Musnad Imam Ahmad 8908

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

8908Musnad Imam Ahmad

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا نَقْتُلُهُنَّ فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا فَقُلْنَا مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا بَأْسَ صَيْدُ الْبَحْرِ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں؟ پھر ہم نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔