ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور وہ ان کے سامنے عرض میں لیٹی ہوتی تھیں اور فرماتے تھے کہ جن عورتوں کے سامنے تم نماز پڑھتے ہو، کیا وہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہوتیں؟
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى أَصْحَابُهُ وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ كَيْفَ تَجِدُكَ فَقَالَ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلَتْ عَامِرًا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا فَقَالَ يَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَفِي مُدِّهَا وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ كَمَا زَعَمُوا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ ؓ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر ؓ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال ؓ بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ ؓ نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی ﷺ سے اجازت لی، نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کررہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " پھر میں نے عامر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کررہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال ؓ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی۔ " حضرت عائشہ ؓ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی ﷺ نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا زَنَتْ الْأَمَةُ فَاجْلِدُوهَا وَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا وَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے، پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سر زد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا وَخَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عیدین کی نماز میں قرأت سے پہلے سات اور پانچ تکبیریں کہتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ فَأَرْشَدَ اللَّهُ الْإِمَامَ وَعَفَا عَنْ الْمُؤَذِّنِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار ہوتا ہے، اس لئے اللہ امام کو ہدایت دے اور مؤذن کو معاف فرمائے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ طَرَقَتْنِي الْحَيْضَةُ مِنْ اللَّيْلِ وَأَنَا إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَأَخَّرْتُ فَقَالَ مَا لَكِ أَنُفِسْتِ قَالَتْ لَا وَلَكِنِّي حِضْتُ قَالَ فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ ثُمَّ عُودِي
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے اچانک ایام شروع ہوگئے، اس وقت میں نبی ﷺ کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی، سو میں پیچھے ہٹ گئی، نبی ﷺ نے فرمایا کیا ہوا؟ کیا تمہارے نفاس کے ایام شروع ہوگئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، بلکہ حیض کے ایام شروع ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا ازار اچھی طرح لپیٹ کر پھر واپس آجاؤ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ يَعْنِي فِي الْكُسُوفِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز کسوف میں بلند آواز سے قرأت فرمائی تھی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھروں کے لئے بھی رکھا کرو اور انہیں اپنے لئے قبرستان نہ بنایا کرو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ خَدِيجَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُ عَلَيْهِ ثِيَابُ بَيَاضٍ فَأَحْسِبُهُ لَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ ثِيَابَ بَيَاضٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خدیجہ ؓ نے نبی ﷺ سے ورقہ بن نوفل کے انجام کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا میں نے انہیں خواب میں سفید کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ہے، اس لئے میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتے تو ان کے اوپر سفید کپڑے نہ ہوتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي يَزِيدَ حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ قَالَ إِنَّا لَنُجْزَى بِكُلِّ عَمَلِنَا هَلَكْنَا إِذًا فَبَلَغَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ يُجْزَى بِهِ الْمُؤْمِنُونَ فِي الدُّنْيَا فِي مُصِيبَةٍ فِي جَسَدِهِ فِيمَا يُؤْذِيهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی " جو شخص برا کام کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا، تو وہ کہنے لگا کہ اگر ہمیں ہمارے عمل کا بدلہ دیا جائے گا تو ہم تو ہلاک ہوجائیں گے، نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا ہاں! البتہ مومن کو اس کا بدلہ دنیا ہی میں جسمانی ایذاء اور مصیبت کی شکل میں دے دیا جاتا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا قَالَ مُعَاوِيَةُ ضَحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ وَقَالَتْ كَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَتْ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا يُؤْمِنِّي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نے کبھی بھی نبی ﷺ کو منہ کھول کر اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ حلق کا کوا نظر آنے لگے، نبی ﷺ صرف تبسم فرماتے تھے اور جب بادل یا آندھی نظر آتی تو نبی ﷺ کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوئے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہو تاکہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا طَرَقَتْهَا الْحَيْضَةُ مِنْ اللَّيْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ وَفِيهِ دَمٌ فَأَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ اغْسِلِيهِ فَغَسَلَتْ مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الثَّوْبَ فَصَلَّى فِيهِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت مجھے ایام شروع ہوگئے، نبی ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے نبی ﷺ کو اشارے سے کپڑا دکھایا جس پر خون لگا ہوا تھا، نبی ﷺ نے دوران نماز ہی اشارے سے انہیں وہ کپڑا دھونے کا حکم دیا، انہوں نے خون کی جگہ سے اسے دھویا اور نبی ﷺ نے اسے پکڑ کر اس میں نماز پڑھ لی۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الْوِلَادَةِ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے، اگر وہ اس کے ساتھ مباشرت بھی کرلے تو اس بناء پر اس کے ذمے مہر واجب ہوجائے گا اور اگر اس میں لوگ اختلاف کرنے لگیں تو بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْكَافِرُ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَمُوتُ فَيَبْكِيهِ أَهْلُهُ فَيَقُولُونَ الْمُطْعِمُ الْجِفَانَ الْمُقَاتِلُ الَّذِي فَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَذَابًا بِمَا يَقُولُونَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کفار قریش میں سے ایک آدمی مر رہا تھا اور اس کے اہل خانہ اس پر روتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ دیگیں بھر کر کھلانے والا اور جنگجو آدمی تھا اور ان کے اس کہنے کے اوپر اللہ تعالیٰ اس کے عذاب میں مزید اضافہ کردیتا تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَمْ تَرَوْهُ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا نبی ﷺ کے سامنے اچھائی کے ساتھ تذکرہ ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا نہیں کہ وہ قرآن کریم سیکھ رہا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسِي خَبِيثَةٌ وَلَكِنْ يَقُولُ نَفْسِي لَقِسَةٌ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے، البتہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا دل سخت ہوگیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ أَوْ جِنَازَةٍ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عورتوں کی جماعت میں کوئی خیر نہیں ہے، الاّ یہ کہ وہ مسجد میں ہو یا کسی شہید کے جنازے میں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَقِيَ عَشْرٌ مِنْ رَمَضَانَ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَاعْتَزَلَ أَهْلَهُ
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی ﷺ رَت جگا فرماتے اپنے اہل خانہ کو جگاتے اور کمر بند کس لیتے تھے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ صَاحِبِ الرُّمَّانِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی۔