حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ
اور جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مال کا وارث وہی ہوگا جو ولاء کا وارث ہوگا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِ
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھویا تھا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ فَقُتِلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ هَكَذَا وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى سَقَطَتْ قَلَنْسُوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ وَالثَّانِي رَجُلٌ مُؤْمِنٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ ظَهْرُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ جَاءَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَقَتَلَهُ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ وَالثَّالِثُ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى قُتِلَ قَالَ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعُ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ
حضرت فاروق اعظم ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے شہداء چار طرح کے ہوتے ہیں۔ (١) وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہوگیا، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی ﷺ نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ٹوپی مبارک گرگئی۔ (٢) وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہوا کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھادئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہوگیا، یہ دوسرے درجے میں ہوگا۔ (٣) وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان تو مضبوط ہو لیکن اس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کئے ہوں، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا، یہاں تک کہ شہید ہوگیا، یہ تیسرے درجے میں ہوگا۔ (٤) وہ مسلمان آدمی جس نے اپنی جان پر بےحد ظلم کیا، اس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا اور شہید ہوگیا، یہ چوتھے درجے میں ہوگا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ عَامَ تَبُوكَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً
حضرت فاروق اعظم ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سال اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا تھا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ ثُمَّ لَا يَعْبُرُ بِهَا أَوْ لَا يَعْرِفُهَا إِلَّا قَلِيلٌ ثُمَّ تَمْتَلِئُ وَتُبْنَى ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا فَلَا يَعُودُونَ فِيهَا أَبَدًا
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب اہل مکہ اپنے شہر سے نکلیں گے لیکن دوبارہ اسے بہت کم آباد کرسکیں گے، پھر شہر مکہ بھر جائے گا اور وہاں بڑی عمارتیں بن جائیں گے، اس وقت جب اہل مکہ وہاں سے نکل گئے تو دوبارہ واپس کبھی نہیں آسکیں گے۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو نماز ظہر کے لئے وضو کر رہا تھا، اس نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کی پشت پر ایک ناخن کے بقدر جگہ چھوڑ دی یعنی وہ اسے دھونہ سکا یا وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا، نبی ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ جا کر اچھی طرح وضو کرو، چناچہ اس نے جا کر دوبارہ وضو کیا اور نماز پڑھی۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ زَعَمَ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عیسائیوں نے جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حد سے زیادہ آگے بڑھایا مجھے اس طرح مت بڑھاؤ، میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت قرآنی ولا تجھر بصلاتک ولاتخافت بہا جس وقت نازل ہوئی ہے، اس وقت آپ ﷺ مکہ میں روپوش تھے، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کردیں اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَذَكَرَ الرَّجْمَ فَقَالَ لَا تُخْدَعُنَّ عَنْهُ فَإِنَّهُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ لَكَتَبْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنْ الْمُصْحَفِ شَهِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ أَلَا وَإِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَّالِ وَبِالشَّفَاعَةِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ وَبِقَوْمٍ يُخْرَجُونَ مِنْ النَّارِ بَعْدَمَا امْتَحَشُوا
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم ؓ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے، حمدوثناء کے بعد آپ ؓ نے رجم کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا کہ رجم کے حوالے سے کسی دھوکے کا شکار مت رہنا، یہ اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے ایک سزا ہے، یاد رکھو! نبی ﷺ نے بھی رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور ہم بھی نبی ﷺ کے بعد یہ سزاجاری کرتے رہے ہیں، اگر کہنے والے یہ نہ کہتے کہ عمر ؓ نے قرآن میں اضافہ کردیا اور ایسی چیز اس میں شامل کردی جو کتاب اللہ میں سے نہیں ہے تو میں اس آیت کو قرآن کریم کے حاشیے پر لکھ دیتا۔ یاد رکھو! عمربن خطاب ؓ اس بات کا گواہ ہے کہ نبی ﷺ نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور نبی ﷺ کے بعد ہم نے بھی یہ سزاجاری کی ہے، یاد رکھو! تمہارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو رجم کی تکذیب کرتے ہوں گے، دجال، شفاعت اور عذاب قبر سے انکار کرتے ہوں گے اور اس قوم کے ہونے کو جھٹلائیں گے جنہیں جہنم میں جل کر کوئلہ ہوجانے کے بعد نکال لیا جائے گا۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ لَهُنَّ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ قَالَ فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ
حضرت فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے۔ (١) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کاش! ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنالیتے، اس پر یہ آیت نازل ہوگئی کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنالو۔ (٢) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک اور بدہر طرح کے لوگ آتے ہیں، اگر آپ انہیں پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے؟ اس پر آیت حجاب نازل ہوگئی۔ (٣) ایک مرتبہ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات نے کسی بات پر ایکا کرلیا، میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی ہو تو ہوسکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر عطاء کردے، ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ الْقِرَاءَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ كَذَبْتَ وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ يَا هِشَامُ فَقَرَأَ كَمَا كَانَ قَرَأَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ اقْرَأْ يَا عُمَرُ فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
حضرت فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام ؓ کو سورت فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے اس میں ایسے حروف کی تلاوت کی جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائے تھے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا، میرا دل چاہا کہ میں ان سے نماز ہی میں پوچھ لوں، بہرحال! فراغت کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں سورت فرقان اس طرح کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا نبی ﷺ نے، میں نے کہا آپ جھوٹ بولتے ہیں، بخدا! نبی ﷺ نے آپ کو اس طرح یہ سورت نہیں پڑھائی ہوگی۔ یہ کہہ کر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھینچتا ہوا نبی ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے سورت فرقان خود پڑھائی ہے، میں نے اسے سورت فرقان کو ایسے حروف میں پڑھتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے؟ نبی ﷺ نے ہشام سے اس کی تلاوت کرنے کے لئے فرمایا: انہوں نے اسی طرح پڑھا جیسے وہ پہلے پڑھ رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر مجھ سے کہا کہ عمر! تم بھی پڑھ کر سناؤ، چناچہ میں نے بھی پڑھ کر سنادیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورت اس طرح بھی نازل ہوئی ہے، اس کے بعد ارشاد فرمایا بیشک اس قرآن کا نزول سات قرأتوں پر ہوا ہے۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ مِنْ الدَّقَلِ
حضرت فاروق اعظم ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے جناب رسول اللہ ﷺ کو بھوک کی وجہ سے کروٹیں بدلتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کو ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ ﷺ اپنا پیٹ بھر لیتے۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّى قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى وَقُلْتُ لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ قَالَ وَبَلَغَنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْءٌ فَاسْتَقْرَيْتُهُنَّ أَقُولُ لَهُنَّ لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِكُنَّ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ يَا عُمَرُ أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ فَكَفَفْتُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ الْآيَةَ
حضرت فاروق اعظم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے (١) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کاش! ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنالیتے، اس پر یہ آیت نازل ہوگئی کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنالو۔ (٢) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں اگر آپ انہیں پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے؟ اس پر آیت حجاب نازل ہوگئی۔ (٣) ایک مرتبہ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات نے کسی بات پر ایکا کرلیا، میں نے ان سے کہا کہ تم باز آجاؤ، ورنہ ہوسکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر بیویاں عطاء کردے، میں اسی سلسلے میں امہات المومنین میں سے کسی کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے عمر! کیا نبی ﷺ اپنی بیویوں کو نصیحت نہیں کرسکتے کہ تم انہیں نصیحت کرنے نکلے ہو؟ اس پر میں رک گیا، لیکن ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ يَقُولُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ قَالَ الْوَلِيدُ يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ میں نے وادی عقیق میں نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج رات ایک آنے والا میرے رب کے پاس سے آیا اور کہنے لگا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھیے اور حج کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کر کے احرام باندھ لیں، مراد ذوالحلیفہ کی جگہ ہے۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ
حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سونا چاندی کے بدلے بیچنا اور خریدنا سود ہے الاّ یہ کہ نقد ہو، گندم کی گندم کے بدلے خریدو فروخت سود ہے الاّ یہ کہ نقد ہو، جو کی خریدو فروخت جو کے بدلے سود ہے الاّ یہ کہ نقد ہو،
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ أَبَا عُبَيْدٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ
عبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عید کے موقع پر حضرت عمر فاروق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر فرمایا کہ نبی ﷺ نے ان دونوں کے روزے سے منع فرمایا: عیدالفطر کے دن تو اس لئے کہ اس دن تمہارے روزے ختم ہوتے ہیں اور عیدالاضحی کے دن اس لئے کہ تم اپنی قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکو۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ فَقُولُوا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
حضرت عمر فاروق اعظم ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عیسائیوں نے جس طرح حضرت عیس (علیہ السلام) کو حد سے زیادہ آگے بڑھایا مجھے اس طرح مت بڑھاؤ، میں تو اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا تم مجھے اس کا بندہ اور پیغمبر ہی کہا کرو۔
حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ يَتَوَضَّأُ وَيَنَامُ إِنْ شَاءَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً لِيَتَوَضَّأْ وَلْيَنَمْ
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم ؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہوجائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا چاہے تو وضو کر کے سوجائے ( اور چاہے تو یوں ہی سوجائے)