ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأُولَئِكَ الرَّهْطِ فَأُلْقُوا فِي الطُّوَى عُتْبَةُ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابُهُ وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ جَزَاكُمْ اللَّهُ شَرًّا مِنْ قَوْمِ نَبِيٍّ مَا كَانَ أَسْوَأَ الطَّرْدِ وَأَشَدَّ التَّكْذِيبِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تُكَلِّمُ قَوْمًا جَيَّفُوا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَفْهَمَ لِقَوْلِي مِنْهُمْ أَوْ لَهُمْ أَفْهَمُ لِقَوْلِي مِنْكُمْ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی ﷺ جب ان لوگوں یعنی عقبہ اور ابوجہل وغیرہ کے پاس سے گذرے جنہیں کنویں میں پھینک دیا گیا تھا تو نبی ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا اللہ تمہیں نبی کی قوم کی طرف سے بدترین بدلہ دے، یہ لوگ کتنے برے طریقے سے بھگانے والے اور کتنی سختی سے تکذیب کرنے والے تھے، صحابہ کرام ؓ عنہھم نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہوچکے؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ میری بات ان سے کچھ زیادہ نہیں سمجھ رہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْرِغُ يَمِينَهُ لِمَطْعَمِهِ وَلِحَاجَتِهِ وَيُفْرِغُ شِمَالَهُ لِلِاسْتِنْجَاءِ وَلِمَا هُنَاكَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا داہنا ہاتھ کھانے اور ضروریات کے لے تھا اور بایاں ہاتھ استنجاء وغیرہ کرنے کے لئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ إِلَى الْحُجْرَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَتَّزِرُ وَأَنَا حَائِضٌ فَأَدْخُلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَافَهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں ایام کی حالت میں تہبند باندھ لیتی تھی اور پھر نبی ﷺ کے لحاف میں گھس جاتی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ طَلَاقًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی ﷺ کو اختیار کرلیا تو نبی ﷺ نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ پر غسل واجب ہوتا اور نبی ﷺ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سوجاتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مُرُوا أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ قَالَ بَهْزٌ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، ہمیں خود بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، کیونکہ نبی ﷺ پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ بَدَأَ بِكَفَّيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ أَفَاضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَرَاقَّهُ حَتَّى إِذَا أَنْقَى أَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى الْحَائِطِ ثُمَّ غَسَلَهَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الطَّهُورَ وَأَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ
حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی ﷺ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اچھی طرح دھوتے، شرمگاہ دھوتے، پھر دیوار پر ہاتھ مل کر اسے دھوتے، پھر وضو فرماتے تھے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجَنَابَةِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ بِالتَّكْبِيرِ وَيَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَيَخْتِمُهَا بِالتَّسْلِيمِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز کا آغاز تکبیر سے کرتے تھے اور قرأت کا آغاز سورت فاتحہ سے فرماتے تھے اور نماز کا اختتام سلام سے فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنِ النَّخَعِيِّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ فَنَفْتِلُ لَهَا قَلَائِدَهَا ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانور کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی ﷺ کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ قَالَ تَقُولِينَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا اے اللہ کے نبی! یہ بتایئے کہ اگر مجھے شب قدر حاصل ہوجائے تو میں اس میں کیا دعا مانگوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم یہ دعا مانگا کرو کہ اے اللہ! تو خوب معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند بھی کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما دے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ عَنْ كَهْمَسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا قَالَتْ بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فَقَالَتْ الْمُفَصَّلَ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ يَزِيدُ يَقْرِنُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الاّ یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آتے، میں نے پوچھا کیا نبی ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے، میں نے پوچھا کہ نبی ﷺ کون سی سورتیں نماز میں پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا مفصلات، میں نے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہینہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو اور یہ معمول تا دم آخر چلتا رہا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِىءٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا وَكَانَ مِنْهُ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ فَإِنَّهُ لَا يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ
شریح حارثی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ ؓ ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہوئیں جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کردیتی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَيُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ حَتَّى أَقُولَ دَعْ لِي دَعْ لِي
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور میں نبی ﷺ سے کہتی جاتی تھی کہ میرے لئے بھی پانی چھوڑ دیجئے، میرے لئے بھی چھوڑ دیجئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَ قَالَتْ نَعَمْ وَيُزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْغُسْلِ مِنْ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ قَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے اور نبی ﷺ سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَخْبِرِينِي عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَوْعِيَةِ قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے یہ پوچھا تھا کہ نبی ﷺ کس چیز میں نبیذ بنانے کو ناپسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے اہل بیت کو دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مُسْتَحَاضَةً سَأَلَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ عَانِدٌ وَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ غُسْلًا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُسْلًا وَاحِدًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت کا دم ماہانہ ہمیشہ جاری رہتا تھا، انہوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ ایک دشمن رگ کا خون ہے اور نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ظہر اور عصر کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور مغرب و عشاء کو جمع کرکے ایک غسل کے ساتھ اور نماز فجر کو ایک غسل کے ساتھ پڑھ لیا کریں۔