حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي جَرَّاحٍ مَوْلَى أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعِيرَ الَّتِي فِيهَا جَرَسٌ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس قافلے میں گھنٹیاں ہوں اس کے ساتھ فرشتے نہیں ہوتے۔
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی حدیثیں
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَنْبَسَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً إِلَّا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ و قَالَ عَنْبَسَةُ فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ بَعْدُ و قَالَ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ فَمَا زِلْتُ أُصَلِّيهِنَّ قَالَ النُّعْمَانُ وَأَنَا لَا أَكَادُ أَدَعُهُنَّ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا غَيْرَ فَرِيضَةٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حضرت ام حبیبہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم خوب اچھی طرح وضو کرے اور ایک دن میں فرائض کے علاوہ چار رکعتیں (نوافل) اللہ کی راہ کے لئے پڑھ لے اللہ اس کا گھر جنت میں بنادے گا پھر اس حدیث کے ہر راوی نے اپنے متعلق ان رکعتوں کے ہمیشہ پڑھنے کی وضاحت کی۔
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَخْنَسِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ لِي بِسَوِيقٍ فَشَرِبْتُهُ فَقَالَتْ أَلَا تَتَوَضَّأُ فَقُلْتُ إِنِّي لَمْ أُحْدِثْ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی حدیثیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ فَسَقَتْهُ سَوِيقًا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقَالَتْ لَهُ تَوَضَّأْ يَا ابْنَ أَخِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَةُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان کی حدیثیں
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ وَكَانَتْ خَالَتَهُ فَسَقَتْنِي شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ فَلَمَّا قُمْتُ قَالَتْ لِي أَيْ بُنَيَّ لَا تُصَلِّيَنَّ حَتَّى تَتَوَضَّأَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنْ الطَّعَامِ
ابن سعید بن مغیرہ ایک مرتبہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک پیالے میں ستو بھر کر انہیں پلائے، پھر ابن سعید نے پانی لے کر صرف کلی کرلی تو حضرت ام حبیبہ نے فرمایا بھتیجے! تم وضو کیوں نہیں کرتے؟ نبی ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔