Musnad Imam Ahmad 26214

حضرت انیسہ بنت خبیب کی حد یثیں

26214Musnad Imam Ahmad

حضرت انیسہ بنت خبیب کی حد یثیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ يُؤَذِّنَ أَحَدُهُمَا وَيَصْعَدَ الْآخَرُ فَنَأْخُذَهُ بِيَدِهِ وَنَقُولَ كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ

حضرت انیسہ " جو نبی کے ساتھ حج میں شریک تھیں " سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کردی۔