عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 18 of 82

2081Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا بِهَا الْكُرُومُ وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّاتِهَا الْخَمْرُ فَقَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ فَأَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاوِيَةِ عَلَى إِنْسَانٍ مَعَهُ فَأَمَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ قَالَ بِبَيْعِهَا قَالَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا وَأَكْلَ ثَمَنِهَا قَالَ فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ

عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں انگوروں کی بڑی کثرت ہے اور وہاں کی سب سے اہم تجارتی چیز شراب ہے، انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ دوس میں نبی ﷺ کا ایک دوست رہتا تھا، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی ﷺ سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے فلاں! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے تمہارے پیچھے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خریدو فروخت بھی حرام کردی ہے چناچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا۔

2082Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا سَارَ وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ فَيَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ حَسَنٌ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَلِنَزَلَ مَنْزِلًا

حضرت ابن عباس ؓ سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب وہ کہیں پڑاؤ کرتے اور انہیں وہ جگہ اچھی لگتی تو وہ ظہر کو مؤخر کردیتے تاکہ ظہر اور عصر میں جمع صوری کردیں اور اگر وہ روانہ ہوتے اور انہیں کہیں پڑاؤ کرنے کا موقع نہ ملتا تب بھی وہ ظہر کو موخر کردیتے تاکہ کسی منزل پر پہنچ جائیں اور وہاں ظہر اور عصر کے درمیان جمع صوری کرلیں۔

2083Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔

2084Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَىْ نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوتا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ کیا تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی ﷺ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ ﷺ کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھوہا تھا اور نبی ﷺ اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔

2085Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ فَقَالَ عِكْرِمَةُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ سوگئے تو آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھا دی اور وضو نہیں فرمایا: عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نیند کی حالت میں بھی وضو ٹوٹنے سے محفوظ تھے۔

2086Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَيْسٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ثُمَّ نَامُوا ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا قَالَ قَيْسٌ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سو کر بیدار ہوئے، پھر حضرت عمر ؓ نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ نماز! اس پر نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، راوی نے ان کے وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔

2087Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ حَسَنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَامَ حَتَّى نَفَخَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ام المومنین میمونہ ؓ کے یہاں رات گذاری، رات کا وقت ہوا تو نبی ﷺ بیدار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی ﷺ نے کیا تھا اور جا کر آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ کر سو گئے حتی کہ خر اٹے لینے لگے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کردو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔

2088Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطَ الرَّأْسِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ وسفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

2089Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا وَلَا سُكْنَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی، نیز آپ ﷺ نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔

2090Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ ؓ سے نکاح فرمایا۔

2091Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ يَعْنِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔

2092Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ قَالَ نَعَمْ فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ماعز بن مالک ؓ سے ملے اور فرمایا تمہارے بارے مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا بات میرے متعلق معلوم ہوئی ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی ﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کرلیا تب کہیں جا کر نبی ﷺ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔

2093Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأَدُسُّهُ فِي فِي فِرْعَوْنَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ سے عرض کیا کاش! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا۔

2094Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔

2095Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔

2096Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ فَقَالَ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَجَلْ قَالَ فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ قَالَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا پھر وہ) حضرت عمر فاروق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم حضرت ابوبکر ؓ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چناچہ اس نے حضرت ابوبکر ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے حضرت عمر ؓ کی طرح نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، اس آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! ﷺ کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، حضرت عمر ؓ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا۔

2097Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے، اس وقت حضرت اسامہ بن زید ؓ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔

2098Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ مَا أَحْفَظُهُ إِلَّا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ الْجَزَرِيُّ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةِ نَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنْ الْكَيِّ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کے ذریعے زخم کو داغنے میں، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔

2099Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ يَعْقُوبُ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ قَالَ إِسْحَاقُ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی ﷺ بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ ﷺ نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔

2100Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَنْ يَسَارِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا أَتْلُوهُمَا فِي ظُهُورِهِمَا أَسْمَعُ كَلَامَهُمَا فَطَفِقَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ رُكْنَ الْحَجَرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَلِمْ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فَيَقُولُ مُعَاوِيَةُ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ فَطَفِقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَزِيدُهُ كُلَّمَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ الرُّكْنَيْنِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ

ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امیر معاویہ ؓ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، ان کی بائیں جانب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ تھے اور ان دونوں کے پیچھے میں تھا اور ان دونوں حضرات کی باتیں سن رہا تھا، حضرت امیر معاویہ ؓ جب حجر اسود کا استلام کرنے لگے تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ان دو کونوں کا (جو اب آئیں گے) استلام نہیں کیا، حضرت معاویہ ؓ فرمانے لگے کہ ابن عباس! مجھے چھوڑ دیجئے، کیونکہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے، لیکن حضرت امیر معاویہ ؓ جب کسی رکن پر ہاتھ رکھتے تو حضرت ابن عباس ؓ ان سے برابر یہی کہتے رہے۔