ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ مُوَرِّثُهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مجھے مسلسل پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دیں گے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ نَعَمْ أَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ فَأَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُونَ الْكُرَاعَ بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ لَهَا مِمَّ ذَاكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حَتَّى لَحِقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ ؓ پوچھا کیا نبی ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کھانا حرام قراد دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی ﷺ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنی قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کرکے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے، میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی ﷺ کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْرَائِيلُ الْمَعْنَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنْ الشَّمْسِ فَقَالَ لَا إِنَّمَا هُوَ مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لئے کوئی کمرہ وغیرہ نہ بنادیں جو دھوپ سے آپ کو بچا سکے؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، میدان منیٰ میں تو جو آگے بڑھ جائے، وہی اپنا اونٹ بٹھا لے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَشَّحُنِي وَيَنَالُ مِنْ رَأْسِي وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ اگرچہ میں ایام سے ہوتی تب بھی نبی ﷺ مجھے ڈھانپ لیتے تھے اور میرے سر کا بوسہ لے لیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ فَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءٍ وَلَا نَقْضِيهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ قَالَ أَبُو كَامِلٍ أُمُّ حَبِيبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ فَقَالَ لَيْسَ هَذَا بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي مِرْكَنٍ فَتَعْلُو حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ ثُمَّ تُصَلِّي
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش (جو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے نکاح میں تھیں) سات سال تک دمِ استحاضہ کا شکار رہیں، انہوں نے نبی ﷺ سے اس بیماری کی شکایت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ " معمول کے ایام " نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک رگ کا خون ہے اس لئے جب معمول کے ایام آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو اور جب ختم ہوجائیں تو غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرو، حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ پھر وہ ہر نماز کے لئے غسل کرکے نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور اپنی بہن زینب بنت جحش ؓ کے ٹب میں بیٹھ جاتی تھیں جس سے خون کی سرخی پانی کی رنگت پر غالب آجاتی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ فِي تَرَجُّلِهِ وَفِي طُهُورِهِ وَفِي نَعْلِهِ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَوْ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُ
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دراصل نبی ﷺ ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، ایک دن نبی ﷺ کسی کام میں مصروف ہوگئے، یہاں تک کہ نماز عصر کا وقت ہوگیا، عصر کی نماز پڑھ کر نبی ﷺ نے میرے گھر میں یہ دو رکعتیں پڑھی تھیں، پھر آخر دم تک نبی ﷺ نے انہیں ترک نہیں فرمایا: عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے ہم یہ نماز پڑھتے تھے، بعد میں ہم نے اسے چھوڑ دیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ هَلْ تَقْرَأُ سُورَةَ الْمَائِدَةِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَإِنَّهَا آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَلَالٍ فَاسْتَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ وَسَأَلْتُهَا عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْقُرْآنُ
جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم سورة مائدہ پڑھتے ہوئے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا کہ یہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت ہے، اس لئے تمہیں اس میں جو چیز حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جس چیز کو اس سورت میں حرام قرار دیا گیا ہو اسے حرام سمجھو، پھر میں نے ان سے نبی ﷺ کے اخلاق کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا قرآن۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانَ ثُمَّ يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو شعبان کے مہینے میں روزے رکھنا سب سے زیادہ محبوب تھا، پھر نبی ﷺ اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ تَمْرٌ جِيَاعٌ أَهْلُهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عائشہ! وہ گھر جس میں کجھور نہ ہو، ایسے ہے جس میں رہنے والے بھوکے ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَتْ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ وَقَالَتْ لَهُنَّ مَعْرُوفًا وَقَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمَدْنَ إِلَى حُجَزِ أَوْ حُجُوزِ مَنَاطِقِهِنَّ فَشَقَقْنَهُ ثُمَّ اتَّخَذْنَ مِنْهُ خُمُرًا وَأَنَّهَا دَخَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ الطُّهُورِ مِنْ الْمَحِيضِ فَقَالَ نَعَمْ لِتَأْخُذْ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا فَلْتَطَّهَّرْ ثُمَّ لِتُحْسِنْ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا ثُمَّ لِتُلْزِقْ بِشُؤُونِ رَأْسِهَا ثُمَّ تَدْلُكْهُ فَإِنَّ ذَلِكَ طُهُورٌ ثُمَّ تَصُبَّ عَلَيْهَا مِنْ الْمَاءِ ثُمَّ تَأْخُذْ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَلْتَطَّهَّرْ بِهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْنِي عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ تَتْبَعُ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ قَالَ عَفَّانُ ثُمَّ لِتَصُبَّ عَلَى رَأْسِهَا مِنْ الْمَاءِ وَلْتُلْصِقْ شُؤُونَ رَأْسِهَا فَلْتَدْلُكْهُ قَالَ عَفَّانُ إِلَى حُجَزٍ أَوْ حُجُوزٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء ؓ نے نبی ﷺ سے " غسل حیض " کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا پانی اور بیری لے کر خوب اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرلیا کرو، پھر سر پر پانی بہا کر خوب اچھی طرح اسے ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر پانی بہاؤ، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر طہارت حاصل کرو، وہ کہنے لگیں کہ عورت اس سے کس طرح طہارت حاصل کرے؟ نبی ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! بھئی اس سے پاکی حاصل کرے، دراصل نبی ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اس سے خون کے نشانات دور کرے، پھر انہوں " غسل جنابت " کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا یا پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کرو اور سر پر پانی ڈال کر اسے اچھی طرح ملو تاکہ جڑوں تک پانی پہنچ جائے، پھر اس پر پانی بہاؤ۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انصار کی عورتیں بہت اچھی ہیں جنہیں دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں شرم مانع نہیں ہوتی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ صَدَقَةَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ ابْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَتْ إِحْدَاهُمَا كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ
جمیع بن عمیر " جن کا تعلق بنوتیم اللہ بن ثعلبہ سے تھا " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ کے یہاں گیا، ان میں سے ایک نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ غسل کے وقت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ پہلے تو نماز والا وضو فرماتے تھے، پھر تین مرتبہ سر پر پانی بہاتے تھے اور ہم اپنی مینڈھیوں کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ مرتبہ پانی بہاتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتَسَامَعُ عِنْدَهُ الشِّعْرُ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ أَبْغَضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ
ابو نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کے یہاں اشعار سنائے جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ نبی ﷺ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات تھی
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
وَقَالَ عَنْ عَائِشَةَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنْ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ
اور نبی ﷺ کو جامع دعائیں پسند تھیں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو نبی ﷺ چھوڑ دیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے اب نبی ﷺ روزے رکھتے ہی رہیں گے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم کہتے اب نبی ﷺ ناغے ہی کرتے رہیں گے اور نبی ﷺ ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهِ إِثْمٌ فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی ﷺ آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی ﷺ دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صَوْمِهِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سال کے کسی مہنیے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریباً شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو کہ جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے پسندیدہ وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔