ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ لَهُ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اندر آنے کی اجازت چاہی، نبی ﷺ نے فرمایا اسے اندر آنے کی اجازت دیدو، یہ اپنے قبیلے کا بہت برا آدمی ہے، جب وہ اندر آیا تو نبی ﷺ نے اس سے نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ نبی ﷺ کی نگاہوں میں اس کا کوئی مقام و مرتبہ ہے۔