عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 3 of 82

1781Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بِالْبَيْتِ فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ صَدَقْتَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، حضرت امیر معاویہ ؓ خانہ کعبہ کے تمام کونوں کا استلام کرنے لگے، حضرت ابن عباس ؓ نے ان سے کہا کہ آپ ان دو کونوں کا استلام کیوں کر رہے ہیں جبکہ نبی ﷺ نے ان کا استلام نہیں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو ترک نہیں کیا جاسکتا، اس پر حضرت ابن عباس ؓ نے یہ آیت پڑھی کہ تمہارے لئے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے، حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔

1782Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ وَبَيْنَ الْعَمَّتَيْنِ وَالْخَالَتَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی اور خالہ کو یا دو پھوپھیوں اور دو خالاؤں کو جمع کرے۔

1783Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا السَّدَى وَالْعَلَمُ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيَّ قَالَ قَالَ خُصَيْفٌ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُصْمَتِ مِنْهُ فَأَمَّا الْعَلَمُ فَلَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش ونگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کے نقش و نگار ریشم کے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

1784Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَامِرِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد مسواک فرمایا کرتے تھے۔

1785Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَرُمِيَ بِنَجْمٍ عَظِيمٍ فَاسْتَنَارَ قَالَ مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ إِذَا كَانَ مِثْلُ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ كُنَّا نَقُولُ يُولَدُ عَظِيمٌ أَوْ يَمُوتُ عَظِيمٌ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ أَكَانَ يُرْمَى بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنْ غُلِّظَتْ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ هَذِهِ السَّمَاءَ الدُّنْيَا ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيُخْبِرُونَهُمْ وَيُخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ سَمَاءً حَتَّى يَنْتَهِيَ الْخَبَرُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَقْذِفُونَ وَيَزِيدُونَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَيَخْطِفُ الْجِنُّ وَيُرْمَوْنَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِذَا قَضَى رَبُّنَا أَمْرًا سَبَّحَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ فَيَقُولُونَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ فَيَقُولُونَ كَذَا وَكَذَا فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ السَّمَاءَ الدُّنْيَا قَالَ وَيَأْتِي الشَّيَاطِينُ فَيَسْتَمِعُونَ الْخَبَرَ فَيَقْذِفُونَ بِهِ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ وَيَرْمُونَ بِهِ إِلَيْهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يَزِيدُونَ فِيهِ وَيَقْرِفُونَ وَيَنْقُصُونَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ چند صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا جب زمانہ جاہلیت میں اس طرح ہوتا تھا تو تم لوگ کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے کہا کہ ہم کہتے تھے کسی عظیم آدمی کی پیدائش یا کسی عظیم آدمی کی موت واقع ہونے والی ہے (راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری (رح) سے پوچھا کیا زمانہ جاہلیت میں بھی ستارے پھینکے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں! لیکن نبی ﷺ کی بعثت کے بعد سختی ہوگئی) نبی ﷺ نے فرمایا ستاروں کا پھینکا جانا کسی کی موت وحیات کی وجہ سے نہیں ہوتا اصل بات یہ ہے کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کردیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ چند صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے، اتنی دیر میں ایک بڑا ستارہ ٹوٹا اور روشن ہوگیا،۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا رب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو حاملین عرش جو فرشتے ہیں وہ تسبیح کرنے لگتے ہیں، ان کی تسبیح سن کر قریب کے آسمان والے بھی تسبیح کرنے لگتے ہیں، حتی کہ ہوتے ہوتے یہ سلسلہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتا ہے، پھر اس آسمان والے فرشتے جو حاملین عرش کے قریب ہوتے ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں بتا دیتے ہیں، اس طرح ہر آسمان والے دوسرے آسمان والوں کو بتا دیتے ہیں، یہاں تک کہ یہ خبر آسمان دنیا کے فرشتوں تک پہنچتی ہے، وہاں سے جنات کوئی ایک آدھ بات اچک لیتے ہیں، ان پر یہ ستارے پھینکے جاتے ہیں، اب جو بات وہ صحیح صحیح بتا دیتے ہیں وہ تو سچ ثابت ہوجاتی ہے لیکن وہ اکثر ان میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کردیتے ہیں۔

1786Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُمَا قَالَا لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَةً عَلَى وَجْهِهِ فَلَمَّا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو با ربار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ ﷺ کو گھبراہٹ ہوتی تو ہم وہ چادر آپ ﷺ کے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ دراصل نبی ﷺ ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔

1787Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِي الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَمَّ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس آئے تو فرمایا کہ ٢٩ کا مہینہ بھی مکمل ہوتا ہے۔

1788Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ

عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ابو القاسم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔

1789Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِنَّ نَبِيُّ اللَّهِ وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ فَقِيلَ لَهُ فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ فَغَضِبَ مِنْهَا وَقَالَ أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض نمازوں میں جہری قراءت فرماتے تھے اور بعض میں خاموش رہتے تھے، اس لئے جن میں نبی ﷺ جہری قراءت فرماتے تھے ان میں ہم بھی قراءت کرتے ہیں اور جن میں آپ ﷺ سکوت فرماتے تھے، ہم بھی ان میں سکوت کرتے ہیں، کسی نے کہا شاید نبی ﷺ سری قراءت فرماتے ہوں؟ اس پر وہ غضب ناک ہوگئے اور کہنے لگے کہ کیا اب نبی ﷺ پر بھی تہمت لگائی جائے گی؟

1790Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

1791Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً وَيُسْنِدُ ذَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھو لیا کرتے تھے اور اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف فرماتے تھے۔

1792Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رِدْفُهُ فَقَالَتْ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ

حضرت فضل ؓ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مزدلفہ کی صبح نبی ﷺ کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل ؓ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! ﷺ حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں!

1793Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے ہم ایک صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گئے، اسے چڑنے کے لئے چھوڑ دیا، لیکن نبی ﷺ نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔

1794Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِسُفْيَانَ قَوْلُهُ إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَذَا فِي الْحَدِيثِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ روزے سے تھے، لیکن جب مقام " کدید " میں پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا اور نبی ﷺ کے آخری فعل کو بطور حجت لیا جاتا ہے، سفیان سے کسی نے پوچھا کہ یہ آخری جملہ امام زہری (رح) کا قول ہے یا حضرت ابن عباس ؓ کا؟ تو انہوں نے فرمایا حدیث میں یہ لفظ اسی طرح آیا ہے۔

1795Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ اقْضِهِ عَنْهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے؟ فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کریں۔

1796Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ نے نبی ﷺ کو کسی بات پر قسم دلائی، نبی ﷺ نے فرمایا قسم نہ دلاؤ۔

1797Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے دی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔

1798Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ارْفَعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وادی محسر میں نہ رکو اور ٹھیکری کی کنکریاں اپنے اوپر لازم کرلو۔

1799Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔

1800Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَمَنْ أَنْتُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَتْ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ " روحاء " نامی جگہ میں تھے کہ سواروں کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی، نبی ﷺ نے انہیں سلام کیا اور فرمایا آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا مسلمان، پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا پیغمبر ہوں، یہ سنتے ہی ایک عورت جلدی سے گئی اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا حج ہوسکتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔