حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 26 · 849 hadiths · Page 23 of 43

3807Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ مِنَّا عَلَى بَعِيرٍ كَانَ عَلِيٌّ وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا كَانَ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ فَيَقُولُ مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ مِنِّي وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنْ الْأَجْرِ مِنْكُمَا حَدَّثَنَاه عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَإِسْنَادِهِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح حضرت ابو لبابہ ؓ اور حضرت علی ؓ نبی ﷺ کے ساتھی تھے، جب نبی ﷺ کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی ﷺ نے فرمایا تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

3808Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُصْعَدُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ وَقَالَ مَرَّةً وَمَا يُعْرَجُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ خِلَالٍ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جس رات نبی ﷺ کی معراج ہوئی، آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی بھی لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں ہے اور زمین سے اوپر چڑھنے والی چیزوں کی آخری حد یہی ہے، یہاں سے ان چیزوں کو اٹھالیا جاتا ہے اور آسمان سے اترنے والی چیزیں بھی یہیں آکر رکتی ہیں اور یہاں سے انہیں اٹھالیا جاتا ہے اور فرمایا کہ جب سدرہ المنتہی کو ڈھانپ رہی تھی وہ چیز جو ڈھانپ رہی تھی اس سے مراد سونے کے پروانے ہیں، بہرحال! اس موقع پر نبی ﷺ کو تین چیزیں عطاء ہوئیں، پانچ نمازیں، سورت بقرہ کی اختتامی آیات اور یہ خوشخبری کہ ان کی امت کے ہر اس شخص کی بخشش کردی جائے گی گو اللہ کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

3809Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ فُرَاتٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْجَرَّاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ كَانَ أَبِي عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَسَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ

عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے۔

3810Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا كَثِيرٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُبِسْنَا عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ثُمَّ قُلْتُ نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی ﷺ کو چار نمازوں کے ان کے وقت پر ادا کرنے سے مشغول کردیا، میری طبیعت پر اس کا بہت بوجھ تھا کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ہیں، اللہ کے راستے میں ہیں (پھر ہماری نمازیں قضاء ہوگئیں) پھر نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا، انہوں اذان دی، اقامت کہی اور نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور ہمارے پاس تشریف لا کر فرمایا تمہارے علاوہ اس روئے زمین پر کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو اللہ کا ذکر کر رہی ہو۔

3811Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ كَانَ أَبِي عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَسَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ

عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے۔

3812Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَوْمًا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرُعِدَ حَتَّى رُعِدَتْ ثِيَابُهُ ثُمَّ قَالَ نَحْوَ ذَا أَوْ شَبِيهًا بِذَا

مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ " جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا " اتنا کہتے ہی وہ کانپنے لگے اور ان کے کپڑے ہلنے لگے اور کہنے لگے اسی طرح فرمایا یا اس کے قریب قریب فرمایا (احتیاط کی دلیل) عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں میرے والد حاضر تھے انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خود نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے۔

3813Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو هَاشِمٍ وَحَمَّادٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ نَقُولُ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ قَالَ فَعَلَّمَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسْتُمْ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَفِي الْأَرْضِ وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُلْتَهَا أَصَابَتْ كُلَّ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ أَوْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ أَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی ﷺ نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو یوں کہنا چاہئے تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد جو چاہے دعاء مانگے۔

3814Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا بِقَرْيَةِ نَمْلٍ فَأُحْرِقَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْبَغِي لِبَشَرٍ أَنْ يُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ہمراہ تھے، ہمارا گذر ایک ایسی جگہ پر ہوا جہاں چینٹیاں بہت زیادہ تھیں، ایک شخص نے چیونٹیوں کے ایک بل کو آگ لگا دی، نبی ﷺ نے فرمایا کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب دے۔

3815Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ ذَرٍّ عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ نَحْنُ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ دو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو ایک عورت جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی، کھڑی ہو کر کہنے لگی یا رسول اللہ! ﷺ اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی بہت کرتی ہو۔

3816Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ

حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا اور فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں کہے کہ وہ اسے بھلا دی گئی۔

3817Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ نَفَرٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَاحِبًا لَنَا اشْتَكَى أَفَنَكْوِيهِ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتُمْ فَاكْوُوهُ وَإِنْ شِئْتُمْ فَارْضِفُوهُ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی کو کچھ بیماری ہے کیا ہم داغ کر اس کا علاج کرسکتے ہیں؟ نبی ﷺ نے کوئی جواب دینے سے تھوڑی دیر سکوت فرمایا: اور کچھ دیر بعد فرمایا چاہو تو اسے داغ دو اور چاہو تو پتھر گرم کر کے لگاؤ۔

3818Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا أَوْ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔

3819Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَيْسَ لَنَا شَيْءٌ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ہم نوجوان ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ہمراہ تھے، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ہم سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔

3820Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ لِلْغَدَاءِ قَالَ أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ عَاشُورَاءَ قَالَ وَتَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا أُنْزِلَ رَمَضَانُ تُرِكَ

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دس محرم کے دن اشعث بن قیس حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، کہنے لگے اے ابو محمد! کھانے کے لئے آگے بڑھو، اشعث کہنے لگے کہ آج یوم عاشورہ نہیں ہے؟ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا تمہیں معلوم بھی ہے کہ یوم عاشورہ کیا چیز ہے؟ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ اس دن کا روزہ رکھتے تھے جب رمضان میں روزوں کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ متروک ہوگیا۔

3821Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا زَيْدُ بْنُ حُدَيْرٍ فَدَخَلَ عَلَيْنَا خَبَّابٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَكُلُّ هَؤُلَاءِ يَقْرَأُ كَمَا تَقْرَأُ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَمَرْتَ بَعْضَهُمْ فَقَرَأَ عَلَيْكَ قَالَ أَجَلْ فَقَالَ لِي اقْرَأْ فَقَالَ ابْنُ حُدَيْرٍ تَأْمُرُهُ يَقْرَأُ وَلَيْسَ بِأَقْرَئِنَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأُخْبِرَنَّكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمِكَ وَقَوْمِهِ قَالَ فَقَرَأْتُ خَمْسِينَ آيَةً مِنْ مَرْيَمَ فَقَالَ خَبَّابٌ أَحْسَنْتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا أَقْرَأُ شَيْئًا إِلَّا هُوَ قَرَأَهُ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِخَبَّابٍ أَمَا آنَ لِهَذَا الْخَاتَمِ أَنْ يُلْقَى قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَا تَرَاهُ عَلَيَّ بَعْدَ الْيَوْمِ وَالْخَاتَمُ ذَهَبٌ

علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ زید بن حدیر بھی تھے، تھوڑی دیر بعد حضرت خباب ؓ بھی تشریف لے آئے اور کہنے لگے اے ابو عبدالرحمن! کیا یہ سب لوگ اسی طرح قرآن پڑھتے ہیں جیسے آپ پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اگر آپ چاہیں تو ان میں سے کسی کو پڑھنے کا حکم دیں، وہ آپ کو پڑھ کر سنا دے گا، انہوں نے کہا اچھا، پھر مجھ سے فرمایا کہ تم پڑھ کر سناؤ، زید بن حدیر کہنے لگے کہ آپ ان سے پڑھنے کو کہہ رہے ہیں حالانکہ یہ ہم میں کوئی بڑے قاری نہیں ہیں؟ انہوں نے فرمایا خبردار اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاسکتا ہوں کہ نبی ﷺ نے تمہاری قوم اور اس کی قوم کے متعلق کیا فرمایا ہے؟ بہرحال! میں نے سورت مریم کی پچاس آیات انہیں پڑھ کر سنائیں، حضرت خباب ؓ نے میری تحسین فرمائی، حضرت ابن مسعود ؓ فرمانے لگے کہ میں جو کچھ پڑھ سکتا ہوں، وہی یہ بھی پڑھ سکتا ہے، پھر حضرت ابن مسعود ؓ نے حضرت خباب ؓ سے فرمایا کیا اب بھی اس انگوٹھی کو اتار پھینکنے کا وقت نہیں آیا؟ حضرت خباب ؓ نے فرمایا آج کے بعد آپ اسے میرے ہاتھ میں نہیں دیکھیں گے، وہ انگوٹھی سونے کی تھی۔

3822Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الرُّكَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ لَنَا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ثُمَّ أَمْسَكَ عَنْهُ يَعْنِي شَرِيكٌ قَالَ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ إِلَى قُلٍّ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سود جتنا مرضی بڑھتا جائے اس کا انجام ہمیشہ قلت کی طرف ہوتا ہے۔

3823Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَيَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ وَالذُّبَابِ قَالَ يَزِيدُ الْفَرَاشِ أَوْ الذُّبَابِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ الْفَرَاشِ وَالذُّبَابِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے جس چیز کو بھی حرام قرار دیا ہے وہ جانتا ہے کہ اسے تم میں سے جھانک کر دیکھنے والے دیکھیں گے، آگاہ رہو کہ میں تمہیں جہنم کی آگ میں گرنے سے بچانے کے لئے تمہاری کمر سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں ایسے گر رہے ہو جیسے پروانے گرتے ہیں یا مکھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

3824Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ زَمِيلَهُ يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ وَأَبُو لُبَابَةَ فَإِذَا حَانَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ فَيَقُولُ مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنْ الْأَجْرِ مِنْكُمَا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح حضرت ابو لبابہ ؓ اور حضت علی ؓ نبی ﷺ کے ساتھی تھے، جب نبی ﷺ کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی ﷺ نے فرمایا تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔

3825Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ سَيَلِيكُمْ أُمَرَاءُ يَشْتَغِلُونَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلُّوهَا لِوَقْتِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ عنقریب حکومت کی باگ دوڑ کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آجائے گی جو سنت کو مٹا دیں گے اور نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے لیکن تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا، پھر کھڑے ہو کر وہ درمیان میں نماز پڑھنے لگے اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

3826Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ لَيْسَ ذَاكَ هُوَ الشِّرْكَ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی " وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا۔۔۔۔۔۔،" تو لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گذری اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو تم مراد لے رہے ہو، کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو عبد صالح (حضرت لقمان علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمائی تھی کہ پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک بہت بڑاظلم ہے، اس آیت میں بھی شرک ہی مراد ہے۔