عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 14 of 82

2001Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا دَعَاهُمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔

2002Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوْحٌ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ عِشْتُ قَالَ رَوْحٌ لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔

2003Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنِي يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین کون سا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا جو سب سے یکسو ہو کر ایک اللہ کے لئے ہو اور کشادہ وسیع ہو۔

2004Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ قَالَ يَزِيدُ مِنْ أَذًى كَانَ بِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔

2005Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَو کے عوض جو نبی ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے تھے رہن رکھی ہوئی تھی۔

2006Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ ﷺ کی عمر ٤٠ برس تھی، آپ ﷺ اس کے بعد ١٣ برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ٣٦ برس کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال ہوگیا۔

2007Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنْ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کردیتے تھے جو مسلمان ہو کر نبی ﷺ کے پاس آجاتے تھے چناچہ غزوہ طائف کے موقع پر بھی نبی ﷺ نے دو آدمیوں کو آزاد کردیا تھا۔

2008Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسل حضرات حسنین ؓ پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے، میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔

2009Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَى رَجُلٌ رُؤْيَا فَجَاءَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ ظُلَّةً تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا وَكَأَنَّ النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَكَأَنَّ سَبَبًا مُتَّصِلًا إِلَى السَّمَاءِ وقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً وَكَأَنَّ سَبَبًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَجِئْتَ فَأَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ فَعَلَّاكَ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا فَعَلَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمَا فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمْ فَأَخَذَ بِهِ فَقُطِعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْبُرُهَا لَهُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ فَحَلَاوَةُ الْقُرْآنِ فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَأَمَّا السَّبَبُ فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ تَعْلُو فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ رَجُلٌ عَلَى مِنْهَاجِكَ فَيَعْلُو وَيُعْلِيهِ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمَا رَجُلٌ يَأْخُذُ بِأَخْذِكُمَا فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ رَجُلٌ يُقْطَعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ قَالَ أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے خواب دیکھا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا جس سے شہد اور گھی ٹپک رہے ہیں اور لوگ آکر ان چیزوں کو اٹھا رہے ہیں کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی درمیانہ، پھر مجھے محسوس ہوا کہ ایک رسی ہے جو آسمان تک چلی گئی ہے، آپ تشریف لائے اور اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر ایک دوسرا آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی پکری اور اوپر چرھ گیا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اسے بھی بلندی پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی تھام کر اوپر چڑھنا شروع کیا اور اللہ نے اسے بھی اوپر تک پہنچا دیا، اس کے بعد جو آدمی آیا اور اس نے رسی پکڑ کر اوپر چڑھنا شروع کیا تو وہ رسی کٹ گئی، تھوڑی دیر بعد وہ رسی جڑ گئی اور اس آدمی نے بھی اس کے ذریعے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ اللہ نے اسے بھی او پر پہنچا دیا۔ یہ خواب سن کر حضرت صدیق اکبر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ اگر آپ اجازت دیں تو اس خواب کی تعبیر میں بیان کروں؟ اور اجازت ملنے پر کہنے لگے کہ سائبان سے مراد تو اسلام ہے، شہد اور گھی سے مراد قرآن کی حلاوت ہے جو کسی کو کم، کسی کو زیادہ اور کسی کو درمیانی حاصل ہوتی ہے، باقی رہی رسی تو اس سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ ہیں، جس کی بنا پر اللہ آپ کو بھی اونچائی تک پہنچاتا ہے، آپ کے بعد ایک شخص آتا ہے وہ بھی آپ کے طریقے اور راستے پر چلتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے بھی او پر پہنچا دیتا ہے، تیسرے آدمی کا بھی یہی حال ہوتا ہے اور چوتھا آدمی آتا ہے تو اس کا راستہ منقطع ہوجاتا ہے، بعد میں جوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ اسے بھی او پر پہنچا دیتا ہے، یا رسول اللہ! ﷺ کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی؟ فرمایا کچھ صحیح بیان کی اور کچھ میں غلطی ہوئی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مجھے ضرور مطلع فرمائیے (کہ میں نے کیا غلطی کی؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا قسم نہ دو گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

2010Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَمُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہوگیا۔

2011Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام ؓ تشریف فرما تھے، نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! ﷺ فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔

2012Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ قَالَ إِنَّ دِبَاغَهُ قَدْ ذَهَبَ بِخَبَثِهِ أَوْ رِجْسِهِ أَوْ نَجَسِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مردار جانوروں کی کھالوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہوجاتی ہے۔

2013Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر آپ ﷺ نے صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔

2014Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

حضرت ابن عمرو ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے، جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے، اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے، جب اچھی طرح سیراب ہوجائے تو اسے قئی کر دے اور پھر اسی قئی کو چاٹنا شروع کردے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

2015Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

2016Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی ﷺ نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر ؓ نے بھی نکالا تھا۔

2017Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔

2018Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَيَنْزِلُ فِيهِ قُرْآنٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کرسکے)

2019Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ وَلَمْ يُصَلِّ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔

2020Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ امْرَأَةٌ هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظَرَ غَضْبَانَ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَبَكَتْ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ مَهْلًا يَا عُمَرُ ثُمَّ قَالَ ابْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنْ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنْ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنْ الشَّيْطَانِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان! تمہیں جنت مبارک ہو! نبی ﷺ نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے، (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے) نبی ﷺ نے فرمایا بخدا! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ حضرت عثمان بن مظعون ؓ کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب ؓ کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جاملو (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا) اس پر عورتیں رونے لگیں، حضرت عمر ؓ انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا عمر! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔