ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَخْبِرِينِي بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمَنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کی دعا کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میں نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے رکوع و سجود میں بکثرت، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَتْ لِي عَمْرَةُ أَعْطِنِي قِطْعَةً مِنْ أَرْضِكَ أُدْفَنْ فِيهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُحَدِّثُهُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی تو ڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ لَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ أَقُولُ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی ﷺ نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ أَوْ خَشَعَ قَائِمًا وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ رات کے وقت نبی ﷺ کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی ﷺ طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی ﷺ کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَزْيَدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَمِعْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ لَبَّتْ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی ﷺ کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَقَرَّ وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں اور سحری تک بھی نبی ﷺ کے وتر پہنچے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات " جو سود سے متعلق ہیں " ہیں نازل ہوئیں تو نبی ﷺ مسجد کی طرف روانہ ہوئے، ان کی تلاوت فرمائی اور شراب کی تجارت کو بھی حرام قرار دے دیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسْتَقَى لَهُ الْمَاءُ الْعَذْبُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ پانی کے مقامات سے نبی ﷺ کے پینے کے لئے میٹھا پانی لایا جاتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حواس میں آجائے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنِي عَنْ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ قَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ قَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ فِي يَدِكِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَمَّا فِي مَوَاطِنَ ثَلَاثَةٍ فَلَا الْكِتَابُ وَالْمِيزَانُ وَالصِّرَاطُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن آپ اپنے اہل خانہ کو یاد رکھیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا تین جگہوں پر نہیں، حساب کتاب کے موقع پر، میزان عمل کے پاس اور پل صراط پر۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ أَيْنَ النَّاسُ قَالَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي قَبْلَكِ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ اس آیت یوم تُبدَ لُ الارضُ غَیرَ الاَرضِ۔۔۔۔۔۔۔ کے متعلق نبی ﷺ سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا پل صراط پر اور یہ ایسا سوال ہے جو تم سے پہلے میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ نُبِّئْتُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا قَالَ بِشْرٌ هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يُلْبَسُ تَحْتَ الدِّثَارِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمارے " شعار " میں نماز نہیں پڑھا کرتے تھے، بشر کہتے ہیں کہ " شعار " سے مراد وہ کپڑا ہے جو جسم پر اوپر والے کپڑے کے نیچے پہنا جاتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَظَلُّ صَائِمًا ثُمَّ يُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ روزے سے ہوتے اور افطار کرنے تک جب چاہتے مجھے بو سہ دے دیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْ الْجَنَابَةِ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ فَيَتَتَبَّعُ أُصُولَ شَعَرِهِ فَإِذَا ظَنَّ أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ كُلَّهَا أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ و قَالَ عُرْوَةُ غَيْرَ أَنَّهُ يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَهُ ثُمَّ فَرْجَهُ
حضرت عائشہ سے نبی ﷺ کے غسل جنابت کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی ﷺ سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے، پھر نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں کا خلال فرماتے تھے اور جب یقین ہوجاتا کہ کھال تک ہاتھ پہنچ گیا ہے، تو تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم پر پانی ڈالتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْحَدِرُ فِي جِلْدِهِ وَشَعَرِهِ فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا قَالَ مُطَرِّفٌ قُلْتُ لِعَامِرٍ فِي رَمَضَانَ قَالَ سَوَاءٌ عَلَيْكَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات رات کے وقت اختیاری طور پر جنبی ہوتے، حضرت بلال نماز فجر کی اطلاع دینے آتے تو نبی ﷺ اٹھ کر غسل فرماتے اور میں دیکھتی تھی کہ پانی ان کی کھال اور بالوں سے ٹک رہا ہے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی ﷺ روزے سے ہوتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَأَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَغْسِلُ أَثَرَ جَنَابَةٍ أَصَابَتْ ثَوْبِي فَقَالَتْ مَا هَذَا قُلْتُ جَنَابَةٌ أَصَابَتْ ثَوْبِي فَقَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّهُ يُصِيبُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِهِ هَكَذَا وَوَصَفَهُ مَهْدِيٌّ حَكَّ يَدَهُ عَلَى الْأُخْرَى
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت عائشہ نے مجھے جنابت کے نشانات دھوتے ہوئے دیکھا جو میرے کپڑوں پر لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے کپڑوں پر جنابت کے نشان لگ گئے تھے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب نبی ﷺ کے کپڑوں پر یہ نشان لگ جاتے تو وہ اس طرح کردیتے تھے، اس سے زیادہ نہیں، راوی نے رگڑتے ہوئے دکھا یا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ وَرَوْحٌ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ قَالَ عَفَّانُ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ وَقَالَ رَوْحٌ وَعَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی مرفوع القلم ہوتے ہیں جن پر کوئی حکم جاری نہیں ہوتا، ایک تو سویا ہوا شخص، تاوقتیکہ بیدار نہ ہوجائے، دوسرے بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرے مجنون یہاں تک کہ اپنے ہوش و حو اس میں آجائے۔