حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ وَغَيْرِهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ يَعْنِي لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ أَمَرَنِي عَلِيٌّ أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
شریح بن ہانی (رح) کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے مجھے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَاللَّهِ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ عَلَيْكُمْ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ تَعَالَى وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ مُعَلَّقَةً بِسَيْفِهِ أَخَذْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ مُعَلَّقَةً بِسَيْفٍ لَهُ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ أَوْ قَالَ بَكَرَاتُهُ حَدِيدٌ أَيْ حِلَقُهُ
طارق بن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو تلوار سے لٹکا ہوا ہے، میں نے اسے نبی ﷺ سے حاصل کیا تھا، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی ؓ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ قَالَ كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أُمُورِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا فَقَالَ عُثْمَانُ صَيْدٌ لَمْ أَصْطَدْهُ وَلَمْ آمُرْ بِصَيْدِهِ اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ فَقَالَ عُثْمَانُ مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا فَقَالُوا عَلِيٌّ فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَاهُ فَمَا بَأْسٌ قَالَ فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ قَالَ فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ قَالَ فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنْ الْعِدَّةِ مِنْ الِاثْنَيْ عَشَرَ قَالَ فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنْ الطَّعَامِ فَدَخَلَ رَحْلَهُ وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ کے دور خلافت میں میرے والد حارث مکہ مکرمہ میں کسی عہدے پر فائز تھے، ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی ؓ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بقول عبداللہ بن حارث کے میں نے قدید نامی جگہ کے پڑاؤ میں ان کا استقبال کیا، اہل ماء نے ایک گھوڑا شکار کیا، ہم نے اسے پانی اور نمک ملا کر پکایا اور اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ کر کے اس کا ثرید تیار کیا، اس کے بعد ہم نے وہ کھانا حضرت عثمان غنی ؓ اور ان کے ساتھیوں کے سامنے پیش کیا، لیکن ان کے ساتھیوں نے اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، حضرت عثمان ؓ فرمانے لگے کہ نہ تو میں نے اس شکار کو پکڑ کر شکار کیا اور نہ ہی اسے شکار کرنے کا حکم دیا، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کیا اور وہ اسے ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسے کون ناجائز کہتا ہے؟ لوگوں نے حضرت علی ؓ کا نام لگا دیا۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے انہیں بلاوا بھیجا، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منظر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ حضرت علی ؓ اپنے ہاتھوں سے گردوغبار جھاڑتے ہوئے آرہے تھے، حضرت عثمان ؓ نے ان سے بھی یہی فرمایا کہ نہ تو ہم نے اسے شکار کیا ہے اور نہ ہی شکار کرنے کا حکم دیا ہے، ایک غیر محرم جماعت نے اسے شکار کر کے ہمارے سامنے کھانے کے لئے پیش کردیا تو اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر حضرت علی ؓ نے کچھ تردد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی ﷺ کے پاس ایک جنگلی گدھے کے پائے لائے گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو، کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی ﷺ کے بارہ صحابہ ؓ کھڑے ہوگئے جنہوں نے حضرت علی ؓ کی تصدیق کی۔ پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جس وقت نبی ﷺ کے پاس شتر مرغ کے انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام ؓ کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟ اس پر بارہ دیگر صحابہ کرام ؓ کھڑے ہوگئے، یہ دیکھ کر حضرت عثمان ؓ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھالیا۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ وَلِيَ طَعَامَ عُثْمَانَ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْحَجَلِ حَوَالَيْ الْجِفَانِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَكْرَهُ هَذَا فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ مُلَطِّخٌ يَدَيْهِ بِالْخَبَطِ فَقَالَ إِنَّكَ لَكَثِيرُ الْخِلَافِ عَلَيْنَا فَقَالَ عَلِيٌّ أُذَكِّرُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِعَجُزِ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ إِنَّا مُحْرِمُونَ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا ثُمَّ قَالَ أُذَكِّرُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِخَمْسِ بِيضَاتٍ بَيْضِ نَعَامٍ فَقَالَ إِنَّا مُحْرِمُونَ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ فَقَامَ رِجَالٌ فَشَهِدُوا فَقَامَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ فُسْطَاطَهُ وَتَرَكُوا الطَّعَامَ عَلَى أَهْلِ الْمَاءِ
عبداللہ بن الحارث کہتے ہیں کہ ان کے والدحارث حضرت عثمان ؓ کے کھانے کے ذمے دار تھے، عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ وہ منطر میری نگاہوں میں اب بھی محفوظ ہے کہ ہانڈیوں کے گرد گھوڑے کا گوشت پڑا ہوا ہے، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ حضرت علی ؓ اسے اچھا نہیں سمجھتے، حضرت عثمان غنی ؓ نے انہیں بلا بھیجا، حضرت علی ؓ اپنے ہاتھوں سے گردوغبار جھارتے ہوئے آئے، حضرت عثمان ؓ نے ان سے فرمایا کہ آپ ہم سے بہت زیادہ اختلاف کرتے ہیں، یہ سن کر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں ہر اس شخص کو قسم دے کر کہتا ہوں جو اس موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں موجود تھا جبکہ نبی ﷺ کے پاس ایک جنگلی گدھے کے سرین لائے گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ اہل حل کو کھلا دو، کیا ایسا ہے یا نہیں؟ اس پر نبی ﷺ کے کچھ صحابہ ؓ کھڑے ہوگئے جنہوں نے حضرت علی ؓ کی تصدیق کی۔ پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ جس وقت نبی ﷺ کے پاس شتر مرغ کے پانچ انڈے لائے گئے، اس موقع پر موجود صحابہ کرام ؓ کو میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم محرم لوگ ہیں، یہ غیر محرم لوگوں کو کھلا دو؟ اس پر کچھ صحابہ کرام ؓ کھڑے ہوگئے، یہ دیکھ کر حضرت عثمان ؓ دستر خوان سے اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور وہ کھانا اہل ماء ہی نے کھالیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَنَّا أَنْزَيْنَا الْحُمُرَ عَلَى خَيْلِنَا فَجَاءَتْنَا بِمِثْلِ هَذِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر چڑھا دیں اور ایسا جانور پیدا ہوجائے تو کیسا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الْوَتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوَتْرَ
حضرت علی ؓ فرماتے کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ہے اور اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبِي إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ مَوْلَاهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ اعْتَمَرْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَانِ عُمَرَ أَوْ زَمَانِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَزَلَ عَلَى أُخْتِهِ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ رَجَعَ فَسُكِبَ لَهُ غُسْلٌ فَاغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالُوا يَا أَبَا حَسَنٍ جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرٍ نُحِبُّ أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ قَالَ أَظُنُّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يُحَدِّثُكُمْ أَنَّهُ كَانَ أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا أَجَلْ عَنْ ذَلِكَ جِئْنَا نَسْأَلُكَ قَالَ أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ خلافت فاروقی یا خلافت عثمانی میں مجھے حضرت علی ؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، اس دوران وہ اپنی ہمشیرہ حضرت ام ہانی ؓ کے یہاں اترے، جب عمرہ سے فارغ ہوگئے تو ان کے یہاں واپس آئے، ان کے غسل کے لئے پانی رکھ دیا گیا، انہوں نے غسل کیا، ابھی غسل کرکے فارغ ہوئے تھے کہ اہل عراق کا ایک وفد آگیا، وہ لوگ کہنے لگے کہ اے ابوالحسن! ہم آپ کے پاس ایک سوال لے کر آئے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمیں اس کے متعلق کچھ بتائیں؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے آپ لوگوں سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے سب سے قریب العہد ہیں، انہوں نے کہا بالکل ٹھیک، ہم اسی کے متعلق آپ سے پوچھنے آئے ہیں، فرمایا نبی ﷺ کے سب سے زیادہ قریب العہد قثم بن عباس ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُتَيْبَةُ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، انہوں نے ترکہ میں دو دینار یا دو درہم چھوڑے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں جن سے داغاجائے گا، تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود پڑھ لو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص جھوٹاخواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی ﷺ کی زبان مبارک سے میرے کانوں نے سنی اور میرے دل دماغ نے اسے محفوظ کیا کہ تمام لوگ قریش کے تابع ہیں، نیک لوگ نیکوں کے تابع اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ قَالَ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب (رح) سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ جانور جس کا نصف یا اس سے سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بِكْرٍ فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ فَجَاءَهُ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ ثُمَّ قَالَ إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ میرے غریب خانے پر تشریف لائے، میں سو رہا تھا، اتنی دیر میں حسن یا حسین کو پیاس لگی، نبی ﷺ ہماری ایک بکری کی طرف بڑھے جو بہت کم دودھ دیتی تھی، نبی ﷺ نے اس کا دودھ دوہا تو وہ بہت زیادہ نکلا، حضرت حسن ؓ ان کے پاس چلے گئے، نبی ﷺ نے انہیں ایک طرف بٹھا لیا، حضرت فاطمہ ؓ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے؟ فرمایا یہ بات نہیں ہے، اصل میں اس نے پہلے مانگا تھا، پھر فرمایا کہ قیامت کے دن میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا حُدَيْجٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ فَقَالَ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت گھر سے نکلا جب چاند طلوع ہوچکا تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بڑے پیالے کا شگاف ہو اور فرمایا آج کی رات شب قدر ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنْ النَّارِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے، بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی ﷺ کو دیکھ کر کیا ہے اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الرَّأْسِ عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ هَدِبَ الْأَشْفَارِ قَالَ حَسَنٌ الشِّفَارِ مُشْرَبَ الْعَيْنَيْنِ بِحُمْرَةٍ كَثَّ اللِّحْيَةِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ قَالَ حَسَنٌ تَكَفَّأَ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک بڑا، آنکھیں موٹی موٹی، پلکیں لمبی لمبی، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے، گھنی داڑھی، کھلتا ہوا رنگ اور ہاتھ پاؤں بھرے ہوئے تھے اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ ﷺ کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں اور جب نبی ﷺ کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ وَقَالَ لِي هُوَ اسْمِي وَكُنْيَتِي حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْخِمْسِ حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحَبَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ وَتَمَسَّحَ وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ صحن کوفہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور جو اللہ نے چاہا سو انہوں نے کہا، اس کے بعد پانی کا ایک برتن منگوایا، اس میں سے کلی کی، کچھ پانی مسح کے طور پر اپنے جسم کے اعضاء وضو پر پھیرلیا اور باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پی لیا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہ ہو اور میں نے نبی ﷺ کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقٍ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ الْوَحْيِ أَوْ قَالَ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ
طارق بن شہاب (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ بخدا! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں یا پھر یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار سے لٹکا ہوا ہے، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے، مذکورہ صحیفہ حضرت علی ؓ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لو ہے کے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ عَلِيًّا قِيلَ لَهُ إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ لِيَدْخُلْ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، حضرت علی ؓ نے پوچھا کون ہے؟ ) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے؟ فرمایا اسے اندر آنے دو، زبیر کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔