حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ سَمِعَاهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الزُّبَيْرِ رَجُلٌ شَدِيدٌ وَيَأْتِينِي الْمِسْكِينُ فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْضَخِي وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیرگھر میں لاتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔