ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ هَنِيئًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے لہٰذا تم ان کا مال رغبت کے ساتھ کھا سکتے ہو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر ؓ ان کے ہاں آئے تو وہاں دو بچیاں دف بجا رہی تھیں، حضرت صدیق اکبر ؓ نے انہیں ڈانٹا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا انہیں چھوڑ دو، کہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور نبی ﷺ ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَشْرَبُ مِنْ الْإِنَاءِ فَيَأْخَذُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی ﷺ اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا، اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی ﷺ اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُهُ كَانَ يُفَضِّلُ لَيْلَةً عَلَى لَيْلَةٍ
ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو کسی رات پر دوسری رات کو فضیلت دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّجُلِ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ هَلْ يُمْسِكُ عَمَّا يُمْسِكُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ قَالَ فَسَمِعْتُ صَوْتَ يَدَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ ثُمَّ قَالَتْ قَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُرْسِلُ بِهِنَّ ثُمَّ لَا يَحْرُمُ مِنْهُ شَيْءٌ
مسروق (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ ایک آدمی اپنی ہدی کا جانور بھیج دیتا ہے تو کیا وہ ان تمام چیزون سے اجتناب کرے گا جن سے محرم اجتناب کرتا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، جس وقت وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں میں نے پردے کے پیچھے سے ان کے ہاتھوں کی آواز سنی، پھر نبی ﷺ ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَمَّةٍ لَهُ سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ يَتِيمٍ فِي حِجْرِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَإِنَّ وَلَدَهُ مِنْ كَسْبِهِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان سب سے پاکیزہ چیز کو کھاتا ہے، وہ اس کی اپنی کمائی ہوتی ہے اور انسان کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا بَكَّارٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ الصَّنْعَانِيَّ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَسَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ إِنَّمَا ذَاكُمْ الْعَرْضُ وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی ﷺ نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جب کوئی بیمار ہوتا تو نبی ﷺ اس پر داہنا ہاتھ پھیرتے اور یہ دعا پڑھتے اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْآيَاتِ آيَاتِ الرِّبَا مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات جو سود سے متعلق ہیں نازل ہوئیں تو نبی ﷺ نے ہمارے سامنے ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ وَكَانَ إِذَا بَقِيَتْ عَلَيْهِ ثَلَاثُونَ آيَةً أَوْ أَرْبَعُونَ قَامَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ سَجَدَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ پہلے تو نبی ﷺ رات کی نماز کا کچھ حصہ بھی بیٹھ کر نہ پڑھتے تھے لیکن نبی ﷺ کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی ﷺ بیٹھ کر ہی جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کرکے سجدے میں جاتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ قُلْتُ فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کیا نبی ﷺ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا حرام قرار دے دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا نہیں، البتہ اس زمانے میں قربانی بہت کم کی جاتی تھی، نبی ﷺ نے یہ حکم اس لئے دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کی بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے اور ہم نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم اپنے قربانی کے جانور کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور دس دن بعد انہیں کھالیتے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی تھی؟ تو انہوں نے ہنس کر فرمایا کہ نبی ﷺ کے اہل خانہ نے کبھی تین دن تک روٹی سالن سے پیٹ نہیں بھرا تھا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذَهَبْتُ أَحْكِي امْرَأَةً أَوْ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُحِبُّ أَنْ حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا أَعْظَمَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی موجودگی میں کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اس سے بھی زیادہ کوئی چیز بدلے میں ملے تو میں پھر بھی کسی کی نقل نہ اتاروں اور نہ اسے پسند کروں، (میں نے کہہ دیا یارسول اللہ! صفیہ تو اتنی سی ہے اور یہ کہہ کر ہاتھ سے اس کے ٹھگنے ہونے کا اشارہ کیا، تو نبی ﷺ نے فرمایا تم نے ایسا کلمہ کہا ہے جسے اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے تو اس کا رنگ بھی بدل جائے)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُبَاشِرُ الصَّائِمُ يَعْنِي امْرَأَتَهُ قَالَتْ لَا قُلْتُ أَلَيْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ
اسود بن یزید (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ روزہ دار اپنے بیوی کے جسم سے اپنا جسم ملا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، میں نے کہا کہ کیا نبی ﷺ روزے کی حالت میں اس طرح نہیں کرلیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ تم سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ (میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبولگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا فَإِنَّهُ كَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً يُدَاوِمُ عَلَيْهَا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، کہ وہ تقریبا شعبان کا پورا مہینہ ہی روزہ رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اتنا عمل کیا کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تو نہیں اکتائے گا، البتہ تم ضرور اکتا جاؤگے اور نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز وہ ہوتی تھے جس پر دوام ہو سکے اگرچہ اس کی مقدار تھوڑی ہی ہو اور خود نبی ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنُبٌ قَالَتْ نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهِيَ صَائِمَةٌ وَالْمَاءُ يُرَشُّ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَفْطِرِي فَقَالَتْ أُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ صَوْمَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ الْعَامَ الَّذِي قَبْلَهُ
عطاء خراسانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ اپنی بہن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر میں داخل ہوئے، وہ عرفہ کا دن تھا اور حضرت عائشہ ؓ روزے سے تھیں اور ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، عبدالرحمن ؓ نے ان سے کہا کہ آپ روزہ کھول لیں، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیا روزہ ختم کر دوں جبکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ ایک سال قبل کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔