Musnad Imam Ahmad

All 26,407 hadiths in order · Page 12 of 1,321

221Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنِي سَيَّارٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَصْرَانِيًّا يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ أَسْلَمَ فَأَرَادَ الْجِهَادَ فَقِيلَ لَهُ ابْدَأْ بِالْحَجِّ فَأَتَى الْأَشْعَرِيَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا فَفَعَلَ فَبَيْنَمَا هُوَ يُلَبِّي إِذْ مَرَّ يَزِيدُ بْنُ صُوحَانَ وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ فَسَمِعَهَا الصُّبَيُّ فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى عُمَرَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ قَالَ وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى يَقُولُ وُفِّقْتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ

حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک عیسائی آدمی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا، انہوں نے جہاد کا ارادہ کرلیا، اسی اثناء میں کسی نے کہا آپ پہلے حج کرلیں، پھر جہاد میں شرکت کریں۔ چناچہ وہ اشعری کے پاس آئے، انہوں نے صبی کو حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھ لینے کا حکم دیا، انہوں نے ایسا ہی کیا، وہ یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے پاس سے گذرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے یہ بات سن لی اور ان پر بہت بوجھ بنی، جب وہ حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا، حضرت عمر فاروق ؓ نے ان سے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہوگئی۔

222Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللَّيْلَةَ كَذَاكَ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ وَأَنَا مَعَهُ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول مبارک تھا کہ روزانہ رات کو حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس مسلمانوں کے معاملات میں مشورے کے لئے تشریف لے جاتے تھے، ایک مرتبہ میں بھی اس موقع پر موجود تھا۔

223Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَيَقُولُ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ

عبداللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو بوسہ دے رہے ہیں اور اس سے مخاطب ہو کر فرما رہے ہیں، میں جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے، کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان، لیکن میں تجھے پھر بھی بوسہ دے رہا ہوں، اگر میں نے نبی ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔

224Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّأَ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہوجائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! وضو کرلے اور سو جائے۔

225Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرْتَ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب رات آجائے اور دن چلاجائے اور سورج غروب ہوجائے تو تمہیں روزہ افطار کرلینا چاہیے، (مشرق اور مغرب مراد ہے )

226Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ الْمَعْنَى عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعُسْفَانَ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي قَالَ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أَبْزَى قَالَ وَمَا ابْنُ أَبْزَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى فَقَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَاضٍ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ

حضرت عامربن واثلہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عسفان نامی جگہ میں نافع بن عبدالحارث کی حضرت عمر فاروق ؓ سے ملاقات ہوئی، حضرت فاروق اعظم ؓ نے انہیں مکہ مکرمہ کا گورنر بنا رکھا تھا، حضرت عمر ؓ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اپنے پیچھے اپنا نائب کسے بنایا؟ انہوں نے کہا عبدالرحمن بن ابزی کو، حضرت عمر ؓ نے پوچھا ابن ابزی کون ہے؟ عرض کیا ہمارے موالی میں سے ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کہ تم ایک غلام کو اپنانائب بنا آئے؟ عرض کیا کہ وہ قرآن کریم کا قاری ہے، علم فرائض و وراثت کو جانتا ہے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تمہارے پیغمبر ﷺ اس کے متعلق فرما گئے ہیں کہ بیشک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو عزتیں عطاء فرمائے گا اور بہت سے لوگوں نیچے کر دے گا۔

227Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سُمَيْعٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ

ابوالبختری کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ سے فرمایا اپنا ہاتھ پھیلائیے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین ہیں، انہوں نے فرمایا میں اس شخص سے آگے نہیں بڑھ سکتا جسے نبی ﷺ نے ہماری امامت کا حکم دیا ہو اور وہ نبی ﷺ کے وصال تک ہماری امامت کرتے رہے ہوں۔

228Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ أَحَقُّ مِنْهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي بَيْنَ أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کے زیادہ حقدار تو ان لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگ تھے، نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انہوں نے مجھ سے غیر مناسب طریقے سے سوال کرنے یا مجھے بخیل قرار دینے میں مجھے اختیار دے دیا ہے، حالانکہ میں بخیل نہیں ہوں۔ فائدہ: مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے اہل صفہ کو کچھ نہیں دیا تو اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھا اور اگر دوسروں کو دیا ہے تو ان کی ضروریات کو سامنے رکھ کردیا۔

229Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ قَالَ نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا اگر کوئی آدمی اختیاری طور پر ناپاک ہوجائے تو کیا اسی حال میں سو سکتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں! نماز والا وضو کرلے اور سو جائے۔ گذشتہ روایت ایک دوسری سند سے بھی مذکور ہے جو عبارت میں گذر چکی۔

230Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ رَأَى ابْنُ عُمَرَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ هَذَا فَقَالَ سَعْدٌ نَعَمْ فَاجْتَمَعَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَإِنْ جَاءَ مِنْ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعَمْ وَإِنْ جَاءَ مِنْ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا مَا لَمْ يَخْلَعْهُمَا وَمَا يُوَقِّتُ لِذَلِكَ وَقْتًا فَحَدَّثْتُ بِهِ مَعْمَرًا فَقَالَ حَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے حضرت سعد بن مالک ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ آپ یہ بھی کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں! پھر وہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس اکٹھے ہوئے تو حضرت سعد ؓ نے کہا امیرالمومنین! ذرا ہمارے بھتیجے کو موزوں پر مسح کا مسئلہ بتادیجئے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ہم ماضی میں نبی ﷺ کے ساتھ اور اب بھی موزوں پر مسح کرتے ہیں، حضرت ابن عمر ؓ نے پوچھا کہ اگرچہ کوئی شخص پاخانہ یا پیشاب ہی کر کے آیا ہو؟ فرمایا ہاں! اگرچہ وہ پاخانہ یا پیشاب ہی کر کے آیا ہو، نافع کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابن عمر ؓ بھی موزوں پر مسح کرنے لگے اور اس وقت تک مسح کرتے رہے جب تک موزے اتار نہ لیتے اور اس کے لئے کسی وقت کی تعیین نہیں فرماتے تھے۔

231Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ صَرَفْتُ عِنْدَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرِقًا بِذَهَبٍ فَقَالَ أَنْظِرْنِي حَتَّى يَأْتِيَنَا خَازِنُنَا مِنْ الْغَابَةِ قَالَ فَسَمِعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ مِنْهُ صَرْفَهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ

حضرت مالک بن اوس بن الحدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت طلحہ ؓ سے سونے کے بدلے چاندی کا معاملہ طے کیا، حضرت طلحہ ؓ کہنے لگے کہ ذرا رکیے، ہمارا خازن غابہ سے آتا ہی ہوگا، یہ سن کر حضرت فاروق اعظم ؓ نے فرمایا نہیں! تم اس وقت تک ان سے جدا نہ ہوناجب تک کہ ان سے اپنی چیز وصول نہ کرلو، کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کی چاندی کے بدلے خریدوفروخت سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہے۔

232Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ لَمَّا ارْتَدَّ أَهْلُ الرِّدَّةِ فِي زَمَانِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُمَرُ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ يَا أَبَا بَكْرٍ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ

عبیداللہ بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر ؓ کے زمانے میں اہل عرب میں سے جو مرتد ہوسکتے تھے، سو ہوگئے تو حضرت عمر فاروق ؓ نے سیدنا صدیق اکبر ؓ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کرسکتے ہیں جبکہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جو شخص لاالہ الا اللہ کہہ لے، اس نے اپنی جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا، ہاں اگر اسلام کا کوئی حق ہو تو الگ بات ہے اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا؟ حضرت صدیق اکبر ؓ نے یہ سن کر فرمایا اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرتے ہیں، کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، بخدا! اگر انہوں نے ایک بکری کا بچہ جو یہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے بھی روکا تو میں ان سے قتال کروں گا، حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت صدیق اکبر ؓ کو اس معاملے میں شرح صدر کی دولت عطاء فرمادی ہے اور میں سمجھ گیا کہ ان کی رائے ہی برحق ہے۔

233Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كُنْتُ فِي رَكْبٍ أَسِيرُ فِي غَزَاةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَلَفْتُ فَقُلْتُ لَا وَأَبِي فَنَهَرَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي وَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں تھا، ایک موقع پر میں نے قسم کھاتے ہوئے کہا " لا وابی " تو پیچھے سے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ اپنے آباؤاجداد کے نام کی قسمیں مت کھایا کرو، میں نے دیکھا تو وہ نبی ﷺ تھے۔

234Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَحْلِفُ بِأَبِي فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنے آباؤاجداد کے نام کی قسمیں کھانے سے منع فرمایا ہے چناچہ اس کے بعد میں نے جان بوجھ کر یا نقل کے طور پر بھی ایسی قسم نہیں کھائی۔

235Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْحَرِيرِ فِي إِصْبَعَيْنِ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مردوں کے لئے دو انگلیوں کے برابر ریشم کی اجازت دی ہے۔

236Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَشْيَاءَ يُحَدِّثُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا هَكَذَا وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَرَأَيْتُ أَنَّهَا أَزْرَارُ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْنَا الطَّيَالِسَةَ

ابوعثمان کہتے ہیں کہ ہم حضرت عتبہ بن فرقد ؓ کے ساتھ تھے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کا ایک خط آگیا، جس میں لکھا تھا، جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں ریشمی لباس پہنتا ہے سوائے اتنی مقدار کے اور نبی ﷺ نے انگلی بلند کر کے دکھائی، اس کا آخرت میں ریشم کے حوالے سے کوئی حصہ نہیں۔

237Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِقْصَارُ النَّاسِ الصَّلَاةَ الْيَوْمَ وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ الَّذِينَ كَفَرُوا فَقَدْ ذَهَبَ ذَاكَ الْيَوْمَ فَقَالَ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ فَذَكَرَهُ

یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر فاروق ؓ سے پوچھا کہ قرآن کریم میں قصر کا جو حکم خوف کی حالت میں آیا ہے، اب تو ہر طرف امن وامان ہوگیا ہے تو کیا یہ حکم ختم ہوگیا؟ (اگر ایسا ہے تو پھر قرآن میں اب تک یہ آیت کیوں موجود ہے؟ ) تو حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا کہ مجھے بھی اسی طرح تعجب ہوا تھا جس طرح تمہیں ہوا ہے اور میں نے بھی نبی ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا یہ اللہ کی طرف سے صدقہ ہے جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے، لہٰذا اس کے صدقے اور مہربانی کو قبول کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے۔

238Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ

حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سب سے آخری آیت سود سے متعلق نازل ہوئی ہے، اس لئے نبی ﷺ کو اپنے وصال مبارک سے قبل اس کی مکمل وضاحت کا موقع نہیں مل سکا، اس لئے سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں ذرا بھی شک ہو اسے بھی چھوڑ دو۔

239Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میت کو اس کی قبر میں اس پر ہونے والے نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔

240Musnad Imam Ahmad

حضرت عمر فاروق (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میت کو اس کی قبر میں اس پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔