Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 44 of 1,321

861Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ فَقَالَ فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ

حضرت علی ؓ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ناقص الخلقت بھی ہوگا، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم سے وہ وعدہ بیان کرتا جو اللہ نے نبی ﷺ کی زبانی ان کے قتل کرنے والوں سے فرما رکھا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے واقعی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ تو انہوں نے تین مرتبہ فرمایا ہاں! رب کعبہ کی قسم۔

862Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ فَقَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ قَالُوا أَفِي كُلِّ عَامٍ فَقَالَ لَا وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جب آیت ذیل کا نزول ہوا " و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا " تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی ﷺ خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا نہیں اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور اسی مناسب سے یہ آیت نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال مت کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو وہ تمہیں ناگوار گذریں۔

863Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ فَقَالَتْ ائْتِ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنِّي قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَلِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ رَفَعَهُ

شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں ایک دن رات موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے جو مسافر کے لئے تین دن اور تین رات ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

864Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں نبی ﷺ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کا نام بتاؤں؟ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ؓ۔

865Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ أَخُو سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا قَالَ فَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالثَّانِي قَالَ فَذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لَوْ شِئْتُ لَأَنْبَأْتُكُمْ بِالثَّالِثِ قَالَ وَسَكَتَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي نَفْسَهُ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ وَإِلَّا صُمَّتَا

عبدخیر ہمدانی (رح) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور میں تمہیں بتاؤں کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت عمر فاروق ؓ ہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو تمہیں تیسرے آدمی کا نام بھی بتاسکتا ہوں، تاہم وہ خاموش رہے، ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ خود حضرت علی ؓ ہی تھی، میں نے راوی سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت علی ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا رب کعبہ کی قسم ہاں! (اگر میں جھوٹ بولوں) تو یہ کان بہرے ہوجائیں۔

866Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَلْعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَقَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے ہمیں نبی ﷺ کا طریقہ وضو سکھایا چناچہ سب سے پہلے انہوں نے تین مرتبہ اپنی ہتھیلیوں کو دھویا، تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔

867Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا قَالَ ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ و قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً يَعْنِي بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، پھر نبی ﷺ نے عصر کی نماز مغرب اور عشاء کے درمیان ادا فرمائی۔

868Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خَدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا جب میں تم سے نبی ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کروں تو میرے نزدیک آسمان سے گر جانا ان کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے اور جب کسی اور کے حوالے سے کوئی بات کروں تو میں جنگجو آدمی ہوں اور جنگ تو نام ہی تدابیر اور چال کا ہے۔ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے قریب ایسی اقوام نکلیں گی جن کی عمر تھوڑی ہونگی اور عقل کے اعتبار سے وہ بیوقوف ہوں گے، نبی ﷺ کی باتیں کریں گے، لیکن ایمان ان کے گلے سے آگے نہیں جائے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کردو، کیونکہ ان کا قتل کرنا قیامت کے دن باعث ثواب ہوگا۔

869Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ مِائَتَيْنِ زَكَاةٌ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تم سے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ چھوڑ دی ہے (اس لئے چاندی کی زکوٰۃ بہرحال تمہیں ادا کرنا ہوگی) اور دو سو درہم سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

870Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا قَالَ عِنْدَكَ شَيْءٌ قُلْتُ بِنْتُ حَمْزَةَ قَالَ هِيَ بِنْتُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہمیں چھوڑ کر قریش کے دوسرے خاندانوں کو کیوں پسند کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! حضرت حمزہ ؓ کی صاحبزادی! فرمایا کہ وہ تو میرے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ وہ میری رضاعی بھتیجی ہے) دراصل نبی ﷺ اور حضرت امیرحمزہ ؓ آپس میں رضاعی بھائی بھی تھے اور چچا بھتیجے بھی)

871Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَفَضْتُ مَعَ أَبِي مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ

عکرمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت امام حسین ؓ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے انہیں مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا تاآنکہ انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کرلی، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے والد صاحب کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تھا تو میں نے انہیں بھی جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا، میں نے ان سے اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں نبی ﷺ کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوا تو میں نے نبی ﷺ کو جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔

872Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مَيْسَرَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْرَبُ قَائِمًا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ تَشْرَبُ قَائِمًا فَقَالَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا

میسرہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے ان سے کہا کہ آپ کھڑے ہو کر پانی پی رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی ﷺ کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

873Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ ظَاهِرَهُمَا

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میری رائے یہ تھی کہ مسح علی الخفین کے لئے موزوں کا وہ حصہ زیادہ موزوں ہے جو زمین کے ساتھ لگتا ہے بہ نسبت اس حصے کے جو پاؤں کے اوپر رہتا ہے، حتی کہ میں نے نبی ﷺ کو جب اوپر کے حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں نے اپنی رائے کو ترک کردیا۔

874Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَهْرَ قَدَمَيْهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ بِالْغَسْلِ

عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے پاؤں کے اوپر والے حصے کو دھویا اور فرمایا اگر میں نے نبی ﷺ کو پاؤں کا اوپر والا حصہ دھوتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میری رائے یہ تھی کہ پاؤں کا نچلا حصہ دھوئے جانے کا زیادہ حق دار ہے (کیونکہ وہ زمین کے ساتھ زیادہ لگتا ہے)۔

875Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ أَبُو كِبْرَانَ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا

عبد خیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے (ہمیں نبی صلی اللہ علیہ کا طریقہ وضو سکھایا اور) فرمایا کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، اس وضو میں انہوں نے ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا تھا۔

876Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ عَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلَى شَجَرَةٍ أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حِينَ صَعِدَ الشَّجَرَةَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَضْحَكُونَ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت ابن مسعود ؓ کو حکم دیا تو وہ درخت پر چڑھ گئے، نبی ﷺ نے انہیں کچھ لانے کا حکم دیا تھا، صحابہ کرام ؓ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کی پنڈلی پر بھی نظر پڑی، وہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے، نبی ﷺ نے فرمایا کیوں ہنس رہے ہو؟ یقینا عبداللہ کا ایک پاؤں قیامت کے دن میزان عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگا۔

877Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي الْإِمَارَةِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِ

حضرت علی ؓ نے جنگ جمل کے دن فرمایا کہ امارت کے سلسلے میں نبی ﷺ نے ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی جس پر ہم عمل کرتے، بلکہ یہ تو ایک چیز تھی جو ہم نے خود سے منتخب کرلی تھی، پہلے حضرت صدیق اکبر ؓ خلیفہ ہوئے، ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے، پھر حضرت عمر فاروق ؓ خلیفہ ہوئے، ان پر بھی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، وہ قائم رہے اور قائم کر گئے یہاں تک کہ دین نے اپنی گردن زمین پر ڈال دی (یعنی جم گیا اور مضبوط گیا)

878Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ وَخَيْرُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ عُمَرُ ثُمَّ يَجْعَلُ اللَّهُ الْخَيْرَ حَيْثُ أَحَبَّ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ اس امت میں نبی ﷺ کے بعد سب سے بہترین شخص کون ہے؟ وہ حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے بعد اس امت میں سب بہترین شخص حضرت عمر ؓ ہیں اس کے بعد اللہ جہاں چاہتا ہے اپنی محبت پیدا فرما دیتا ہے۔

879Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولَانِ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِوَارِ

حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حق جوار پر فیصلہ فرمایا ہے۔

880Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے سونے کی انگوٹھی، ریشی لباس یا عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہننے اور رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن کریم کی تلاوت سے منع فرمایا ہے۔