ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنِي بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ الدَّوْسِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
سالم سدوسی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کیلئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَةُ فَأَذِنَ لَهَا فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ وَسَأَلَتْ حَفْصَةُ عَائِشَةَ أَنْ تَسْتَأْذِنَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَتْ فَأَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ زَيْنَبُ أَمَرَتْ بِبِنَائِهَا فَضُرِبَ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى انْصَرَفَ فَبَصُرَ بِالْأَبْنِيَةِ فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا بِنَاءُ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَزَيْنَبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آلْبِرَّ أَرَدْتُنَّ بِهَذَا مَا أَنَا بِمُعْتَكِفٍ فَرَجَعَ فَلَمَّا أَفْطَرَ اعْتَكَفَ عَشَرَ شَوَّالٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ارادے کا ذکر فرمایا تو حضرت عائشہ نے ان سے اعتکاف کی اجازت مانگی، نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی چناچہ حضرت عائشہ نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ ؓ کہا کہ ان کے لئے بھی نبی ﷺ سے اجازت لے لیں، انہوں نے اجازت لی تو حضرت حفصہ کے حکم پر ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت زینب نے بھی اپنا خیمہ لگا نے کا حکم دے دیا۔ نبی ﷺ چونکہ نماز پڑھ کر واپس آجاتے تھے، اس دن مسجد میں بہت سارے خیمے دیکھے تو فرمایا یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عائشہ، حفصہ، زینب کے خیمے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہو؟ میں اعتکاف ہی نہیں کرتا چناچہ نبی ﷺ واپس آگئے اور عید گذرنے کے بعد شوال کے دس دن کا اعتکاف فرمایا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عُتْبَةُ يَعْنِي ابْنَ ضَمْرَةَ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى غُطَيْفٍ أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَلَّمَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَنْ الرَّجُلُ قَالَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى غُطَيْفِ بْنِ عَازِبٍ فَقَالَتْ ابْنُ عُفَيْفٍ فَقَالَ نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلَهَا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَرَكَعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ نَعَمْ
عبداللہ بن ابی قیس " جو غطیف بن عفیف کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا، انہوں نے پوچھا کون آدمی ہے؟ عرض کیا کہ میں عبداللہ ہوں، غطیف کا غلام، انہوں نے پوچھا جس کے والد کا نام عفیف ہے؟ عرض کیا جی ام المومنین! پھر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے انہیں پڑھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں!
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
وَسَأَلَهَا عَنْ ذَرَارِيِّ الْكُفَّارِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِلَا عَمَلٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
انہوں نے کفار کے نابالغ بچوں کے متعلق پوچھا تو حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے وہ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ہوں گے، حالانکہ میں نے یہ عرض بھی کیا تھا کہ یا رسول اللہ! بغیر کسی عمل کے؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ معلوم ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إِلَّا الْحِمَارُ وَالْكَافِرُ وَالْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی نماز گدھے، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں تو گندے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا نحوست بد اخلاقی کا نام ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ مُكَاتِبًا لَهَا دَخَلَ عَلَيْهَا بِبَقِيَّةِ مُكَاتَبَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ أَنْتَ غَيْرُ دَاخِلٍ عَلَيَّ غَيْرَ مَرَّتِكَ هَذِهِ فَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا خَالَطَ قَلْبَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ رَهَجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کا ایک مکاتب غلام ان کے پاس اپنا بقیہ بدل کتابت ادا کرنے کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ آج کے بعد تم میرے پاس نہیں آسکو گے، البتہ تم اپنے اوپر جہاد فی سبیل اللہ کو لازم کرلینا کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مسلمان آدمی کے دل میں جہاد فی سبیل اللہ کا غبار خلط ملط ہوجائے تو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو جب بھی اسلام میں دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے ان میں سے زیادہ آسان کو اختیار فرمایا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مؤذن کے اذان دینے کے بعد دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی ﷺ کو نماز کی اطلاع دیتا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی سفر میں پڑھی ہے اور نہ حضر میں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِي يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ كَيْفَ يَلْعَبُونَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَسْأَمُ وَاقْدُرْ قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی ﷺ کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں اپنے حجرے میں نبی ﷺ کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی ﷺ نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی، اب تم خود اندازہ کرلو کہ ایک نوعمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی؟
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ الشَّمْسَ لَطَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج کی روشنی میرے حجرے میں چمک رہی ہوتی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا بُهْلُولُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَرْقَسَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تھے تو نماز جیسا وضو فرمالیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اتَّخَذْتُ دُرْنُوكًا فِيهِ الصُّوَرُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَتَكَهُ وَقَالَ إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے گھر کے دروازے پر ایک پر دہ لٹکا لیا جس پر کچھ تصویریں بھی تھیں، نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لئے تو اسے دیکھ کر نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس پردے کے ٹکڑے کرتے ہوئے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی طرح تخلیق کرنے میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ إِنَّا لَا نَعْلَمُ الْحَرَامَ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی ﷺ کسی چیز سے دور رہتے اور نہ ترک فرماتے، ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ احرام سے انسان بیت اللہ کے طواف کے بعد ہی نکلتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا حَائِضٌ فَقَالَ عَقْرَى أَحَابِسَتُنَا هِيَ قَالُوا إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَنَفَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ مَا سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَرَّةً
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی ﷺ سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے اور روانہ ہوگئے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنْ الْفَرَائِضِ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ واللہ نبی ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں یہ نماز پڑھ لیتی ہوں، نیز فرمایا کہ بعض اوقات نبی ﷺ کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود صرف اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں اس لئے نبی ﷺ چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِذَهَبٍ كَانَتْ عِنْدَنَا فِي مَرَضِهِ قَالَتْ فَأَفَاقَ فَقَالَ مَا فَعَلْتِ قَالَتْ لَقَدْ شَغَلَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْكَ قَالَ فَهَلُمِّيهَا قَالَ فَجَاءَتْ بِهَا إِلَيْهِ سَبْعَةَ أَوْ تِسْعَةَ أَبُو حَازِمٍ يَشُكُّ دَنَانِيرَ فَقَالَ حِينَ جَاءَتْ بِهَا مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ وَمَا تُبْقِي هَذِهِ مِنْ مُحَمَّدٍ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں مجھ سے فرمایا کہ وہ سونا خرچ کردوں جو ہمارے پاس موجود تھا، افاقہ ہونے کے بعد نبی ﷺ نے پوچھا اے عائشہ! وہ سونا کیا ہوا؟ وہ سات سے نو کے درمیان کچھ اشرفیاں لے کر آئیں، نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے پلٹنے اور فرمانے لگے محمد ﷺ اللہ سے کس گمان کے ساتھ ملے گا جب کہ اس کے پاس یہ اشرفیاں موجود ہوں؟ انہیں خرچ کردو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ حُسَيْنٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ قُلْتُ يَا خَالَةُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ قَالَ حُسَيْنٌ إِنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّهُ كَانَ يَمُرُّ بِنَا هِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مِثْلَهُ
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات ہم پر کئی کئی مہینے اس حال میں گذر جاتے تھے کہ نبی ﷺ کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا خالہ جان! پھر آپ لوگ کس طرح گذارہ کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔