حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو غلام اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرے اور اپنے آقا کا بھی ہمدرد ہو اسے دہرا اجر ملے گا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان مصوروں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جنہیں تم نے بنایا تھا انہیں زندگی بھی دو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّلَقِّي
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تاجروں سے بالا بالا ملنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کے سامنے کھانا لا کر رکھ دیا جائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو وہ فارغ ہونے سے پہلے نماز کے لئے کھڑا نہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا رات کو اپنی سب سے آخری نماز وتر کو بناؤ۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ كَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ فَأَتَى عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَطِعْ أَبَاكَ
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میری جو بیوی تھی وہ حضرت عمر ؓ کو ناپسند تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو میں نے اسے طلاق دینے میں لیت ولعل کی تو حضرت عمر ؓ نبی کریم ﷺ کے پاس آگئے نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے والد کی اطاعت کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيَأْتِهَا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت ولیمہ دی جائے تو اسے اس میں شرکت کرنا چاہئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ أَوْ حَرِيرٍ تُبَاعُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ تَلْبَسُهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لِلْوُفُودِ قَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ فَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ مِنْهَا بِحُلَّةٍ قَالَ سَمِعْتُ مِنْكَ تَقُولُ مَا قُلْتَ وَبَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا قَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تَكْسُوَهَا
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسے خرید لیتے تو جمعہ کے دن پہن لیا کرتے یا وفود کے سامنے پہن لیا کرتے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو چند دن بعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کہیں سے چند ریشمی جوڑے آئے نبی کریم ﷺ نے ان میں سے ایک جوڑا حضرت عمر ؓ کو بھی بھجوادیا حضرت عمر ؓ کہنے لگے کہ آپ نے خود ہی تو اس کے متعلق وہ بات فرمائی تھی جو میں نے سنی تھی اور اب آپ ہی نے مجھے یہ ریشمی جوڑا بھیج دیا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں یہ اس لئے بھجوایا ہے کہ تم اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے استعمال میں لے آؤ یا کسی کو پہنا دو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُقْبِلًا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ وَفِيهِ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آتے ہوئے اپنی سواری پر ہی نفل نماز پڑھتے رہتے تھے خواہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ تم جہاں بھی چہرہ پھیرو گے وییں اللہ کی ذات موجود ہے۔ "
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسَاجِدَ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس درخت سے کچھ کھا کر آئے (کچالہسن) تو وہ مسجد میں نہ آئے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الطَّعَامَ جُزَافًا بِأَعْلَى السُّوقِ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ حَتَّى يَنْقُلُوهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں لوگ اندازے سے غلے کی خریدو فروخت کرلیتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اس طرح بیع کرنے سے روک دیا جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ الْجُيُوشِ أَوْ السَّرَايَا أَوْ الْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَوْ إِذَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ أَوْ فَدْفَدٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا وَيَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب حج جہاد یا عمرہ سے واپس آتے تو زمین کے جس بلند حصے پر چڑھتے یہ دعا پڑھتے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی حکومت ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے توبہ کرتے ہوئے لوٹ رہے ہیں سجدہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے واپس آرہے ہیں اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو اکیلے ہی شکت دے دی۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمادیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ وَاصَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَقَالُوا نَهَيْتَنَا عَنْ الْوِصَالِ وَأَنْتَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے مہینے میں ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھے لوگوں نے بھی ایساہی کیا نبی کریم ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیں تو مسلسل کئی دن کا روزہ رکھنے سے منع کر رہے ہیں اور خود رکھ رہے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے تو اللہ کی طرف سے کھلا پلادیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِعْ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے الاّ یہ کہ اسے اس کی اجازت مل جائے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے آگے ایک ایساحوض ہے جو جرباء اور اذرح کے درمیانی فاصلے جتنابڑا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ وَخَرَجَ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور جب باہر جاتے تو ثنیہ سفلی سے باہر جاتے۔