّهُ أَعْوَرُ وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ سے پہلے جو نبی بھی آئے انہوں نے اپنی امت کے سامنے دجال کا حلیہ ضرور بیان کیا ہے اور میں تمہیں اس کی ایک ایسی علامت بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی اور وہ یہ کہ دجال کانا ہوگا اللہ کانا نہیں ہوسکتا اس کی دائیں آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ الْعَصْرَ مُتَعَمِّدًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص نماز عصر عمداً چھوڑ دے حتی کہ سورج غروب ہوجائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہوگیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ الْقَاصُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الصَّنْعَانِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَأَحْسَبُهُ أَنَّهُ قَالَ سُورَةَ هُودٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قیامت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے وہ سورت تکویر سورت انفطار اور سورت انشقاق پڑھ لے غالباً سورت ہود کا بھی ذکر فرمایا۔