Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 36 of 1,321

701Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ اسْتَخْلَفْتُ أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کو امیر بناتا تو ابن ام عبد یعنی حضرت ابن مسعود ؓ کو بناتا۔

702Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَرَجَعَتْ قَالَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا قَالَ فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ فَقَالَ مَكَانَكُمَا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ ؓ نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ آٹا پیس پیس کر ہاتھوں میں نشان پڑگئے ہیں، اس دوران نبی ﷺ کے پاس کہیں سے کچھ قیدی آئے، حضرت فاطمہ ؓ کو پتہ چلا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک خادم کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ سلم نہ ملے، چناچہ وہ واپس آگئیں۔ رات کو جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے تو نبی ﷺ تشریف لائے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ رہو، یہ کہہ کر نبی ﷺ ہمارے پاس بیٹھ گئے، حتی کہ میں نے آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی اور فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو؟ جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔

703Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ

حضرت علی ؓ کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے رفیق ابو الھیاج اسدی کو مخاطب کر کے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لئے بھیج رہا ہوں، جس کام کے لئے مجھے نبی ﷺ نے بھیجا تھا، انہوں نے مجھے ہر قبر کو برابر کرنے اور ہر بت کو مٹا ڈالنے کا حکم دیا تھا۔

704Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو سورت الاعلی بہت محبوب تھی۔

705Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَتْ لِي مِائَةُ دِينَارٍ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَقَالَ الْآخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ لِي عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَتَصَدَّقْتُ مِنْهَا بِدِينَارٍ وَقَالَ الْآخَرُ كَانَ لِي دِينَارٌ فَتَصَدَّقْتُ بِعُشْرِهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ كُلُّكُمْ تَصَدَّقَ بِعُشْرِ مَالِهِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ تین آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں سے ایک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس سو دینار تھے جن میں سے میں نے دس دینار صدقہ کر دئیے، دوسرے نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس دس دینار تھے، میں نے ان میں سے ایک دینار صدقہ کردیا اور تیسرے نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک دینار تھا، میں نے اس کا دسواں حصہ صدقہ کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم سب کو برابر اجر ملے گا اس لئے کہ تم سب نے اپنے مال کا دسواں حصہ صدقہ کیا ہے۔

706Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَمِسْعَرٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے اور ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے۔

707Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ إِلَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَكَلَّمْ حَتَّى تَسْمَعَ مِنْ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنْ الْأَوَّلِ

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا جب تمہارے پاس دو فریق آئیں تو صرف کسی ایک کی بات سن کر فیصلہ نہ کرنا بلکہ دونوں کی بات سننا۔

708Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ ضَخْمُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبٌ وَجْهُهُ حُمْرَةً طَوِيلُ الْمَسْرُبَةِ ضَخْمُ الْكَرَادِيسِ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت زیادہ چھوٹے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، ہتھیلیاں اور پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ مبارک میں سرخی کی آمیزش تھی، سینے سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک لمبی دھاری تھی، ہڈیوں کے جوڑ بہت مضبوط تھے، چلتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے تھے، ایسا محسوس ہوتا تھا گویا کہ کسی گھاٹی سے اتر رہے ہیں، میں نے ان سے پہلے یا ان کے بعد ان جیسا کوئی نہ دیکھا، ﷺ۔

709Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَهْدَى كِسْرَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَى لَهُ قَيْصَرُ فَقَبِلَ مِنْهُ وَأَهْدَتْ لَهُ الْمُلُوكُ فَقَبِلَ مِنْهُمْ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسری نے نبی ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا، آپ ﷺ نے قبول فرما لیا اسی طرح قیصر نے ہدیہ بھیجا تو وہ بھی قبول فرما لیا اور دیگر بادشاہوں نے بھییجا تو وہ بھی قبول فرما لیا۔

710Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ سَلْ عَلِيًّا فَإِنَّهُ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے موزوں پر مسح کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک سوال پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ سوال تم حضرت علی ؓ سے پوچھو انہیں اس مسئلے کا زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ سفر میں بھی رہتے تھے، چناچہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسافر کے لئے تین دن اور تین رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت ہے اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

711Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبًا بِيَمِينِهِ وَحَرِيرًا بِشِمَالِهِ ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ فَقَالَ هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور بائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور دونوں ہاتھوں کو بلند کر کے فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔

712Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول ﷺ وتر کے آخر میں یوں فرماتے تھے کہ اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتاہوں، تیری درگذر کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کا احاطہ نہیں کرسکتا، تو اسی طرح ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔

713Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْهَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْقُرْآنِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص مغرب اور عشاء کے درمیان تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے۔

714Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ يَعْجَبُ الرَّبُّ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَيَقُولُ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِي

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کو دیکھا کہ ان کے پاس سواری کے لئے ایک جانور لیا گیا، جب انہوں نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا تو بسم اللہ کہا، جب اس پر بیٹھ گئے تو یہ دعاء پڑھی کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارا تابع فرمان بنادیا، ہم تو اسے اپنے تابع نہیں کرسکتے تھے اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، پھر تین مرتبہ الحمدللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر فرمایا اے اللہ! آپ پاک ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے معاف فرما دیجئے، پھر مسکرا دئیے۔ میں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! اس موقع پر مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا جیسے میں نے کیا اور نبی ﷺ بھی مسکرائے تھے اور میں نے بھی ان سے اس کی وجہ پوچھی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ پروردگار! مجھے معاف فرما دے تو پروردگار کو خوشی ہوتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے علاوہ اس کے گناہ کوئی معاف نہیں کرسکتا۔

715Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَتَعُودُ الْحَسَنَ وَفِي نَفْسِكَ مَا فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبِّي فَتَصْرِفَ قَلْبِي حَيْثُ شِئْتَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لَا يَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ النَّصِيحَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاهُ إِلَّا ابْتَعَثَ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ مِنْ أَيِّ سَاعَاتِ النَّهَارِ كَانَ حَتَّى يُمْسِيَ وَمِنْ أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ كَانَ حَتَّى يُصْبِحَ قَالَ لَهُ عَمْرٌو وَكَيْفَ تَقُولُ فِي الْمَشْيِ مَعَ الْجِنَازَةِ بَيْنَ يَدَيْهَا أَوْ خَلْفَهَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ فَضْلَ الْمَشْيِ مِنْ خَلْفِهَا عَلَى بَيْنِ يَدَيْهَا كَفَضْلِ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى الْوَحْدَةِ قَالَ عَمْرٌو فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمْشِيَانِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُمَا إِنَّمَا كَرِهَا أَنْ يُحْرِجَا النَّاسَ

عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عمرو بن حریث حضرت امام حسن ؓ کی عیادت کے لئے آئے، حضرت علی ؓ نے ان سے فرمایا یوں تو آپ حسن کی بیمار پرسی کے لئے آئے ہیں اور اپنے دل میں جو کچھ چھپا رکھا ہے اس کا کیا ہوگا؟ عمرو نے کہا کہ آپ میرے رب نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں میرے دل میں تصرف کرنا شروع کردیں حضرت علی ؓ نے فرمایا لیکن اس کے باوجود ہم تم سے نصیحت کی بات کہنے سے نہیں رکیں گے، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو شام تک دن کے ہر لمحے میں اس کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر شام کو گیا ہو تو صبح تک رات کی ہر گھڑی اس کے لئے دعاء کرتے رہتے ہیں۔ عمرو بن حریث نے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جنازے کے آگے چلنا چاہئے یا پیچھے؟ فرمایا کہ آگے چلنے پر پیچھے چلنا اسی طرح افضل ہے جیسے فرض نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت تنہا پڑھنے پر ہے، عمرو نے کہا کہ میں نے تو خود حضرت صدیق اکبر ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے؟ فرمایا وہ دونوں لوگوں کو اپنی وجہ سے تنگی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

716Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً سِيَرَاءَ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قَالَ فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی ﷺ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا، لیکن جب نبی ﷺ کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کردیا۔

717Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ إِنَّكَ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ

عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی ؓ اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے، ایک مرتبہ حضرت عثمان ؓ نے ان سے کچھ کہا ہوگا تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے پھر بھی اس سے روکتے ہیں؟ حضرت عثمان ؓ نے فرمایا بات تو ٹھیک ہے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں)۔

718Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّضِيعِ يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ قَالَ قَتَادَةُ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا الطَّعَامَ فَإِذَا طَعِمَا غُسِلَا جَمِيعًا

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے شیر خوار بچے کے متعلق ارشاد فرمایا بچے کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے مارنا بھی کافی ہے اور بچی کا پیشاب جس چیز پر لگ جائے اسے دھویا جائے گا، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تک ہے جب انہوں نے کھانا پینا شروع نہ کیا ہو اور جب وہ کھانا پینا شروع کردیں تو دونوں کا پیشاب جس چیز کو لگ جائے اسے دھونا ہی پڑے گا۔

719Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّى يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَحَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لے آئے، اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس نے مجھے برحق نبی بنا کر بھیجا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے اور تقدیر پر ایمان رکھے۔

720Musnad Imam Ahmad

حضرت علی (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَوَارِهِ فَقَالَ إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا فَقَالَ اذْهَبْ فَوَارِهِ قَالَ فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي اغْتَسِلْ

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں خواجہ ابو طالب کی وفات کی خبر دی، نبی ﷺ نے فرمایا جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، حضرت علی ؓ نے عرض کیا کہ وہ تو شرک کی حالت میں مرے ہیں (میں کیسے ان کو قبر میں اتاروں؟ ) نبی ﷺ نے پھر یہی فرمایا کہ جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپادو، جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی ﷺ کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ جاکر غسل کرو۔