Musnad Imam Ahmad 4107

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

4107Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْحِ جَبَلٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي وَهُمْ نِيَامٌ قَالَ إِذْ مَرَّتْ بِهِ حَيَّةٌ فَاسْتَيْقَظْنَا وَهُوَ يَقُولُ مَنَعَهَا مِنْكُمْ الَّذِي مَنَعَكُمْ مِنْهَا وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا فَأَخَذْتُهَا وَهِيَ رَطْبَةٌ بِفِيهِ أَوْ فُوهُ رَطْبٌ بِهَا

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں تھے، نبی ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ سو رہے تھے، کہ اچانک نبی ﷺ کے قریب سے ایک سانپ گذرا، ہم بیدار ہوگئے اور نبی ﷺ نے فرمایا جس ذات نے تمہیں اس سے محفوظ رکھا، اسی نے اسے تم سے محفوظ رکھا اور نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی ﷺ کے منہ مبارک سے نکلتے ہی یاد کرلیا، ابھی وہ سورت نبی ﷺ کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی۔