ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَمَكْتُوبٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بعض اوقات انسان جنتیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جہنم میں لکھا ہوتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمیوں والے اعمال کررہا ہوتا ہے لیکن لوح محفوظ میں اس کا نام اہل جنت میں لکھا ہوتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ وَايْمُ اللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ لَيَمُرُّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللُّحَيْمُ وَمَا هُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَهْلَ دُورٍ مِنْ الْأَنْصَارِ جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ فَكُلُّ يَوْمٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ يَعْنِي فَيَنَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ وَلَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا قَرِيبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِيرٍ فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ لَا يَفْنَى فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ فَلَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ كِلْتُهُ وَايْمُ اللَّهِ لَأَنْ كَانَ ضِجَاعُهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌ و قَالَ الْهَاشِمِيُّ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ وَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا ضِجَاعُهُ
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے! نبی ﷺ کے بال کانوں کی لو سے کچھ زیادہ اور بڑے بالوں سے کم تھے، واللہ اے بھانجے! آلِ محمد ﷺ پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی ﷺ کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں، یعنی پانی اور کھجور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے اور جس وقت نبی ﷺ کا وصال ہوا تو الماری میں اتنا بھی کھانا نہ تھا جسے کوئی جگر رکھنے والا کھا سکے، صرف تھوڑے سے جو کے دانے تھے، لیکن میں انہیں ایک طویل عرصے تک کھاتی رہی تاہم وہ ختم نہ ہوئے، ایک دن میں نے انہیں ناپ لیا اور وہ ختم ہوگئے، کاش! میں نے انہیں ماپا نہ ہوتا اور واللہ نبی ﷺ کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نُوقِشَ الْمُحَاسَبَةَ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ قَوْلُهُ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ ذَاكَ الْعَرْضُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا، میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا " عنقریب آسان حساب لیا جائے گا " نبی ﷺ نے فرمایا وہ حساب تھوڑی ہوگا وہ تو سرسری پیشی ہوگی اور جس شخص سے قیامت کے دن حساب کتاب میں مباحثہ کیا گیا، وہ تو عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ مُوسَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی ﷺ کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قُرْظٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِحَاجَتِهِ فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَإِنَّهَا تُجْزِئُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لئے جائے تو اسے تین پتھروں سے استنجاء کرنا چاہیے کیونکہ تین پتھر اس کی طرف سے کفایت کر جاتے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ عذاب میں مبتلا ہوجائے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ تَصَدَّقَتْ بِشَيْءٍ فَأَمَرَتْ بَرِيرَةَ أَنْ تَأْتِيَهَا فَتَنْظُرَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان سے کسی سائل نے سوال کیا، انہوں نے بریرہ سے کہا تو وہ کچھ لے کر آئی، اس موقع پر نبی ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اے عائشہ! گن گن کر نہ دینا ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کر دے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ فَقُلْتُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ أَنْتَ الطَّبِيبُ وَأَنْتَ الشَّافِي وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے اپنا ہاتھ نبی ﷺ کے سینے پر رکھ کر یہ دعاء کی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما، تو ہی طبیب ہے اور تو ہی شفاء دینے والا ہے اور نبی ﷺ خود یہ دعا فرما رہے تھے کہ مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے، مجھے رفیق اعلیٰ سے ملا دے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ أَوْ وَجِعَ فَلَمْ يُصَلِّ بِاللَّيْلِ صَلَّى بِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اگر نبی ﷺ سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی ﷺ دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا قَالَ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي وَلَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت فرماتے تو یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام و نشان بھی نہ چھوڑے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَوْ نَامَ صَلَّى بِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُهُ قَامَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ وَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ عَمَلًا يُثْبِتُهُ
حضرت عائشہ سے مری ہے کہ اگر نبی ﷺ سے کسی دن نین کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی ﷺ دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی ﷺ ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَاهُمْ ثُمَّ يَعُودُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ پر غسل واجب ہوتا اور نبی ﷺ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر دوبارہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس آجاتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ آخِرَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے پہلے پہر میں سو جاتے تھے اور آخری پہر میں بیدار ہوتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِلْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا الرُّمْحِ قَالَتْ نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ تَكُنْ دَابَّةٌ إِلَّا تُطْفِئُ النَّارَ عَنْهُ غَيْرُ الْوَزَغِ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِقَتْلِهِ
سائبہ " جو فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ باندی تھیں " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے انہیں مارتی ہوں، کیونکہ نبی ﷺ نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی، اس لئے نبی ﷺ نے ہمیں چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِهِ وَهُوَ يُلَبِّي قَيْلَ لِسُلَيْمَانَ أَفِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ (میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ (میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظراب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ مَا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ إِلَّا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ
ام موسیٰ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس تو نبی ﷺ جس دن بھی تشریف لائے انہوں نے عصر کے بعد دو رکعتیں ضرور پڑھیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ناجائز بچہ بھی اگر اپنے ماں باپ جیسے کام کرنے لگے تو وہ تیسرا شر ہوگا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ الْعِينِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بڑی آنکھوں والے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ نبی ﷺ گھر سے نکلنے سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے پھر باہر نکلتے تھے۔