عبداللہ بن عباس کی مرویات

Musnad Imam Ahmad · Chapter 25 · 1,625 hadiths · Page 11 of 82

1941Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ عَنْ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ مَا يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَالْأُخْرَى آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ فجر کی پہلی رکعت میں " قولوا آمناباللہ وماانزل الیناوماانزل الی ابراہیم " اور دوسری رکعت میں " آمنا باللہ واشہد بانامسلمون " کی تلاوت فرماتے تھے۔

1942Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔

1943Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا بہترین سرمہ " اثمد " ہے جو آنکھوں کی بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔

1944Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ لَقِيَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ تَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاءً

حضرت سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری حضرت ابن عباس ؓ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا شادی کرلو، اس بات کو کچھ عرصہ گذر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہوگئی؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کرلو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی ﷺ ان کی بیویاں زیادہ تھیں ( تو تم کم ازکم ایک سے ہی شادی کرلو، چار سے نہ سہی)

1945Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ فَأَكَلَ مِنْ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذَا أَرْسَلْتَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى صَاحِبِهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَضَرَبَ عَلَيْهِ أَبِي كَذَا قَالَ أَسْبَاطٌ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم شکاری کتا شکار پر چھوڑو اور وہ شکار میں سے کچھ کھالے تو تم اسے نہ کھاؤ کیونکہ اس نے وہ شکار اپنے لئے روک رکھا ہے اور اگر تم شکاری کتا چھوڑو اور وہ جاکر شکار کو مار ڈالے لیکن خود کچھ نہ کھائے تو تم اسے کھالو کیونکہ اب اس نے وہ شکار اپنے مالک کے لئے کیا ہے۔

1946Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ الْوَتْرُ وَالنَّحْرُ وَصَلَاةُ الضُّحَى

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر تو فرض ہیں لیکن تمہارے لئے وہ نفل ہیں، ایک وتر، دوسرے (صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود) قربانی اور تیسرے چاشت کی نماز۔

1947Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ مُزْدَلِفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ مزدلفہ طلوع آفتاب سے قبل روانہ ہوئے۔

1948Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى أَوْ خَامِسَةٍ تَبْقَى أَوْ سَابِعَةٍ تَبْقَى

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا کہ اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو، نو راتیں باقی رہ جانے پر یا پانچ راتیں باقی رہ جانے پر، یا سات راتیں باقی رہ جانے پر۔

1949Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى يَدْعُوَهُمْ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔

1950Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بَنَاتَهُ وَنِسَاءَهُ أَنْ يَخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اپنی صاحبزادیوں اور ازواج مطہرات کو عیدین میں نکلنے کا حکم دیتے تھے۔

1951Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ وَجَدَ خِفَّةً فَخَرَجَ فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ أَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَاسْتَفْتَحَ مِنْ الْآيَةِ الَّتِي انْتَهَى إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ بیمار ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا پھر آپ ﷺ کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چناچہ آپ ﷺ باہر نکلے، جب حضرت ابوبکر ؓ کو نبی ﷺ کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی ﷺ نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہوگئے اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے حضرت ابوبکر ؓ نے چھوڑی تھی۔

1952Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر فرمائی تھی۔

1953Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ فِي السَّفَرِ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سفر میں جو شخص روزہ رکھے یا جو شخص روزہ نہ رکھے، کسی میں کیڑے مت نکا لو کیونکہ نبی ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور چھوڑا بھی ہے۔

1954Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ أَوْ غَيْرِهِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ أَوْ قَالَ فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ سے دو یا چار فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک بستی میں عاشورہ کے دن نبی ﷺ نے یہ پیغام بھجوایا کہ جو شخص صبح سے اب تک کچھ کھاپی چکا ہے، وہ دن کے بقیہ حصے میں کچھ نہ کھائے اور جس نے اب تک کچھ کھایا نہیں، اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو مکمل کرلے (یعنی مغرب تک کھانے پینے سے رکا رہے)

1955Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَتْ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آگئی، اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کرلیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھاتا) نبی ﷺ نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر اس ہی کے پاس واپس لوٹا دیا۔

1956Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں وضو اچھی طرح اور مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

1957Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بستر پر نماز پڑھی ہے۔

1958Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنِي وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ لِصِغَرِي قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَ لَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً

عبدالرحمن بن عابس (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کیا آپ نبی ﷺ کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا ہاں! اگر نبی ﷺ کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا اور فرمایا کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا حضرت ابن عباس ؓ نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔

1959Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَصَفٌّ خَلْفَهُ فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنالیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی، نبی ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی ﷺ کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی ﷺ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔

1960Musnad Imam Ahmad

عبداللہ بن عباس کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ قَالَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسًا فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَطَاوُسٌ يَسْمَعُ حَدَّثَنَا طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَكَمَا تُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا فَصَلِّ فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً وَصَلِّهَا فِي السَّفَرِ

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے سفر اور حضر کی نماز کی رکعتیں مقرر فرما دی ہیں چناچہ ہم حضر میں اس سے پہلے اور بعد میں بھی نماز پڑھتے تھے، اس لئے تم سفر میں بھی پہلے اور بعد میں نماز پڑھ سکتے ہو۔