Musnad Imam Ahmad 3422

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

3422Musnad Imam Ahmad

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ نَاسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِأَعْمَالِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَلَا يُؤَاخَذُ بِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَيُؤْخَذُ بِعَمَلِهِ الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ

حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔