حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُجَالِدٍ حَدَّثَنِي عَامِرٌ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَالْحَالَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے، سودخور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ قَالَ قُلْتُ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ سَيَهْدِي لِسَانَكَ وَيُثَبِّتُ قَلْبَكَ قَالَ فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ بَعْدُ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعا کوئی علم نہیں ہے؟ فرمایا اللہ تمہارے زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي قَالَ مَا قُلْتَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ فَقَالَ مَا قُلْتَ قَالَ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اشْفِهِ قَالَ فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ شَاكِيًا فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ عَافِهِ اللَّهُمَّ اشْفِهِ فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا میرے پاس سے گزر ہوا، میں اس وقت بیمار تھا اور یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطاء فرما اور مجھے اپنے پاس بلالے، اگر اس میں دیر ہو تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہو تو مجھے صبر عطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے اپنی بات پھر دہرادی، نبی ﷺ نے مجھے پاؤں سے ٹھوکر ماری یعنی غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا کیا کہہ رہے ہو؟ میں نے پھر اپنی بات دہرادی، نبی ﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ! اسے عافیت اور شفاء عطاء فرما، حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے وہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی۔ گذشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مذکور ہے جو عبارت میں گذری۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَرَجُلَانِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَأْكُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ وَلَا يَحْجِزُهُ وَرُبَّمَا قَالَ يَحْجُبُهُ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے ساتھ حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ فرمانے لگے کہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے بعد وضو کئے بغیر باہر تشریف لاکر قرآن کریم کی تلاوت شروع کردیتے، آپ ﷺ ہمارے ساتھ گوشت بھی تناول فرما لیا کرتے تھے اور آپ ﷺ کو جنابت کے علاوہ کوئی چیز قرآن سے نہیں روکتی تھی۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے بہترین عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور بہترین عورت حضرت خدیجہ ؓ ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحْبَةِ وَهُوَ يَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے صحن مسجد میں حضرت علی ؓ کو لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ غدیر خم کے موقع پر نبی ﷺ کی خدمت میں کون حاضر تھا اور کس نے نبی ﷺ کا فرمان سنا تھا؟ اس پر تیرہ آدمی کھڑے ہوگئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ إِنَّهُ مِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! نبی ﷺ نے مجھ سے یہ بات ذکر فرمائی تھی کہ مجھ سے بغض کوئی منافق ہی کرسکتا ہے اور مجھ سے محبت کوئی مومن ہی کرسکتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَنْبَأَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفُ الْإِذْخِرِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کے جہیز میں روئیں دار کپڑے، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ الْمَدَائِنِيُّ عَنْ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ وَصَعِدَ عَلَى مَنْكِبَيَّ فَذَهَبْتُ لِأَنْهَضَ بِهِ فَرَأَى مِنِّي ضَعْفًا فَنَزَلَ وَجَلَسَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبَيَّ قَالَ فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ قَالَ فَنَهَضَ بِي قَالَ فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ لَنِلْتُ أُفُقَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدْتُ عَلَى الْبَيْتِ وَعَلَيْهِ تِمْثَالُ صُفْرٍ أَوْ نُحَاسٍ فَجَعَلْتُ أُزَاوِلُهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ حَتَّى إِذَا اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْذِفْ بِهِ فَقَذَفْتُ بِهِ فَتَكَسَّرَ كَمَا تَتَكَسَّرُ الْقَوَارِيرُ ثُمَّ نَزَلْتُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَبِقُ حَتَّى تَوَارَيْنَا بِالْبُيُوتِ خَشْيَةَ أَنْ يَلْقَانَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہوا، ہم خانہ کعبہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ نے مجھ سے بیٹھنے کے لئے فرمایا اور خود میرے کندھوں پر چڑھ گئے، میں نے کھڑا ہونا چاہا لیکن نہ ہوسکا، نبی ﷺ نے جب مجھ میں کمزوری کے آثار دیکھے تو نیچے اتر آئے، خود بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ، چناچہ میں نبی ﷺ کے کندھوں پر سوار ہوگیا اور نبی ﷺ مجھے لے کر کھڑے ہوگئے۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر میں چاہوں تو افق کو چھولوں، بہرحال! میں بیت اللہ پر چڑھ گیا، وہاں پیتل تانبے کی ایک مورتی نظر آئی، میں اسے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے دھکیلنے لگا، جب میں اس پر قادر ہوگیا تو نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اسے نیچے پھینک دو، چناچہ میں نے اسے نیچے پٹخ دیا اور وہ شیشے کی طرح چکنا چور ہوگئی، پھر میں نیچے اتر آیا۔ پھر میں اور نبی ﷺ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے تیزی سے روانہ ہوگئے یہاں تک کہ گھروں میں جا کر چھپ گئے، ہمیں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں کوئی آدمی نہ مل جائے۔
حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا يَاسِينُ الْعِجْلِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مہدی کا تعلق ہم اہل بیت سے ہوگا، اللہ اسے ایک ہی رات میں سنوار دے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَاضِي الرَّيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سَمِعْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالْعَبَّاسُ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَبِرَ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَكَثُرَتْ مُؤْنَتِي فَإِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَأْمُرَ لِي بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْتَ لِعَمِّكَ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَعْطَيْتَنِي أَرْضًا كَانَتْ مَعِيشَتِي مِنْهَا ثُمَّ قَبَضْتَهَا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَرُدَّهَا عَلَيَّ فَقَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْمُرَ لِي كَمَا أَمَرْت لِعَمِّكَ فَافْعَلْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ نَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُوَلِّيَنِي هَذَا الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَهُ اللَّهُ لَنَا فِي كِتَابِهِ مِنْ هَذَا الْخُمُسِ فَأَقْسِمُهُ فِي حَيَاتِكَ كَيْ لَا يُنَازِعَنِيهِ أَحَدٌ بَعْدَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْعَلُ ذَاكَ فَوَلَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُهُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ وَلَّانِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَمْتُ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى كَانَتْ آخِرُ سَنَةٍ مِنْ سِنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ أَتَاهُ مَالٌ كَثِيرٌ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں، فاطمہ ؓ، حضرت عباس اور حضرت زید بن حارثہ ؓ بھی موجود تھے، حضرت عباس ؓ کہنے لگے یا رسول اللہ! میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور میری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں، اگر آپ مجھے اتنے من غلہ اور گندم دے دیں تو میرا کام بن جائے گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اچھا دے دیں گے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر مناسب سمجھیں تو آپ نے اپنے چچا کے لئے جو حکم دیا ہے وہ ہمارے لئے بھی دے دیں، نبی ﷺ نے فرمایا: اچھا دے دیں گے، پھر حضرت زید بن حارثہ کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ نے مجھے زمین کا ایک ٹکڑا عطاء فرمایا تھا جس سے میری گذراوقات ہوجاتی تھی، لیکن پھر آپ نے وہ زمین واپس لے لی، اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو وہ مجھے واپس کردیں فرمایا اچھا کردیں گے۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ نے قرآن کریم میں ہمارے لئے خمس کا جو حق مقرر فرمایا ہے، اگر آپ مناسب خیال فرمائیں تو مجھے اس کا نگران بنا دیجئے تاکہ میں آپ کی حیات طیبہ میں اسے تقسیم کیا کروں اور آپ کے بعد کوئی شخص اس میں مجھ سے جھگڑا نہ کرسکے؟ نبی ﷺ نے فرمایا اچھا بنادیں گے۔ چناچہ نبی ﷺ نے مجھے اس کا نگران بنادیا اور میں نبی ﷺ کی حیات میں اسے تقسیم کرتا رہا، حضرت ابوبکر ؓ نے بھی اپنے زمانے میں مجھے اس کی نگرانی پر برقرار رکھا اور میں ان کی حیات میں بھی اسے تقسیم کرتا رہا اور حضرت عمر ؓ نے بھی مجھے اس پر برقرار رکھا اور میں اسے تقسیم کرتا رہا لیکن جب حضرت عمر فاروق ؓ کا آخری سال تھا تو اس کی نگرانی مجھ سے لے لی گئی، اس وقت ان کے پاس بہت مال آیا تھا۔ ( اور وہ مختلف طریقہ اختیار کرنا چاہتے تھے)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَتْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنْ الْخَلَائِقِ إِنِّي كُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَنَحْنَحَ وَإِنِّي جِئْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا حَسَنٍ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَيَّ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ قَالَ لَا قُلْتُ فَمَا لَكَ لَا تُكَلِّمُنِي فِيمَا مَضَى حَتَّى كَلَّمْتَنِي اللَّيْلَةَ قَالَ سَمِعْتُ فِي الْحُجْرَةِ حَرَكَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَنَا جِبْرِيلُ قُلْتُ ادْخُلْ قَالَ لَا اخْرُجْ إِلَيَّ فَلَمَّا خَرَجْتُ قَالَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا لَا يَدْخُلُهُ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهِ قُلْتُ مَا أَعْلَمُهُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ فَفَتَحْتُ الْبَيْتَ فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَ جَرْوِ كَلْبٍ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ الْحَسَنُ قُلْتُ مَا وَجَدْتُ إِلَّا جَرْوًا قَالَ إِنَّهَا ثَلَاثٌ لَنْ يَلِجَ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهَا أَبَدًا وَاحِدٌ مِنْهَا كَلْبٌ أَوْ جَنَابَةٌ أَوْ صُورَةُ رُوحٍ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری کا شرف مجھے ایک ایسے وقت میں حاصل ہوتا تھا جو مخلوق میں میرے علاوہ کسی کو حاصل نہ ہوسکا، میں روزانہ سحری کے وقت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور سلام کرتا تھا نبی ﷺ کھانس کر مجھے اندر آنے کی اجازت عطاء فرما دیتے۔ ایک مرتبہ میں رات کے وقت نبی ﷺ کے پاس پہنچا اور حسب عادت سلام کرتے ہوئے کہا السلام علیک یا نبی اللہ آپ ﷺ نے فرمایا ابوالحسن! رکو، میں خود ہی باہر آرہا ہوں، جب نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے؟ فرمایا نہیں میں نے پوچھا تو پھر کل گذشتہ رات آپ نے مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کی؟ فرمایا مجھے اپنے حجرے میں کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی، میں نے پوچھا کون ہے؟ آواز آئی کہ میں جبرئیل ہوں، میں نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا تو وہ کہنے لگے نہیں، آپ ہی باہر تشریف لے آئیے۔ جب میں باہر آیا تو وہ کہنے لگے کہ آپ کے گھر میں ایک ایسی چیز ہے کہ وہ جب تک گھر میں رہے گی، کوئی فرشتہ بھی گھر میں داخل نہ ہوگا، میں نے کہا کہ جبرئیل! مجھے تو ایسی کسی چیز کا علم نہیں ہے، وہ کہنے لگے کہ جا کر اچھی طرح دیکھئے، میں نے گھر کھول کر دیکھا تو وہاں کتے کے ایک چھوٹے سے بچے کے علاوہ مجھے کوئی اور چیز نہیں ملی جس سے حسن کھیل رہے تھے چناچہ میں نے آکر ان سے یہی کہا کہ مجھے تو کتے کے ایک چھوٹے سے پلے کے علاوہ کچھ نہیں ملا، اس پر انہوں نے کہا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو کسی گھر میں جب تک رہیں گی، اس وقت تک رحمت کا کوئی فرشتہ وہاں داخل نہ ہوگا، کتا، جنبی آدمی یا کسی جاندار کی تصویر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ فَنَادَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ قَالَ بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ قَالَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَمَدَّ يَدَهُ فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا
عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ حضرت علی ؓ کے ساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے حضرت علی ؓ کے وضو کی خدمت تھی، جب وہ صفین کی طرف جاتے ہوئے نینوی کے قریب پہنچے تو حضرت علی ؓ نے پکار کر فرمایا ابو عبداللہ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ، میں نے پوچھا کہ خیریت ہے؟ فرمایا میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہو رہی تھی، میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا، خیر تو ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں؟ فرمایا ایسی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیل اٹھ کر گئے ہیں، وہ کہہ رہے تھے کہ حسین کو فرات کے کنارے شہید کردیا جائے گا، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ہوں؟ میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھے قابو نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَنْبَأَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْكَاهِلِيُّ عَنْ الْخَضِرِ بْنِ الْقَوَّاسِ عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَاللَّهُ تَعَالَى أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمْ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَمَا عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ تَعَالَى أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ
ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں قرآن کریم کی وہ سب سے افضل آیت جو ہمیں نبی ﷺ نے بتائی تھی نہ بتاؤں؟ وہ آیت یہ ہے، مااصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر اور نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ علی! میں تمہارے سامنے اس کی تفسیر بیان کرتا ہوں، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں دنیا میں جو بیماری، تکلیف یا آزمائش پیش آتی ہے تو وہ تمہاری اپنی حرکتوں اور کرتوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہت کریم ہے کہ آخرت میں اس کی دوبارہ سزادے اور اللہ نے دنیا میں جس چیز سے درگذر فرمایا ہو، اس کے حلم سے یہ بعید ہے کہ وہ اپنے عفو سے رجوع کرلے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَإِسْرَائِيلُ وَأَبِي عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ قَالَ قُلْنَا أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَاهُنَا مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَاهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَأَبِي إِسْحَاقَ حِينَ حَدَّثَهُ يَا أَبَا إِسْحَاقَ يَسْوَى حَدِيثُكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ ذَهَبًا
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا تم اس طرح پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ہم نے عرض کیا آپ بتا دیجئے، ہم اپنی طاقت اور استطاعت کے بقدر اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، فرمایا کہ نبی ﷺ فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ ﷺ کھڑے ہو کردو رکعت نماز پڑھتے۔ پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتاجتنا کہ ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے اور ہر دو رکعتوں میں ملائکہ مقربین، انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی پیروی کرنے والے مسلمانوں اور مومنین کے لئے سلام کے کلمات کہتے (تشہد پڑھتے) اس اعتبار سے پورے دن میں نبی ﷺ کے نوافل کی یہ سولہ رکعتیں ہوئیں، لیکن ان پر دوام کرنے والے بہت کم ہیں، یہ حدیث بیان کر کے حبیب بن ابی ثابت نے کہا کہ اے ابو اسحاق! آپ کی یہ حدیث اس مسجد کے سونے سے بھرپور ہونے کے اعتبار سے برابر ہے۔ حدیث نمبر ٦٥٠ یہاں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَثَبَتَ الْوَتْرُ آخِرَ اللَّيْلِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ ﷺ رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْوَتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ مِثْلَ الصَّلَاةِ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نماز کی طرح قرآن کریم سے حتمی ثبوت نہیں رکھتے لیکن ان کا وجوب نبی ﷺ کی سنت سے ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَآخِرِهِ وَأَوْسَطِهِ فَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی، درمیانے اور آخری ہر حصے میں وتر پڑھ لیا کرتے تھے، تاہم آخر میں آپ ﷺ رات کے آخری حصے میں اس کی پابندی فرمانے لگے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن ہم لوگ نبی ﷺ کی پناہ میں آجاتے تھے، نبی ﷺ ہماری نسبت دشمن سے زیادہ قریب تھے اور اس دن نبی ﷺ نے سب سے زیادہ سخت جنگ کی تھی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَنَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَكُونُ بِالْبَادِيَةِ فَتَخْرُجُ مِنْ أَحَدِنَا الرُّوَيْحَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ وَقَالَ مَرَّةً فِي أَدْبَارِهِنَّ
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں یہ بتائیے کہ اگر ہم میں سے کسی کی ہوا خارج ہوجائے تو وہ کیا کرے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتے (اس لئے میں بھی تم سے بلاتکلف کہتا ہوں کہ ایسی صورت میں) اسے وضو کرلینا چاہیے اور یاد رکھو! عورت کے ساتھ اس کی دبر میں مباشرت نہ کرنا۔