ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اس طرح مسلسل روزے رکھنے سے منع فرماتے تھے کہ درمیان میں روزہ افطار ہی نہ کیا جائے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَمْ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ
ابوسلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ کو کتنے کپڑوں میں دفن دیا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا تین سفید سحولی کپڑوں میں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے اپنی ازواج کو کتنا کتنا مہر دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اپنی ازواج (میں سے ہر ایک) کو بارہ اوقیہ اور ایک نش دیا تھا، تم جانتے ہو کہ " نش " کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، انہوں نے فرمایا نصف اوقیہ، یہ کل پانچ سو درہم بنتے ہیں اور یہ ہے وہ مہر جو نبی ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو دیا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الْأَشْعَثُ الْكُوفَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حسب امکان اپنے ہر کام میں مثلاً وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی دائیں جانب سے آغاز کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَيُّ الْعَمَلِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الدَّائِمُ قُلْتُ فَأَيُّ سَاعَةٍ كَانَ يَقُومُ قَالَتْ إِذَا سَمِعَ الصَّرْخَةَ
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ نبی ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمل کون سا تھا؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ کیا جائے، میں نے پوچھا کہ نبی ﷺ رات کو کس وقت قیام فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا جب مرغ کی آواز سن لیتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبیلے کے درمیان لیٹی ہوتی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے۔ سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَتْ أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ قَالَتْ تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا قَالَ حُمَيْدٌ فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ فَقَالَ لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایا بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی ﷺ نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہوا اور بعض اوقات آل محمد ﷺ پر ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن محرز کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے دو مہینوں کا ذکر کیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنْ الْمَجَاعَةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ایک آدمی بھی موجود تھا، نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور محسوس ہونے لگا کہ نبی ﷺ پر یہ چیز ناگوار گذری ہے، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس بات کی تحقیق کرلیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہوسکتے ہیں کیونکہ رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ إِحْدَانَا تَحِيضُ أَتُجْزِئُ صَلَاتَهَا فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ قَدْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَفْعَلُ ذَلِكَ
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ کیا حائضہ عورت نمازوں کی قضاء کرے گی؟ انہوں نے فرمایا کیا تو خارجی ہوگئی ہے؟ نبی ﷺ کے زمانے میں جب ہمارے " ایام " آتے تھے تو ہم قضاء کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْمَاهِرَ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ تَشْتَدُّ عَلَيْهِ قِرَاءَتُهُ فَلَهُ أَجْرَانِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَقِفَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت سودہ بنت زمعہ کو قبل از فجر ہی مزدلفہ سے واپس جانے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ وہ کمزور عورت تھیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا وَكَانَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنْ اللَّيْلِ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ النَّهَارِ قَالَتْ وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا حَتَّى الصَّبَاحِ وَلَمْ يَقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ يُتِمُّهُ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ حَتَّى مَاتَ
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ ؓ عرض کیا اے ام المومنین! مجھے نبی ﷺ کے اخلاق کے متعلق بتایئے، انہوں نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور حضرت عائشہ نے فرمایا کہ نبی ﷺ جب بھی کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے اور اگر نبی ﷺ سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوڑ جاتی تو نبی ﷺ دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے اور نبی ﷺ ساری رات صبح تک قیام نہیں فرماتے تھے، ایک رات میں سارا قرآن نہیں پڑھتے تھے اور رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے تاآنکہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ أَخْطَأَ سَمْعُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِعَمَلِهِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهَا وَاللَّهِ مَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا بھانجے! حضرت ابن عمر سے سننے میں چوک ہوگئی ہے، دراصل نبی ﷺ کا ایک قبر پر گذر ہوا تو اس کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے اس کے اعمال کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں ورنہ واللہ کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ نبی ﷺ چاشت کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا چار رکعتیں اور اللہ کو جتنی رکعتیں منظور ہوتیں، اس پر اضافہ بھی فرمالیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْخَلَاءِ وَالْبَوْلِ فَإِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ نَنْهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی ﷺ پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ وَثَابِتٌ عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فِي شَيْءٍ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِ يَوْمِي فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ قَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت صفیہ بنت حیی سے کسی بات پر ناراض تھے، حضرت صفیہ نے ان سے کہا کہ عائشہ! تم نبی ﷺ کو میری طرف سے راضی کردو، میں اپنی ایک باری تمہیں دیتی ہوں، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، پھر انہوں نے اپنا ایک دوپٹہ لیا، جس پر زعفران سے رنگ کیا گیا تھا اور اس پر پانی چھڑکا تاکہ اس کی مہک پھیل جائے، پھر آکر نبی ﷺ کے پہلو میں بیٹھ گئیں، نبی ﷺ نے فرمایا عائشہ! پیچھے ہٹو، آج تمہاری باری نہیں ہے، انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطاء فرما دے، پھر نبی ﷺ کو سارا واقعہ بتایا تو نبی ﷺ حضرت صفیہ سے راضی ہوگئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرَهَا فَقَالَتْ مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا فَقَالَ أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ فَقَالَتْ مَا كُنْتَ تَفْعَلُ قَالَ جِئْتُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا فَقَالَتْ أَيَّةُ آيَةٍ فَقَالَ الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا أَوْ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا فَقَالَتْ أَيَّتُهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَإِحْدَاهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَتْ أَيَّتُهُمَا قُلْتُ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ أَوْ قَالَتْ أَشْهَدُ لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حَرْفٌ
ابو خلف " جو بنو جمح کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ وہ عبید بن عمیر کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو چشمہ زمزم کے پاس تھیں اور اس وقت پوری مسجد میں اس کے علاوہ کہیں اور سایہ نہ تھا، انہوں نے فرمایا ابوعاصم یعنی عبید بن عمیر کو خوش آمدید، تم ہم سے ملاقات کے لئے کیوں نہیں آتے؟ انہوں نے عرض کیا اس خوف سے کہ کہیں آپ اکتا نہ جائیں، انہوں نے فرمایا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، عبید نے عرض کیا کہ اس وقت میں آپ کے پاس ایک آیت کے متعلق پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ نبی ﷺ اس کی تلاوت کس طرح فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کون سی آیت؟ عبید نے عرض کیا " کہ یہ آیت اس طرح ہے الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا یا اس طرح ہے الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا انہوں نے پوچھا کہ تمہیں ان دونوں قراءتوں میں سے کون سی قرأت پسند ہے؟ عبید نے عرض کیا کہ اس ذات کی قسم جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے ایک قرأت تو مجھے تمام دنیا ومافیہا سے زیادہ پسند ہے، انہوں نے پوچھا وہ کون سی؟ عبید نے عرض کیا الذین یاتون ما اتوا انہوں نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کی نبی ﷺ بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے اور اسی طرح یہ آیت نازل ہوئی ہے، لیکن ہجے کرنے میں دونوں ایک ہی حرف ہیں (دونوں کا مادہ ایک ہی ہے)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے دائیں یا بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الضَّبِّيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ فَقَامَ عُمَرُ خَلْفَهُ بِكُوزٍ فَقَالَ مَا هَذَا يَا عُمَرُ قَالَ مَاءٌ تَوَضَّأْ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ كَانَتْ سُنَّةً
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ پیشاب کے لئے تشریف لے گئے، ان کے پیچھے حضرت عمر ایک پیالے میں پانی لے کر کھڑے ہوگئے، نبی ﷺ نے فراغت کے بعد پوچھا عمر! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ کے وضو کے لئے پانی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے حکم نہیں دیا گیا کہ میں جب بھی پیشاب کروں تو وضو ضرور ہی کروں کیونکہ اگر میں ایسا کرنے لگوں تو یہ چیز سنت بن جائے گی۔