عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 6 of 82

1841Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ فِي قَمِيصِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَحُلَّةٍ نَجْرَانِيَّةٍ الْحُلَّةُ ثَوْبَانِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا، ایک اس قمیص میں جس میں آپ ﷺ کا وصال ہوا تھا اور ایک نجرانی حلے میں اور حلے میں دو کپڑے ہوتے ہیں۔

1842Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ حالت احرام میں بھی تھے اور روزے سے بھی تھے۔

1843Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کردیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔

1844Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هِشَامٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وصال کے وقت عمر مبارک ٦٥ برس تھی۔

1845Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ وَفِي قَوْلِهِ يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ قَالَ كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ وَفِي قَوْلِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ قَالَ جَوْفُ اللَّيْلِ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا ذَهَابُ الْعِلْمِ قَالَ هُوَ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ مِنْ الْأَرْضِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آخری وہ سختی جس سے مسلمان کا سامنا ہوگا، وہ موت ہے، نیز وہ فرماتے ہیں کہ " یوم تکون السماء کالمہل " میں لفظ " مہل " سے مراد زیتون کے تیل کا وہ تلچھٹ ہے جو اس کے نیچے رہ جاتا ہے اور " آناء اللیل " کا معنی رات کا درمیان ہے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ علم کے چلے جانے سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد زمین سے علماء کا چلے جانا ہے۔

1846Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنْ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جس کے پیٹ میں قرآن کا کچھ حصہ بھی نہ ہو، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔

1847Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے، پھر آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دے دیا گیا اور آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے حبیب ﷺ! آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار! مجھے عمدگی کے ساتھ داخل فرما اور عمدگی کے ساتھ نکلنا نصیب فرما اور اپنے پاس سے مجھے ایسا غلبہ عطاء فرما جس میں تیری مدد شامل ہو۔

1848Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہوسکتے اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔

1849Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے اور سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " ہم نے جس طرح مخلوق کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، اسی طرح ہم اسے دوبارہ بھی پیدا کریں گے "۔

1850Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔

1851Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةُ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حضرت حمزہ ؓ کی بیٹی کا ذکر کیا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے (دراصل نبی ﷺ اور حضرت امیرحمزہ ؓ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)۔

1852Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَمَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا: اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اس سے نبی ﷺ کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔

1853Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرِنِي الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْكَ فَإِنِّي مِنْ أَطَبِّ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُرِيكَ آيَةً قَالَ بَلَى قَالَ فَنَظَرَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ ادْعُ ذَلِكَ الْعِذْقَ قَالَ فَدَعَاهُ فَجَاءَ يَنْقُزُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَقَالَ الْعَامِرِيُّ يَا آلَ بَنِي عَامِرٍ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَسْحَرَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس بنو عامر کا ایک آدمی آیا، اس نے کہا یا رسول اللہ! مجھے اپنی وہ مہر نبوت دکھائیے جو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہے، میں لوگوں میں بڑا مشہور طبیب ہوں (اس کا علاج کردیتا ہوں) نبی ﷺ نے اس کی بات کو ٹالتے ہوئے فرمایا کیا میں تمہیں ایک معجزہ نہ دکھاؤں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، نبی ﷺ نے کھجور کے ایک درخت پر نگاہ ڈال کر فرمایا اس ٹہنی کو آواز دو، اس نے آواز دی تو وہ ٹہنی اچھلتی کودتی ہوئی آ کر اس کے سامنے کھڑی ہوگئی، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اپنی جگہ واپس چلی جاؤ، چناچہ وہ اپنی جگہ واپس چلی گئی، یہ دیکھ کر بنو عامر کا وہ آدمی کہنے لگا اے آل بنی عامر! میں نے آج کی طرح کا زبردست جادوگر کبھی نہیں دیکھا۔

1854Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَإِنَّ عَادًا أُهْلِكَتْ بِالدَّبُورِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا! باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔

1855Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى قَالَ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِهِ مَرَّتَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ " آنکھ نے جو دیکھا، دل نے اس کی تکذیب نہیں کی " سے مراد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسم نے اپنے دل کی آنکھوں سے اپنے پروردگار کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے۔

1856Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنِ ابْنِ حُدَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وُلِدَتْ لَهُ ابْنَةٌ فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا يَعْنِي الذَّكَرَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہو، وہ اسے زندہ درگور کرے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھے اور نہ ہی لڑکے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔

1857Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا فَأَقَمْنَا تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سفر پر روانہ ہوئے، آپ ﷺ وہاں ١٩ دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے، اس لئے ہم بھی جب سفر کرتے ہیں اور ١٩ دن تک ٹھہرتے ہیں تو دو دو رکعت کر کے یعنی قصر کر کے نماز پڑھتے ہیں اور جب اس سے زیادہ دن ٹھہرتے ہیں تو چار رکعتیں یعنی پوری نماز پڑھتے ہیں .

1858Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مِنْ عَبِيدِ الْمُشْرِكِينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کردیا، جو نبی ﷺ کے پاس آگئے تھے۔

1859Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَكَانَ عِكْرِمَةُ يَكْرَهُ بَيْعَ الْفَصِيلِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیع وشراء میں محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ عکرمہ اس کھیتی کی بیع وشراء کو مکروہ جانتے تھے جو ابھی تیار نہ ہوئی ہو۔

1860Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشَ يَنْهَاهُمْ أَنْ يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اہل جرش کی طرف ایک خط لکھا جس میں انہیں اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں۔