عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 24 of 82

2201Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءٌ حَتَّى يَضْطَجِعَ فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص سجدے کی حالت میں سو جائے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تاآنکہ وہ پہلو کے بل لیٹ جائے، اس لئے کہ جب وہ پہلو کے بل لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے۔

2202Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً أَوْ سَبَاهَا فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ فَقَتَلَهَا فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو قیدی بنا کر گرفتار کرلیا، اس عورت نے اس کی تلوار کے دستے میں اس کے ساتھ مزاحمت کی (اس کی تلوار چھیننے کی کوشش کی) تو اس آدمی نے اسے قتل کردیا، نبی ﷺ کا وہاں سے گذر ہوا تو آپ ﷺ کو ساری بات بتائی گئی، نبی ﷺ نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔

2203Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى مُؤْتَةَ فَاسْتَعْمَلَ زَيْدًا فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَابْنُ رَوَاحَةَ فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَجَمَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ قَالَ أُجَمِّعُ مَعَكَ قَالَ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا

اور ایک مرتبہ نبی ﷺ نے موتہ کی طرف ایک سریہ بھیجا اور حضرت زید بن حارثہ ؓ کو اس کا امیر مقرر کیا، ان کے شہید ہوجانے کی صورت میں حضرت جعفر ؓ کو اور ان کے شہید ہوجانے کی صورت میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کو مقرر فرمایا حضرت ابن رواحہ پیچھے رہ گئے اور نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئے، جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کا نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔

2204Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى

اور نبی ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی حاملہ عورت سے ہم بستری کرے۔

2205Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کردیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کردو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت ناپاک ہے۔

2206Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سر دی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔

2207Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي قَالَ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی ﷺ کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی ﷺ نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر اترے کہ اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلالے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے " زبانیہ " پکڑتے۔

2208Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے اور دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔

2209Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الشَّيَاطِينِ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ہم نشین شیاطین میں سے بھی لگایا گیا ہے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا آپ کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے؟ فرمایا ہاں! لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اور میرا شیطان میرے تابع ہوگیا ہے۔

2210Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَلَقِيَهُ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ قَالَ فَقَالَ وَهُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ سَبْطٌ شَعَرُهُ مَعَ أُذُنَيْهِ أَوْ فَوْقَهُمَا فَقَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ عِيسَى فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا عِيسَى قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ شَيْخٌ جَلِيلٌ مَهِيبٌ فَرَحَّبَ بِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَكُلُّهُمْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَنَظَرَ فِي النَّارِ فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ الْيَمِينِ وَالْآخَرُ عَنْ الشِّمَالِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ فَقَالَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ الْقَدَحُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جس رات نبی ﷺ کو معراج کی عظیم سعادت عطاء ہوئی، آپ ﷺ جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل! یہ کیا ہے؟ عرض کیا یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی ﷺ نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ بلال کامیاب ہوگئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔ بہرحال! شب معرفاج نبی ﷺ کی ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے نبی ﷺ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا مرحبابالنبی الامی، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی ﷺ کو خوش آمدید کہا، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی ﷺ کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جدا مجد) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اس سفر معارج میں نبی ﷺ نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی ﷺ نے پوچھا چبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں، وہاں نبی ﷺ نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے، لیکن جب نبی ﷺ متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی ﷺ نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔

2211Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ قَالَ ثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَنْ شِمَالِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز میں نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو نبی ﷺ نے مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

2212Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ فَيُقَالُ مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہوجائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا پروردگار! (یہ تو میرے امتی ہیں) ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔

2213Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ ﷺ کو اچھا نام پسند آتا تھا۔

2214Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمْ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔

2215Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحَيَّةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں ایس ہیں جن میں سے ہر ایک فاسق ہے اور محرم بھی انہیں قتل کرسکتا ہے اور حرم میں بھی انہیں قتل کیا جاسکتا ہے، چوہا، بچھو، سانپ، باؤلا کتا اور کوا۔

2216Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُهُ غَيْرَ ثَلَاثٍ لَا أَدْرِي كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا أَوْ عُسُيًّا قَالَ حُصَيْنٌ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُهَا كُلَّهَا أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ عُتِيًّا

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی تمام سنتوں کو محفوظ کرلیا ہے لیکن مجھے تین باتیں معلوم نہیں ہیں پہلی یہ کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی ﷺ اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے " وقد بلغت من الکبر عتیا " (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) او عسیا (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ تیسری بات راوی بھول گئے۔

2217Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا فَقِيلَ لَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ قَالَ لَا بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ قریش نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنادے اور دوسرے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کرسکیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے (نبی ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی ﷺ نے دعا فرمادی، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو انتظار کرلیں اور اگر چاہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں انہیں پہلوں کی طرح ہلاک کر دوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں انتظار کرلوں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہمیں معجزات بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن پہلے لوگ بھی انہیں جھٹلاتے ہی رہے ہیں، چناچہ ہم نے قوم ثمود کو راہ دکھانے کے لئے اونٹنی دی تھی۔

2218Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ قَالَ وَخَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى فَجَاءَهَا فَقَالَتْ مَا زِلْتُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَائِبَةً قَالَ فَقَالَ لَهَا لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ کا نام برہ تھا، نبی ﷺ نے اس نام کو اچھا نہ سمجھا اور ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا، اس بات کی ناپسنیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یوں کہا جائے نبی ﷺ برہ کے پاس سے نکل کر آرہے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز کے بعد نکلے اور حضرت جویریہ ؓ کے پاس آئے، حضرت جویریہ ؓ کہنے لگیں یا رسول اللہ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے گا اور وہ کلمات یہ ہیں۔ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ

2219Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَعْنِي أَنَّهُ نَاقِصٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہوجائیں تو تیس کا عد پورا کرو، البتہ بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے۔

2220Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَا سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتا ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے یا نہیں؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کے زیادہ مستحق ہے۔